وزیراعظم مودی کی فرانس اور عمان سمیت کئی ممالک کے رہنماؤں سے بات چیت، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال
مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے درمیان وزیر اعظم مودی نے جمعرات کو عمان، فرانس، ملیشیا اور اردن کے رہنماؤں سے بات چیت کی۔ انہوں نے سفارت کاری اور علاقائی استحکام کے لیے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے درمیان وزیر اعظم مودی نے جمعرات کو عمان، فرانس، ملیشیا اور اردن کے رہنماؤں سے بات چیت کی۔ گفتگو کے دوران وزیر اعظم مودی نے سفارت کاری اور علاقائی استحکام کے لیے ہندوستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم نے عمان کے سلطان ہیثم بن طارق کے ساتھ ہوئی بات چیت سے متعلق ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’میں نے اپنے بھائی سلطان ہیثم بن طارق کے ساتھ ایک مفید گفتگو کی اور عمان کے عوام کو پیشگی عید کی مبارکباد دی۔ ہم اس بات پر متفق ہوئے کہ کشیدگی میں کمی اور بعد ازاں امن و استحکام کی بحالی کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ عمان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی ہندوستان کی مذمت کو دہرایا اور ہندوستانی شہریوں سمیت ہزاروں افراد کی بحفاظت واپسی میں عمان کی کوششوں کو سراہا۔ ہندوستان اور عمان آبنائے ہرمز کے ذریعے محفوظ اور آزادانہ بحری نقل و حمل کے حامی ہیں۔‘‘
وزیر اعظم مودی نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں سے بھی بات چیت کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’میں نے اپنے عزیز دوست صدر ایمانوئل میکروں سے مغربی ایشیا کی صورتحال اور کشیدگی میں فوری کمی کے ساتھ ساتھ مذاکرات اور سفارت کاری کی طرف واپسی کی ضرورت پر بات کی۔ ہم خطے اور اس سے آگے امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے اپنی قریبی ہم آہنگی جاری رکھنے کے منتظر ہیں۔‘‘
نریندر مودی نے ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم سے بھی بات کی۔ انہوں نے اس گفتگو کے تعلق سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’میں نے اپنے دوست ملیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم سے بات کی، انہیں اور ملیشیا کے عوام کو آنے والے تہوار ہری رایا عیدالفطر کی دلی مبارکباد دی۔ ہم نے مغربی ایشیا کی انتہائی تشویشناک صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا، مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی میں کمی اور امن و استحکام کی جلد بحالی کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔‘‘
ہندوستانی وزیر اعظم مودی نے اردن کے بادشاہ سے بھی بات چیت کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’میں نے اپنے بھائی اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم کو فون پر پیشگی عید کی مبارکباد دی۔ ہم نے مغربی ایشیا میں بدلتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کی جلد بحالی کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا۔ مغربی ایشیا میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے قابل مذمت ہیں اور غیر ضروری کشیدگی کا سبب بن سکتے ہیں۔ ہندوستان اور اردن سامان اور توانائی کی بلا رکاوٹ ترسیل کی حمایت کرتے ہیں۔ خطے میں پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کی محفوظ واپسی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے اردن کی کوششوں کو ہم نے دل کی گہرائی سے سراہا۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔