الہ آباد ہائی کورٹ نے انوج چودھری کے خلاف سنبھل کورٹ کے ایف آئی آر درج کرنے کے حکم پر لگائی عبوری روک
سنبھل کے اس وقت کے سی جے ایم وبھانشو سدھیر نے 9 جنوری کو دفعہ 156(3) کے تحت پولیس آفیسر انوج چودھری سمیت 20 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔
اے ایس پی انوج چودھری کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے معاملہ پر الٰہ آباد ہائی کورٹ میں منگل کو سماعت ہوئی۔ ہائی کورٹ نے سنبھل کورٹ کے ذریعہ انوج چودھری سمیت دیگر پولیس اہلکاروٓں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے حکم پر عبوری روک لگا دی ہے۔ روک کے بعد عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت 24 فروری طے کی ہے۔ یہ معاملہ یامین کی شکایت سے متعلق ہے، جنہوں نے اس وقت کے سی جے ایم وبھانشو سدھیر کے سامنے ایک عرضی دی تھی۔ سی جے ایم نے بی این ایس ایس کی دفعہ 173(4) تحت یامین کی عرضی منظور کر لی تھی۔
اپنی شکایت میں یامین نے الزام عائد کیا تھا کہ 24 نومبر 2024 کو صبح 8:45 بجے ان کا بیٹا عالم سنبھل کے محلہ کوٹہ میں جامع مسجد کے پاس اپنے ٹھیلے پر پپیتے (رَسک) اور بسکٹ بیچ رہا تھا، تبھی کچھ پولیس والوں نے جان سے مارنے کے ارادے سے بھیڑ پر گولی چلا دی۔ عرضی میں سنبھل تھانہ کے انچارج انوج کمار تومر اور انوج چودھری کا نام تھا۔
واضح رہے کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ میں انوج چودھری اور یوپی حکومت کی طرف سے داخل کی گئی عرضی میں سنبھل کورٹ کے ایف آئی آر درج کرنے کے حکم پر روک لگانے کی اپیل کی گئی تھی۔ منگل کو الٰہ آباد ہائی کورٹ میں جسٹس سمت گوپال کی سنگل بنچ میں اس مقدمہ کی سماعت ہوئی، جہاں دونوں فریق کو سننے کے بعد عدالت نے انوج چودھری کے خلاف ایف آئی آر درج نہ کرنے کا فیصلہ سنایا۔
قابل ذکر ہے کہ سنبھل کے اس وقت کے سی جے ایم وبھانشو سدھیر نے 9 جنوری کو دفعہ 156(3) کے تحت پولیس آفیسر انوج چودھری سمیت 20 پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ عرضی سنبھل تشدد میں زخمی نوجوان کے والد یامین نے داخل کی تھی، جس میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کا بیٹا گھر سے دکان پر کام کے لیے گیا تھا، جہاں جان سے مارنے کی نیت سے پولیس نے اس پر گولی چلائی تھی۔ عدالت کے اس حکم کے بعد بھی انوج چودھری کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، پھر انوج چودھری اور یوپی حکومت نے سنبھل کورٹ کے حکم کو الٰہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ آج کی سماعت کے بعد ہائی کورٹ نے نچلی عدالت کے حکم پر عبوری روک لگا دی ہے۔