سعودی عرب کے پاس ہے ’جوہری بم‘! ایران کے سابق کمانڈر کا سنسنی خیز دعویٰ
حسین کنعانی مقدم کا کہنا ہے کہ سعودی عرب دنیا کو دکھاتا ہے کہ وہ غیر جوہری ہتھیار والا ملک ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ انہوں نے ایک چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے۔

ایران کے سابق کمانڈر نے ایک سنسنی خیز بیان دے کر ہلچل مچا دی ہے۔ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ (آئی آر جی سی) کے سابق اعلیٰ عہدیدار حسین کنعانی مقدم نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے پاس ’جوہری بم‘ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل بھی اس بات کو جانتے ہیں۔ کنعانی مقدم کا کہنا ہے کہ سعودی عرب دنیا کو دکھاتا ہے کہ وہ غیر جوہری ہتھیار والا ملک ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ وہ ایک جوہری ملک ہے۔ سابق آئی آر جی سی کمانڈر نے ایک چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے۔
حسین کنعانی مقدم نے سعودی عرب، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان ’جوہری اسلحہ‘ کے متعلق بات چیت کا بھی دعویٰ کیا۔ جوہری اسلحوں کو منظوری دینے کے بدلے میں امریکہ اس سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط بھی رکھا ہے۔ آئی آر جی سی کمانڈر کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور کئی عرب ممالک کے درمیان ہونے والے تاریخی معاہدے (ابراہم اکارڈ) میں سعودی عرب کے پاس جوہری ہتھیار ہونے کے متعلق بھی اطلاع ہے۔ امریکہ کا سعودی عرب کو غیر رسمی طور پر جوہری اسلحہ فراہم کرنے کا مجوزہ معاہدہ ابراہام معاہدے پر دستخط کرنے پر منحصر ہے۔
آئی آر جی سی کمانڈر کنعانی نے ایرانی انٹیلی جنس کے حوالے سے کہا کہ ’ابراہم اکارڈ‘ کے تحت طے ہوا تھا کہ سعودی عرب کو جوہری ہتھیار کے لیے چھوٹ دی جائے گی۔ اسرائیل اور امریکہ اسے چھوٹ دینے کے لیے راضی تھے، لیکن بعد میں یہ بات چیت آگے نہیں بڑھ پائی۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کے پاس آفیشل طور پر بھلے ہی جوہری اسلحہ نہ ہوں، لیکن کئی مواقع پر اس کی خواہش ظاہر کر چکا ہے۔ سعودی عرب کا ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ملک پاکستان کے ساتھ بھی معاہدہ ہے، جس میں ایک ملک پر حملے کو دوسرے ملک پر حملہ سمجھا جائے گا۔ امریکی نائب صدر بھی حال ہی میں میگن کیلی کو دیے انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران ’ایٹمی بم‘ بناتا ہے تو اگلے روز سعودی عرب بھی ایٹمی اسلحوں والا ملک بن جائے گا۔