قومی خبریں

دہلی-این سی آر میں چلے گی ’ایئر ٹیکسی‘، محض 10 منٹ میں طے ہوگا ڈیڑھ گھنٹے کا سفر

کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری کی نئی رپورٹ میں دہلی-این سی آر میں ایئر ٹیکسی خدمات شروع کرنے کا منصوبہ سامنے آیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت دہلی، گروگرام اور جیور ایئر پورٹ کو ہوائی راستے سے جوڑا جائے گا۔

<div class="paragraphs"><p>ایئر ٹیکسی، تصویر اے آئی</p></div>

ایئر ٹیکسی، تصویر اے آئی

 

اگر آپ دہلی-این سی آر میں رہتے ہیں اور روزانہ آفس جانے کے لیے طویل سفر طے کرتے ہیں تو یہ خبر آپ کے لیے ہے۔ دراصل دہلی-این سی آر میں بھی ’ایئر ٹیکسی‘ چلانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے اور اس کا بلیو پرنٹ بھی تیار کر لیا گیا ہے۔ ایئر ٹیکسی چلانے کے بعد دہلی میں ہر روز لگنے والے جام سے لوگوں کو نجات ملنے کی امید ہے۔ ایسے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ کس روٹ کے لوگوں کو سب سے پہلے ایئر ٹیکسی کی سہولیات ملیں گی اور اس کا مکمل منصوبہ کیا ہے۔

Published: undefined

اب وہ دن دور نہیں جب دہلی سے گروگرام جانے کے لیے ٹریفک سے بچنے کے لیے فضائی راستے کو ترجیح دی جائے گی۔ ٹریفک میں پھنسے رہنے کی جگہ لوگ ڈائریکٹ ہوا میں اڑتی ٹیکسی سے سفر کریں گے۔ واضح رہے کہ کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری (سی آئی آئی) کی نئی رپورٹ میں دہلی-این سی آر میں ایئر ٹیکسی خدمات شروع کرنے کا منصوبہ سامنے آیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت دہلی، گروگرام اور جیور ایئر پورٹ کو ہوائی راستے سے جوڑا جائے گا۔ یعنی جس گروگرام سے کناٹ پلیس پہنچنے میں آج ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ لگ جاتا ہے وہی سفر صرف 7 سے 10 منٹ میں مکمل ہو سکے گا۔

Published: undefined

منصوبے کے مطابق یہ ’ایئر ٹیکسی‘ اصل میں چھوٹی الیکٹرک اڑنے والی گاڑیاں ہوں گی، جو ہیلی کاپٹر کی طرح اڑیں گی اور براہ راست طے جگہ پر اتر جائیں گی۔ ’سی آئی آئی‘ کی رپورٹ کے مطابق پہلے اسے ٹرائل کے طور پر چلایا جائے گا، اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو آہستہ آہستہ عام لوگوں کے لیے اسے شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ لوگوں کو ٹریفک سے چھٹکارا ملے گا، وقت بچے گا اور الیکٹرک تکنیک ہونے کی وجہ سے آلودگی بھی کم ہوگی۔

Published: undefined

واضح رہے کہ دہلی-این سی آر میں ایئر ٹیکسی کا راستہ آسان نہیں ہے۔ دراصل دہلی کا آسمان پہلے سے ہی پروازوں سے بھر رہتا ہے۔ ایسے میں ایئر ٹیکسی اڑانے کے لیے نئے اصول، سخت سیکورٹی اور خاص لینڈنگ کی جگہیں بنانی ہوں گی۔ حکومت اور ایوی ایشن ایجنسیوں کی منظوری کے بغیر یہ خواب حقیقت میں نہیں بدلے گا۔ رپورٹ کے مطابق 2026 سے 2028 کے درمیان اس کا ٹرائل شروع ہو سکتا ہے اور اگر سب کچھ منصوبے کے مطابق چلا تو آنے والے سالوں میں دہلی سے گروگرام جانا کچھ ویسا ہو جائے گا جیسے آج میٹرو کا سفر، بس فرق اتنا ہوگا کہ میٹرو زمین پر چلتی ہے اور یہ ٹیکسی آسمان میں اڑتی نظر آئے گی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined