عتیق احمد کا بیٹا آبان غمگین ماحول میں سپردِ خاک، بھائی عمر اور علی نے بھی جنازہ کو دیا کندھا
آبان کی 6 اگست کو سڑک حادثے میں موت ہو گئی تھی۔ وہ پریاگ راج سے جھانسی جا رہا تھا۔ اسی دوران جھانسی-کانپور ہائیوے پر اس کی کریٹا کار ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی اور جائے وقوع پر ہی وہ ہلاک ہو گیا۔

عتیق احمد کے بیٹے آبان کو پریاگ راج کے کساری مساری قبرستان میں آج شب سپردِ خاک کر دیا گیا۔ اس آخری رسومات میں شرکت کے لیے جیل میں بند اس کے بڑے بھائی عمر اور علی پیرول پر پریاگ راج پہنچے تھے۔ سخت پولیس سیکورٹی کے درمیان الگ الگ گاڑیوں سے قبرستان لائے گئے دونوں بھائیوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی، اور پھر چھوٹے بھائی کے جنازے کو کندھا دیتے ہوئے تدفین کے لیے قبر تک لے گئے۔ اس موقع پر ایک دیگر بھائی احزم بھی موجود تھے۔ طویل عرصہ کے بعد تینوں بھائی عمر، علی اور احزم ایک ساتھ دیکھنے کو ملے۔
قبرستان میں خاندان کے افراد پہلے ہی موجود تھے۔ نماز جنازہ کے بعد آبان کو والد عتیق احمد کی قبر کے پاس ہی دفن کیا گیا۔ آخری وداعی کے اس پورے عمل کے دوران دونوں بھائی پھوٹ پھوٹ کر روتے رہے، جس سے وہاں کا ماحول انتہائی غمگین ہو گیا۔ تدفین کی رسم مکمل ہونے کے بعد پولیس ٹیم انہیں اہل خانہ سے ملوا کر واپس لے گئی۔ اس دوران قبرستان کے آس پاس سیکورٹی کے پختہ انتظامات کیے گئے تھے۔ موقع پر تعینات پولیس کی کئی ٹیمیں اور انتظامی افسران پورے واقعے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ آبان کی 6 اگست کو سڑک حادثے میں موت ہو گئی تھی۔ وہ پریاگ راج سے جھانسی جا رہا تھا۔ اسی دوران جھانسی-کانپور ہائیوے پر اس کی کریٹا کار ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی۔ حادثہ اتنا شدید تھا کہ آبان اور اس کے دوست سونو کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ کار میں سوار 3 دیگر افراد زخمی ہوئے تھے۔ انہیں علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔
حادثہ کے بعد آبان کی لاش پریاگ راج لائی گئی، اور پھر اہل خانہ نے کساری مساری قبرستان میں اسے سپرد خاک کرنے کی تیاری شروع کر دی۔ اسی دوران عمر اور علی کو جنازے میں شرکت کے لیے پیرول ملی، جس کی وجہ سے 7 اگست کو آخری رسومات کا فیصلہ بدل کر 8 اگست کی شب تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ دراصل آبان کے بھائی عمر لکھنؤ جیل میں بند تھے۔ پیرول ملنے کے بعد انھیں پولیس سیکورٹی میں پریاگ راج لایا گیا۔ بھائی علی بھی پولیس سیکورٹی کے درمیان ہی قبرستان پہنچے۔
آبان کی موت کے بعد سے پورے خاندان میں سوگ کا ماحول دیکھنے کو ملا۔ رشتہ دار اور قریبی لوگ آخری وداعی کے لیے نم آنکھوں کے ساتھ قبرستان پہنچے۔ تدفین کی رسم مکمل ہونے کے بعد عمر اور علی نے خاندان کے افراد سے ملاقات کی۔ سبھی غم کے اس وقت میں ایک دوسرے کو ہمت بندھاتے ہوئے نظر آئے۔
