قومی خبریں

کالکا جی ’جامع مسجد‘ معاملے میں عرضی گزار کو دہلی ہائی کورٹ کی پھٹکار، عدالت کا غلط استعمال نہ کرنے کی تنبیہ

دہلی ہائی کورٹ نے معاملے میں درخواست دائر کرنے والے پریت سنگھ کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ انہیں سماج میں کوئی اور پریشانی نہیں آتی۔ پینے کا پانی جیسے تمام مسائل ہیں، جن کے لیے آپ عدالت نہیں آتے۔

دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی
دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی 

دہلی کے ترکمان گیٹ علاقے میں درگاہ فیض الٰہی مسجد کے اطراف میں غیر قانونی قبضے سے متعلق تنازعہ ابھی ختم بھی نہیں ہوا تھا کہ اب کچھ اسی طرح کا معاملہ راجدھانی کے کالکا جی میں سامنے آیا ہے۔ جنوبی دہلی کے کالکاجی کی جامع مسجد اور مدرسہ ملت الاسلام کو لے کر دہلی ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے۔ عدالت نے معاملے کی سماعت کی لیکن فی الحال کوئی حکم جاری نہیں کیا ہے بلکہ اگلی سماعت کی تاریخ مقرر کر دی۔ دوران سماعت عدالت نے درخواست گزار کو خبردار کیا کہ عدالتی پلیٹ فارم کا غلط استعمال نہ کریں۔

Published: undefined

دہلی ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران درخواست گزار کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ آپ ہر دوسرے دن ایسی درخواستیں دائر کر رہے ہیں، عدالت کے پلیٹ فارم کا اس طرح غلط استعمال نہ کریں۔ ہائی کورٹ نے مزید کہا کہ آپ کو معاشرے میں ناجائز قبضہ کے طور پر صرف ایک ہی پریشانی نظر آتی ہے؟۔

Published: undefined

پریت سنگھ سروہی نام کے ایک شخص کی جانب سے دہلی ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ کالکاجی میں واقع جامع مسجد کا تقریباً ایک ہزار مربع میٹر حصہ سڑک اور فٹ پاتھ پر تجاوزات کرکے تعمیر کیا گیا ہے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ تعمیر نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ سرکاری اراضی پر بھی ناجائز قبضہ ہے۔

Published: undefined

ان الزامات کے حوالے سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی جس پر بدھ کے روزسماعت ہوئی۔ دوران سماعت عدالت نے درخواست گزار کو کڑی پھٹکار لگائی۔ دہلی ہائی کورٹ اس عرضی پراب 21 جنوری کو سماعت کرے گی۔ فی الحال عدالت نے معاملے کی سماعت کرنے کے دوران کوئی حکم جاری نہیں کیا۔ عدالت نے درخواست گزار سے کہا کہ انہیں معاشرے میں کوئی اور پریشانی نظر نہیں آتی۔ پینے کا پانی جیسے تمام مسائل ہیں، جن کے لیے آپ عدالت نہیں آتے۔ عدالت نے مزید کہا کہ ہمیں عدالت کے پلیٹ فارم کا اس طرح کے غلط استعمال کو روکنا ہوگا۔

Published: undefined

درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عدالت پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی)، دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے)، اور دہلی میونسپل کارپوریشن(ایم سی ڈی) کو مسجد کے ارد گرد کے علاقے کا فوری سروے اور حد بندی کرنے اور سرکاری زمین پرتمام غیر قانونی تجاوزات اور تعمیرات کو ہٹانے کی ہدایت کرے۔

Published: undefined

اس پورے معاملے میں کالکاجی جامع مسجد کمیٹی کے جنرل سیکرٹری شوکت علی مہدی نے تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ جان بوجھ کر ایسا ماحول بنانے اور تنازع کھڑا کرنے کے لئے ایسے الزامات لگا رہے ہیں۔ شوکت علی مہدی نے واضح طور پر کہا کہ مسجد اور مدرسہ مکمل طور پر قانونی ہیں اور ان پر لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined