چھاتروں کی گونج: راہل گاندھی نے ’درد، ڈاٹا اور دولت‘ کا کیا ذکر، نوجوانوں سے کی سوشل میڈیا کے نشہ سے بچنے کی تلقین
راہل گاندھی نے کہا کہ تقریباً 40 کروڑ پُرجوش نوجوان ہندوستان میں رہتے ہیں، جن کی صلاحیت کے سامنے چین، امریکہ اور روس جیسے ممالک بھی کچھ نہیں ہیں۔
لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے آج پریاگ راج میں منعقدہ ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران مرکزی حکومت پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ مرکزی حکومت اور اس کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کا نوجوان آج بدحال ہیں، سسٹم نے انہیں ایک چکرویوہ میں پھنسا رکھا ہے۔ ملک کے نوجوانوں اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے تعلیمی نظام، بے روزگاری اور ڈاٹا کی طاقت پر کھل کر بات کی۔
اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ وہ بنیادی طور پر 3 چیزوں پر بات کرنا چاہتے ہیں... درد، ڈاٹا اور دولت۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ نوجوانوں کے درد اور ان کے ذریعے پیدا کیے جانے والے ڈاٹا کی بات کر رہے ہیں، لیکن آج اصل مسئلہ یہ ہے کہ جو دولت یا سرمایہ نوجوانوں کا ہونا چاہیے، وہ مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ان تک نہیں پہنچ رہا ہے۔
نوجوانوں کی تعریف کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’یہ آپ ہیں۔ آپ ہندوستان کی طاقت ہیں، ہندوستان کی شان ہیں، ہندوستان کی مضبوطی ہیں۔ میں بھیڑ کی بات نہیں کر رہا، ہر ایک شہری، ہر نوجوان کی بات کر رہا ہوں۔ آپ سب میں ذہانت، تخیل اور صلاحیت ہے۔ اگر یہ سسٹم آپ کو نہیں روکے گا، تو آپ کی طاقت پر ہی اس ملک کا مستقبل تعمیر ہوگا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے پاس دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادی ہے۔ تقریباً 40 کروڑ پُرجوش نوجوان اس ملک میں رہتے ہیں، جن کی صلاحیت کے سامنے چین، امریکہ اور روس جیسے ممالک بھی کچھ نہیں ہیں۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے 21ویں صدی کی ٹیکنالوجی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج کوئی بھی ملک 2 چیزوں کی طاقت پر ترقی کرتا ہے... پہلا، نوجوانوں کی صلاحیت اور دوسرا ہے ڈاٹا۔ ہندوستان کے پاس دنیا میں سب سے زیادہ ڈاٹا ہے، جہاں ایک ہندوستانی ہر روز تقریباً ایک گیگا بائٹ ڈاٹا استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مثال دیتے ہوئے سمجھایا کہ آپ کے ڈاٹا کے بغیر اے آئی کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ جیسے 20ویں صدی میں پٹرول کے بغیر پٹرول انجن کا کوئی کام نہیں تھا، اسی طرح آج ڈاٹا کے بغیر اے آئی نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ ڈاٹا ہندوستان کا سرمایہ اور اثاثہ ہے۔
مرکزی حکومت اور ملک کے موجودہ سسٹم پر سخت حملہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اگرچہ نوجوانوں کی صلاحیت ان کی اپنی ہے، لیکن آج کے سسٹم نے انہیں ایک چکرویوہ میں پھنسا رکھا ہے۔ تعلیم اور روزگار کے بحران پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’آپ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ آپ کے خاندانوں کی جیب سے لاکھوں، کروڑوں روپے نکالے جاتے ہیں۔ آپ انجینئرنگ، میڈیکل یا گریجویشن کرتے ہیں۔ اس کے بعد آپ کو ایک سرٹیفکیٹ تھما دیا جاتا ہے، چاہے وہ بی اے کا ہو، ایم اے کا ہو یا ایم ایس سی کا۔ لیکن آج ہندوستان میں اس سرٹیفکیٹ کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی، کیونکہ یہ آپ کو روزگار نہیں دے سکتا۔‘‘ راہل گاندھی نے ایک حیران کر دینے والے اعداد و شمار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج صورت حال یہ ہے کہ 1000 نوجوانوں میں سے صرف 12 نوجوانوں کو ہی پرائیویٹ ملازمت مل پاتی ہے، اور یہی آج کے دور کی سب سے بڑی تلخ حقیقت ہے۔
پریاگ راج کے پروگرام میں راہل گاندھی نے نوجوانوں کو درپیش سنگین بحرانوں پر بھی کھل کر بات کی۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ آج انسٹاگرام اور فیس بک ریلز دیکھنا ایک نئے طرح کا ’21ویں صدی کا نشہ‘ بن چکا ہے۔ پڑھائی اور لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود جب نوجوانوں کو ملازمت نہیں ملتی تو انہیں مجبوری میں ’بلنکٹ‘ اور ’اوبر‘ جیسی کمپنیوں میں 10-10 گھنٹے یومیہ مزدوروں کی طرح کام کرنا پڑتا ہے۔
پروگرام کے دوران ایک نوجوان نے اپنی درد بھری داستان بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اسے تعلیم کا خرچ اٹھانے اور امتحان کی تیاری کے لیے ’بلنکٹ‘ میں مزدوری کرنی پڑی، فوج کا امتحان دیا لیکن ایک نمبر سے رہ گیا۔ اس کے بعد پرچے لیک ہو جاتے ہیں اور پیسے والے لوگ امتحان کے پرچے خرید کر غریب محنت کش نوجوانوں کا مستقبل برباد کر دیتے ہیں۔ راہل گاندھی نے اس سسٹم پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آج کا نوجوان اسی حقیقت اور جدوجہد کا سامنا کر رہا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
