حوصلہ کے ساتھ ایک الگ مستقبل کی طرف گامزن... جی این دیوی
کیا ہندوستان یا دیگر ممالک میں جمہوریت کے اصولوں کو پھر سے حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والے شہری جیل جانے کا خوف چھوڑنے کو تیار ہیں؟

ایک طنز نگار نے جمہوریت کو ایک ایسی ’افواہ‘ قرار دیا ہے جسے اب تک غلط ثابت نہیں کیا جا سکا ہے۔ آج کے دور میں واقعی ایسا ہی ہے۔ چلی، روس، نائیجیریا، مصر، امریکہ اور یقیناً ہمارے اپنے ملک میں بھی کم و بیش یہی صورت حال ہے۔ پوری دنیا میں جمہوریت مخالف جذبات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ بائیں بازو کے مفکرین اسے کارپوریٹ کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ گاندھی وادی اسے بے لگام لالچ کا فطری نتیجہ سمجھتے ہیں۔ نو لبرل افراد کے لیے یہ تکنیکی اخلاقیات (’شفافیت‘ اور ’تیز رفتار ترقی‘) اور ’عوام پسند‘ معاشی مہمات کی طرف جھکے ہوئے سیاسی ڈھانچے کے درمیان کا تصادم ہے۔ ان کے علاوہ بھی تشریحات ہیں جو قوموں کی قیادت کرنے والے افراد کی بگڑی ہوئی شخصی خصوصیات کو نمایاں کرتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اتنے سارے ممالک میں ایک ساتھ جمہوریت کیوں ختم رہی ہے؟
ہسپانوی-امریکی فلسفی-شاعر جارج سانتایانا (1952-1863) نے کبھی کہا تھا کہ دنیا ’اخلاقی تعطیل پر‘ ہے۔ اسی انداز میں آج کے تناظر میں شاید یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ دنیا ’سیاسی تعطیل پر‘ دکھائی دیتی ہے۔ مثالی جمہوریت میں لوگوں کی خواہشات کی زیادہ سے زیادہ نمائندگی ہوتی ہے، لیکن اس مثالی صورت کو حقیقت میں بدلنے کے لیے بنائے گئے ادارہ جاتی طریقۂ کار مسلسل مثالی صورت سے پھسلتے رہتے ہیں۔ ہندوستان میں ہم نے ایس آئی آر کے عمل میں ایسا ہوتے دیکھا ہے، جو قوم کی تعمیر کرنے والوں پر ریاست کے ظلم کے طور پر سامنے آیا ہے۔ جیسے جیسے مثالی صورت اور اسے حاصل کرنے کے لیے بنائے گئے نظام کے درمیان فاصلہ بڑھتا جاتا ہے، نمائندگی کی جگہ آمرانہ غلبہ حاوی ہوتا جاتا ہے۔ عوام اور ان کے نمائندوں کے درمیان کھوکھلی رسمی کارروائیاں جگہ لے لیتی ہیں۔
یہ بات منطقی معلوم ہو سکتی ہے کہ اگر ان رسمی کارروائیوں کو بے نقاب کر دیا جائے، مسترد کر دیا جائے اور کسی طرح غیر متعلق بنا دیا جائے، تو معاشرے کو اس کے بنیادی نظام میں واپس لایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ دلیل غلط ہے، کیونکہ نمائندگی سے متعلق رسمی کارروائیوں پر حملے ان طریقۂ کار کے ساتھ ساتھ اس مثالی تصور کو بھی کمزور کر سکتے ہیں جسے حقیقت میں بدلنا ان کا کام ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جمہوری طریقۂ کار پر حملے خود جمہوریت کو زخمی کرتے ہیں، اور مثالی تصور کو دوبارہ حاصل کرنا صرف انحراف کو درست کرنے سے ممکن نہیں ہوگا، بلکہ بنیادی خیال کو دوبارہ قائم کر کے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ اس لیے، شہری معاشرے کو انحراف کو بے نقاب کرنے سے کہیں زیادہ کرنا ہوگا، اسے خواب کو دوبارہ واضح کرنا ہوگا۔ صرف منافقانہ رسمی کارروائیوں کو دور کرنے کی امید نہیں کرنی ہوگی بلکہ لوگوں کی نظر کو امیدوں کے نئے اور بلند افق تک اٹھانا ہوگا۔
یہ کام اس کام سے مختلف ہے جو مارکس نے اس طبقے کے سپرد کیا تھا جو معاشرے کا اہم شعور بننے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ حقیقت میں یہ کام کسی طبقے کے ذریعہ مکمل نہیں کیا جا سکتا؛ اسے صرف وہ افراد ہی مکمل کر سکتے ہیں جو کسی بھی طبقے سے وابستہ رہنے سے انکار کرتے ہیں۔ جمہوریت کی بحالی کے لیے ایسے عوامی دانشوروں کی ضرورت ہے جو خود کو طبقے، نسل، جنس اور سب سے بڑھ کر، روزمرہ کے واقعات کے فوری جوش و خروش سے باہر رکھ سکیں۔ آج ہمارے سامنے موجود چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے شہریوں کو اعلیٰ درجے کی اخلاقی جرأت اور بے خوفی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ جو لوگ جمہوریت کو قیمتی سمجھتے ہیں، انہیں یہ جاننا چاہیے کہ اس مثالی تصور کو زندہ رکھنے کے لیے کوئی بھی قیمت زیادہ نہیں۔
جب جنوبی افریقہ کے قانون میں یہ انتظام کیا گیا کہ تمام غیر عیسائی شادیاں غیر قانونی قرار دی جائیں گی، تو کستوربا آگے آئیں اور 15 ستمبر 1913 کو ٹرانسوال کی سرحد پار کرنے والے پہلے خواتین کے مزاحمتی گروپ کی قیادت کی۔ وہ جیل جانے سے نہیں ڈریں۔ ان کے بے خوف عزم کے باعث امتیازی قانون واپس لینا پڑا۔ کیا ہندوستان یا دیگر ممالک میں جمہوریت کے مثالی تصور کو دوبارہ حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والے شہری جیل جانے کے اپنے خوف کو ترک کرنے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم اپنی سیاسی تعطیل سے واپس آ سکتے ہیں، تاکہ نظام کو بے نقاب کیا جا سکے اور ہندوستان کو ان کھوکھلے طریقۂ کار سے آزاد کرایا جا سکے جنہوں نے اس کی جمہوریت کی جگہ لے لی ہے؟
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ اگر اسے دوبارہ زندہ بھی کر دیا جائے، تو ہماری جمہوریت اپنی پرانی حالت میں واپس نہیں لوٹ سکتی۔ ماضی کی سو فیصد نقل نہیں اتاری جا سکتی۔ اسے دنیا میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے تئیں حساس ہونے کی ضرورت ہے۔ انسانوں کو مصنوعی ذہانت اور ہمارے سیارے پر موجود غیر انسانی زندگی کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہوگا۔ ہمیں دنیا، سیارے اور یہاں تک کہ کائنات کے ایک اٹوٹ حصے کے طور پر جمہوریت پر دوبارہ غور کرنا چاہیے، جسے اب ’کاسمو-ڈیموکریسی‘ کے تصور کے طور پر بیان کیا جا رہا ہے۔ ہمارے لیے اکثریت، یا بالغوں، یا صرف انسانوں کے حقوق سے آگے بڑھ کر بھی حقوق کے بارے میں سوچنے کا وقت آ گیا ہے۔ ہمیں تمام حاشیے پر موجود برادریوں، تمام اقلیتوں، بچوں اور ہمارے لیے معلوم غیر انسانی زندگی کی شکلوں کے حقوق کا احترام اور تحفظ کرنے کے طریقے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک زیادہ جامع نقطۂ نظر کی ضرورت ہے جو ان تمام دنیاؤں کو سمو سکے جو مستقبل قریب میں وجود میں آ سکتی ہیں اور حقوق کے زیادہ جامع احساس کو جنم دے سکے۔
ہماری دنیا کو نئے وائرسز، ڈرامائی ماحولیاتی تبدیلیوں، مصنوعی ذہانت اور فطرت کے تئیں انسانی بے حسی، اپنے ساتھی انسانوں کی تکالیف کے اشاروں کے تئیں ہماری بے حسی سے کم خطرہ نہیں ہے۔ مستقبل قریب میں انسانوں کو جو جنگیں لڑنی ہیں، وہ بے مثال ہیں۔ دوسری صدی ہجری کے آغاز میں ہم نے جو جنگیں لڑیں، وہ زیادہ تر عقیدے پر مبنی ’صلیبی جنگیں‘ یا جہاد تھیں؛ انیسویں صدی میں، وہ نسل، زبان یا علاقائی دعوؤں پر مبنی قوم پرستانہ جنگیں تھیں؛ بیسویں صدی میں، وہ معاشی مفادات سے جڑے نظریات سے متاثر تھیں، خواہ وہ فاشزم، کمیونزم یا سرمایہ داری کے باعث ہوئی ہوں۔ موجودہ دور کے افق پر جو جنگیں دکھائی دے رہی ہیں، وہ ماحول کے لیے یا ماحول کے ساتھ، قدرتی ارتقا کی قوتوں کے ساتھ، غیر انسانی ذہانت کے ساتھ اور ایسی زندگی اور اشیا کے ساتھ ہوں گی جو مادے اور حرکت کے ایک مختلف ڈھانچے سے تعلق رکھتی ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ دنیا بھر کی حکومتوں کی ذہنیت پرانی دنیا والی ہے۔ وہ عقیدے پر مبنی تقسیم، علاقائی تنازعات اور تنگ قوم پرستی پر مرکوز انتہائی فرسودہ سیاسی نظریات کی اسیر ہیں۔ یہاں تک کہ ایک نئے عالمی نظام کے ظہور کے بارے میں بحثیں بھی پرانے معیاروں کی پیروی کرتی ہیں، اور آمرانہ حکومتوں کے مخالف لوگ کسی گزرے ہوئے دور کی خیالی آرزو میں ڈوبے دکھائی دیتے ہیں۔ ہمیں ایک مختلف مستقبل، جمہوریت کی ایک نئی شکل، حکومت کی ایسی شکل کا تصور کرنے کی ضرورت ہے جس میں تمام زندگی کی شکلوں، انسانوں کے ساتھ ساتھ انسان کی بنائی ہوئی ذہانت کی ایک عالمی برادری کا تصور کرنے کی حساسیت ہو۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔
(مضمون نگار جی. این. دیوی معروف ماہر لسانیات، ثقافتی کارکن اور مصنف ہیں)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
