ایران نے جنگ میں امریکہ کو ہوئے نقصانات کے ثبوت پیش کیے، جنگی طیارہ کے ملبہ کی تصویریں جاری
تصویروں میں امریکی فضائیہ کے ’ایف-15 ای‘ اسٹرائیک ایگل کا ملبہ بھی شامل ہے۔ تصاویر میں طیارے کا اوپری کور اور اے سی ای ایس-2 اجیکشن سیٹ واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ نے صرف ایران میں تباہی نہیں مچائی ہے، بلکہ امریکہ کو بھی خاطر خواہ نقصان پہنچایا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے آج اس کے واضح ثبوت سامنے رکھ دیے ہیں۔ امریکہ-ایران جنگ میں تباہ ہونے والے طیاروں کے ملبے کی تصاویر جاری کی گئی ہیں، جس نے امریکہ کو ہوئے نقصانات کو پوری دنیا کے سامنے واضح کر دیا ہے۔ ان تصویروں میں امریکی فضائیہ کے ’ایف-15 ای‘ اسٹرائیک ایگل کا ملبہ بھی شامل ہے۔ تصاویر میں طیارے کا اوپری کور اور اے سی ای ایس-2 اجیکشن سیٹ واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے۔ تصاویر میں نظر آنے والے نشانات کی بنیاد پر اس ’ایف-15 ای‘ کی شناخت طیارہ نمبر3000-00 کے طور پر کی گئی ہے۔
یہ طیارہ ’ڈی یو ڈی ای 44‘ سے منسلک ہے، جسے اپریل کے آغاز میں ایران کے اوپر مار گرایا گیا تھا۔ ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل 3000-00 پہلے بھی خبروں میں رہا ہے۔ 24-2023 کی تعیناتی کے دوران اس طیارے نے ’اے آئی ایم-9 ایکس‘ سائیڈ وائنڈر میزائلوں سے کم از کم 9 ڈرون مار گرائے تھے۔ ایران کی جانب سے جاری تصاویر میں طیاروں کے ملبے کو زمین کے نیچے بنے کمروں میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔ ’ایف-15 ای‘ کے ساتھ ’ایم کیو-1‘ پریڈیٹر اور ’ایم کیو-9‘ ریپر ڈرونز کا ملبہ بھی نمائش میں رکھا گیا ہے۔ ایم کیو-1 کے نقصانات میں امریکی فوج کا ’ایم کیو-1 سی‘ گرے ایگل ورژن بھی شامل تھا۔
’ڈی یو ڈی ای 44‘ کا یہ ’ایف-15 ای‘ برطانیہ کے آر اے ایف لیکین ہیتھ میں موجود 48ویں فائٹر ونگ کا تھا۔ لیکین ہیتھ نے آپریشن ایپک فیوری کے لیے اپنے نصف سے زیادہ فعال جنگی طیارے بھیجے تھے، جن میں ’ایف-15 ای‘ اسٹرائیک ایگل اور ’ایف-35 اے‘ لائٹننگ-II شامل تھے۔ تصاویر میں ’اے سی ای ایس-II‘ اجیکشن سیٹ طیارے کے سب سے زیادہ محفوظ حصوں میں سے ایک دکھائی دیتی ہے۔ اس کے علاوہ نمائش میں اسرائیلی ہرمیز ڈرون کا ملبہ بھی رکھا گیا ہے۔ ان میں ہرمیز 900 کا سیریل نمبر 923 بھی شامل ہے، جسے مارچ میں اسلحوں سمیت مار گرایا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق اس میں ’سی-130‘ طیاروں کے ملبے بھی نمائش میں شامل ہو سکتے ہیں، حالانکہ تصاویر میں ان کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ ایران کے پاس قبضہ میں لیے گئے فوجی ساز و سامان اور ٹیکنالوجی کو عوامی طور پر نمائش کے لیے پیش کرنے کی ایک پرانی تاریخ رہی ہے۔ اس کی معروف مثال ’آر کیو-170‘ سینٹینل ہے، جسے ایران نے سائبر حملے کے ذریعہ زمین پر اتارنے کا دعویٰ کیا تھا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
