قومی خبریں

’اسکل ڈیولپمنٹ‘ معاملہ میں چندرابابو نائیڈو کو بڑی راحت، ای ڈی نے دی کلین چٹ

آندھرا پردیش میں ’وائی ایس آر سی پی‘ کی قیادت والی حکومت کے دور میں پولیس نے 2023 میں ’اے پی ایس ایس ڈی سی‘ معاملے میں نائیڈو کو گرفتار کیا تھا اور انہوں نے جیل میں 50 سے زائد دن گزارے تھے

<div class="paragraphs"><p>چندرا بابو نائڈو فائل فوٹو / سوشل میڈیا</p></div>

چندرا بابو نائڈو فائل فوٹو / سوشل میڈیا

 

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے آندھرا پردیش اسٹیٹ اسکل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (اے پی ایس ایس ڈی سی) سیمنز پروجیکٹ معاملے میں ایک نئی چارج شیٹ داخل کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ کچھ ملزمان نے سرکاری فنڈ کو ڈائیورٹ کیا تھا، لیکن جرم کی کمائی کی منی لانڈرنگ میں وزیر اعلیٰ چندرا بابو نائیڈو کا کوئی کردار نہیں پایا گیا۔

Published: undefined

واضح رہے کہ گزشتہ ’وائی ایس آر سی پی‘ کی قیادت والی آندھرا پردیش حکومت کے وزیر اعلیٰ جگن موہن ریڈی نے ستمبر 2023 میں اس معاملے میں نائیڈو کو گرفتار کیا تھا، جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس منصوبہ میں بے ضابطگیوں کی وجہ سے ریاست کے خزنے کو 300 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ چندرا بابو نائیڈو نے راجامہیندرورم سنٹرل جیل میں 50 سے زائد دن گزارے تھے، اس کے بعد آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے انہیں 31 اکتوبر 2023 کو ضمانت دے دی تھی۔

Published: undefined

وجے واڑہ کی ایک مقامی عدالت نے بھی حال ہی میں ریاستی سی آئی ڈی کی جانب سے اس معاملے میں دائر کلوزر رپورٹ قبول کر لی اور نائیڈو کے خلاف تحقیقات بند کر دی۔ ای ڈی کا معاملہ سی آئی ڈی کی ایف آئی آر پر مبنی ہے۔ افسران کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے اپنی ضمنی چارج شیٹ میں کہا ہے کہ اس کی تحقیقات میں اس معاملے میں جرم کی کمائی کی لانڈرنگ میں نائیڈو کا کوئی کردار نہیں پایا گیا۔ اس لیے انہیں مذکورہ شکایت میں ملزم کے طور پر نامزد نہیں کیا گیا۔

Published: undefined

واضح رہے کہ ای ڈی نے ہفتہ (31 جنوری) کو جاری ایک بیان میں کہا کہ عدالت نے 28 جنوری کو اس نئی شکایت کا نوٹس لیا۔ اسکل ڈیولپمنٹ پروجیکٹ میں سینٹر آف ایکسیلنس (سی او ای ایس) کے کلسٹر قائم کرنا شامل تھا، جس کی کل پروجیکٹ لاگت 3300 کروڑ روپے تخمینہ کی گئی تھی۔ نئی چارج شیٹ ملزم کمپنی ڈیزائنٹیک سسٹمز پرائیویٹ لمیٹڈ (ڈی ٹی ایس پی ایل)، اس کے ایم ڈی وکاس کھانویلکر، سیمیز انڈسٹری سافٹ ویئر انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کے سابق ایم ڈی سومیادری شیکھر بوس عرف سمن بوس اور ان کے قریبی ساتھیوں مکل چندر اگروال، سریش گوئل اور کچھ دیگر کے خلاف نئی چارج شیٹ داخل کی گئی ہے۔

Published: undefined

ای ڈی نے بیان میں الزام عائد کیا کہ کھانویلکر، بوس، اگروال اور گوئل نے فرضی (شیل) اور بند کمپنیوں کی مدد سے ملٹی-لیئر ٹرانزیکشن کے ذریعے سرکاری فنڈ کو ڈائیورٹ کیا، سامان اور خدمات کی فراہمی کے بہانے فرضی انوائسز کی بنیاد پر فنڈز ہڑپ کر لیے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ فنڈز ڈائیورزن کے لیے انٹری فراہم کرنے والوں کی خدمات لی گئیں، جس کے بدلے انہیں کمیشن دیا گیا۔ ایجنسی کے مطابق ان چاروں کو ای ڈی نے 2023 میں گرفتار کیا تھا اور اس معاملہ میں منسلک جائیداد کی کل مالیت 54.74 کروڑ روپے ہے۔ افسران نے بتایا کہ جب تک کوئی نیا ثبوت سامنے نہیں آتا، یہ اس معاملے میں ای ڈی کی آخری چارج شیٹ ہے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ وجے واڑہ کورٹ کی جانب سے کیس بند کیے جانے کے بعد ’وائی ایس آر سی پی‘ کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر کے کنّابابو نے ٹی ڈی پی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ نائیڈو کے خلاف درج مقدمات میں تحقیقاتی ایجنسیوں کو متاثر کر رہی ہے اور منظم طریقے سے مقدموں کو بند کروا رہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ چندرا بابو نائیڈو کی ٹی ڈی پی، مرکز میں مودی حکومت کی قیادت والے این ڈی اے کی اتحادی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined