’یہ حکومت رہی تو لوہے پر پیتل چڑھا کر بھی بیٹی کی وداعی ممکن نہیں‘، سونا-چاندی کی بڑھتی قیمتوں پر پارلیمنٹ میں اکھلیش کا طنز
اکھلیش یادو نے مودی حکومت کے بجٹ کو بے سمت قرار دیا اور کہا کہ اس میں کوئی ایسا ویژن دکھائی نہیں دے رہا جس سے 2047 تک ہندوستان ترقی یافتہ بن جائے۔ اس حکومت سے کوئی امید تھی بھی نہیں۔

سماجوادی پارٹی کے سربراہ اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے لوک سبھا میں عام بجٹ پر ہوئی بحث میں حصہ لیتے ہوئے امریکہ سے تجارتی معاہدہ، کسانوں کو راحت اور سونا و چاندی کی بڑھتی قیمتوں پر طنزیہ تبصرے کیے۔ انھوں نے کہا کہ سونے کی قیمت کہاں پہنچ گئے؟ اب تو چاندی بھی دور کی بات ہے، یہ حکومت رہی تو غریب لوگ لوہے پر پیتل چڑھا کر بھی اپنی بیٹی کی وداعی نہیں کر پائیں گے۔
اکھلیش یادو نے مودی حکومت کے بجٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بی جے پی کے ہر بجٹ کو 20/1 مانتے ہیں۔ یہ صرف 5 فیصد لوگوں کے لیے ہے۔ اکھلیش یادو کا کہنا ہے کہ حکومت سب سے پہلے تو یہ بتائے کہ پہلے امریکہ سے تجارتی معاہدہ ہوا یا پھر بجٹ تیار کیا گیا۔ عوام جاننا چاہتی ہے کہ ’صفر‘ بڑھا ہے یا ’اٹھارہ‘؟ انھوں نے امریکہ کے ساتھ ہوئے معاہدہ پر سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا تجارتی معاہدہ نے خود کفیلی کی تعریف بدل دی ہے؟
اکھلیش یادو نے اس بجٹ کو بے سمت قرار دیا اور کہا کہ اس میں کوئی ایسا ویژن دکھائی نہیں دے رہا جس سے 2047 تک ہندوستان ترقی یافتہ بن جائے۔ اس حکومت سے کوئی امید تھی بھی نہیں۔ اس بجٹ میں پی ڈی اے کے لیے کچھ بھی موجود نہیں ہے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے حکومت نے ان کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ بجٹ میں اتر پردیش کے لیے کوئی خاص منصوبہ نہیں ہے، ایسا کچھ بھی نہیں ہے جس سے اتر پردیش کے 25 کروڑ لوگوں کو اصل دھارے سے جوڑا جائے۔
کسانوں کا ذکر کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ آج بھی کسانوں کو جو گارنٹی ملنی چاہیے، وہ حکومت نہیں دے پائی ہے۔ دودھ کے پروڈکشن پر ایم ایس پی کی گارنٹی بھی دور کی کوڑی ہے۔ بی جے پی کسانوں کو فائدہ نہیں پہنچانا چاہتے، کچھ نظر نہ آنے والے لوگوں کو فائدہ پہنچانا ان کا مقصد ہے۔ اکھلیش یہ بھی کہتے ہیں کہ بجٹ میں عام لوگوں کا نہ تو ذکر ہے، اور نہ ہی فکر۔ اگر عام لوگوں کی فکر رہتی تو کسانوں کو کھاد وقت پر مل جاتے، بیج وقت پر مل جاتے۔ حکومت نے کسانوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیا ہے۔
اپنی تقریر کے دوران اکھلیش یادو نے منی کرنیکا گھاٹ پر اہلیا بائی کی مورتی توڑے جانے کی تنقید بھی کی اور گنگا کی صفائی پر بھی سوال اٹھائے۔ دال منڈی میں جاری انہدامی کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ’’ووٹ نہیں ملتا، کیا اس لیے دال منڈی کو منہدم کر دیں گے؟ جمہوریت میں بلڈوزر کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ عدالت کے رہتے ہوئے کیا آپ فیصلہ سنا سکتے ہیں؟‘‘