اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی تازہ جوابی کارروائی سے حالات انتہائی کشیدہ، اب تک 13 امریکی فوجیوں کی موت
ایران نے بحیرۂ احمر میں سعودی عرب کی ایک ریفائنری پر حملہ کیا اور قطر کی ایل این جی فیسیلٹی و کویت کی 2 تیل ریفائنریوں کو نشانہ بنایا۔ اس سے مغربی ایشیا میں جاری جنگ نے سنگین صورت حال اختیار کر لی ہے

ایران نے جمعرات کو خلیجی خطہ کے عرب پڑوسی ممالک کے توانائی سنٹرس پر اپنے حملے تیز کر دیے۔ یہ قدم اسرائیل کی جانب سے اس کے مرکزی سمندری گیس فیلڈ پر کیے گئے حملوں کے جواب میں اٹھایا گیا ہے۔ ایران نے بحیرۂ احمر میں سعودی عرب کی ایک ریفائنری پر حملہ کرنے کے ساتھ ساتھ قطر کی ایل این جی تنصیبات اور کویت کی 2 آئل ریفائنریوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ اس سے مغربی ایشیا میں جاری جنگ سنگین مرحلے میں داخل ہو گئی ہے اور دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ساحل کے قریب ایک جہاز میں آگ لگ گئی اور قطر کے قریب ایک دیگر جہاز کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس کے بعد آبنائے ہرمز پر منڈلاتے خطرے کی طرف توجہ گئی، جہاں سے دنیا کے تیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے اور جس پر ایران کا اثر و رسوخ ہے۔ سعودی عرب پہلے ہی اس سمندری راستے سے بچنے کے لیے تیل کو مغرب کی طرف بحیرۂ احمر کے راستے بھیج رہا تھا، لیکن ینبع شہر میں واقع اس کی سیمریف ریفائنری پر ایرانی ڈرون حملہ کے بعد اس راستے کی سلامتی پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔ قطر نے بتایا کہ اس کی ایک بڑی ایل این جی تنصیب میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ اس سے پہلے کے حملوں کے باعث پروڈکشن پہلے ہی بند تھا، لیکن نئے حملوں سے مزید نقصان ہوا ہے۔ اس کے باعث جنگ ختم ہونے کے بعد بھی قطر کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ قطر دنیا کے لیے قدرتی گیس کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ توجہ طلب یہ بھی ہے کہ کویت کی مینا الاحمدی ریفائنری پر بھی ڈرون حملوں سے آگ لگ گئی، تاہم کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ یہ مغربی ایشیا کی سب سے بڑی ریفائنریوں میں سے ایک ہے۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد قریب ہی واقع مینا عبداللہ ریفائنری میں بھی آگ لگ گئی۔
اس درمیان ابوظہبی کے حکام نے بتایا کہ انہیں حبشان گیس تنصیب اور باب فیلڈ میں کام روکنا پڑا ہے۔ انہوں نے تازہ حملوں کو ایران کی جانب سے خطرناک اضافہ قرار دیا ہے۔ خلیجی خطہ کے کئی علاقوں میں میزائل حملوں کی وارننگ دینے والے سائرن بجے اور اسرائیل نے بھی کئی بار ایرانی حملوں کی تنبیہ کی۔ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔ سعودی عرب کے ایک اعلیٰ سفارتکار نے کہا کہ ان حملوں سے اعتماد مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ لگاتار تنبیہ کے باوجود ایران نے اپنے حملے جاری رکھے۔ سعودی عرب نے ریاض اور مشرقی صوبے میں 6 ڈرون مار گرائے، لیکن سیمریف ریفائنری کو نقصان پہنچا۔ یہ ریفائنری ’سعودی آرامکو‘ اور ’ایکسن موبل‘ کی شراکت داری ہے۔
دوسری طرف اسرائیل میں بھی ایران کے متعدد حملوں کے باعث لاکھوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔ ایرانی حملوں کی وجہ سے کئی عمارتوں کو نقصان پہنچا، تاہم بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ ایران نے یہ حملہ اس وقت کیا جب اسرائیل نے جنوبی پارس گیس فیلڈ پر حملہ کیا تھا، جو دنیا کا سب سے بڑا گیس فیلڈ ہے اور قطر کے ساتھ مشترکہ ہے۔ یہ حملہ ایران کی بجلی کی فراہمی کے لیے بھی خطرہ سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ ملک کی زیادہ تر بجلی قدرتی گیس سے پیدا ہوتی ہے۔
موجودہ حالات میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں اور پوری دنیا کو متاثر کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران قطر کے توانائی ڈھانچے پر حملے جاری رکھتا ہے تو امریکہ سخت کارروائی کرے گا۔ اسی دوران قطر کی راس لفان ایل این جی تنصیب پر میزائل حملے سے آگ لگنے کی خبر ہے۔ قطر کے ساحل کے قریب ایک جہاز بھی متاثر ہوا، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اسے براہ راست نشانہ بنایا گیا یا ملبہ سے نقصان پہنچا۔ جنگ کے دوران اب تک 20 سے زیادہ جہازوں پر حملے ہو چکے ہیں، کیونکہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر سخت کنٹرول رکھے ہوئے ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ راستہ کھلا ہے، لیکن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے نہیں۔
بہرحال، جنگ کے تیسرے ہفتے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ایران میں 1300 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔ اسرائیلی حملوں کے باعث لبنان میں 10 لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر بھی ہوئے ہیں اور وہاں 968 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اسرائیل میں ایرانی میزائل حملوں سے 15 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں ایک تھائی زرعی مزدور بھی شامل ہے۔ ویسٹ بینک میں بھی 3 افراد کی موت ہوئی ہے، جبکہ 13 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔