’ڈیپ فیک‘ ویڈیو سے پریشان گوتم گمبھیر پہنچے ہائی کورٹ، 2.5 کروڑ روپے ہرجانہ کا کیا مطالبہ

گمبھیر کے وکیلوں کے مطابق ایک فرضی استعفیٰ دینے والی ویڈیو سوشل میڈیا پر تقریباً 29 لاکھ بار دیکھی گئی۔ جبکہ ایک دیگر ویڈیو میں انہیں سینئر کرکٹروں کے ورلڈ کپ کھیلنے پر تبصرہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور سابق رکن پارلیمنٹ گوتم گمبھیر نے اپنی شناخت کے غلط استعمال پر دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ انہوں نے عدالت میں ایک سول مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر ان کے نام، چہرے اور آواز کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ گوتم گمبھیر کا الزام ہے کہ ان کے نام سے کئی فرضی ویڈیو اور پوسٹ پھیلائی جا رہی ہیں۔

دہلی ہائی کورٹ میں داخل عرضی میں گوتم گمبھیر کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ ماہ سے انٹرنیٹ پر ان کے نام سے کئی فرضی ویڈیو اور پوسٹ پھیلائی جا رہی ہیں۔ ان ویڈیو میں ڈیپ فیک اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) تکنیک کا استعمال کر ایسا دکھایا جا رہا ہے جیسے وہ خود کچھ بیان دے رہے ہوں، جبکہ حقیقت میں انہوں نے ایسا کچھ نہیں کہا۔ ان کے وکیلوں کے مطابق ایک فرضی استعفیٰ دینے والی ویڈیو سوشل میڈیا پر تقریباً 29 لاکھ بار دیکھی گئی، جبکہ ایک دیگر ویڈیو میں انہیں سینئر کرکٹروں کے ورلڈ کپ کھیلنے پر تبصرہ کرتے ہوئے دکھایا گیا، اس ویڈیو کو تقریباً 17 لاکھ لوگوں نے دیکھا۔


دہلی ہائی کورٹ میں داخل عرضی میں گوتم گمبھیر نے کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ساتھ ساتھ بڑی بڑی کمپنیوں کو بھی فریق بنایا ہے۔ ان میں امیزون، فلپکارٹ، میٹا، ایکس اور گوگل جیسی کمپنیاں شامل ہیں۔ الزام ہے کہ ان پلیٹ فارم پر بغیر اجازت ان کے نام اور تصویر والے پوسٹر اور دیگر سامان بھی فروخت کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے نام، تصویر، آواز یا شناخت کا کسی بھی طرح استعمال ان کی تحریری اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے فرضی ویڈیو اور پوسٹ فوری طور پر ہٹانے کے لیے عبوری حکم بھی جاری کرنے کی اپیل کی ہے۔

دہلی ہائی کورٹ میں گوتم گمبھیر کے وکیل نے کہا کہ میری شناخت کا استعمال غلط جانکاری پھیلانے اور پیسے کمانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ یہ صرف ذاتی معاملہ نہیں ہے، بلکہ قانون اور عزت و وقار کے تحفظ کا سوال ہے۔ اس معاملے میں انہوں نے تقریباً 2.5 کروڑ روپے ہرجانہ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔