’وندے بھارت چمکتی ہے، تو جنرل ٹرینیں گندی کیوں؟‘ غریب و متوسط طبقہ کے ساتھ تفریق پر پی اے سی نے اٹھایا سوال

پی اے سی کے مطابق وندے بھارت جیسی پریمیم ٹرینوں میں کوچ چمکتے ہیں، بستر صاف ہوتے ہیں اور بیت الخلاء بھی بہتر حالت میں ہوتے ہیں، جبکہ جنرل ٹرینوں میں صفائی کی حالت بے حد خراب ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے ہندوستانی ریلوے کے صفائی انتظامات پر اپنی سخت ناراضگی ظاہر کی ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ٹرینوں میں صاف صفائی کی سطح یکساں نہیں ہے۔ اس میں صاف طور پر تفریق نظر آتی ہے۔ کانگریس لیڈر کے سی وینوگوپال کی صدارت والی کمیٹی نے ریلوے پر تلخ تبصرہ کرتے ہوئے اسے ٹرینوں میں نسلی نظام جیسا بتایا ہے۔

پبلک اکاؤٹس کمیٹی کے مطابق وندے بھارت جیسی پریمیم ٹرینوں میں کوچ چمکتے ہیں، بستر صاف ہوتے ہیں اور بیت الخلاء بہتر حالت میں ہوتے ہیں، جبکہ جنرل ٹرینوں میں صفائی کی حالت بے حد خراب ہے۔ کمیٹی نے اسے عام مسافروں کے ساتھ ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ غریب اور جنرل طبقہ کے مسافروں کے ساتھ تفریق ہے۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق کمیٹی کا یہ تبصرہ کنٹرولر اور آڈیٹر جنرل کی 2025 کی رپورٹ نمبر-15 کی جانچ کے دوران ہوا۔ یہ رپورٹ مارچ 2023 تک طویل دوری کی ٹرینوں میں صفائی اور سینیٹیشن نظام پر مبنی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ بڑی تعداد میں مسافر صفائی کے معاملہ پر غیر مطمئن نظر آئے۔ سب سے زیادہ شکایتیں بیت الخلاء میں گندگی، پانی کی کمی اور ٹرین میں صفائی سروس ٹھیک سے نہ ہونے کو لے کر درج کی گئیں۔ خاص طور سے بغیر اے سی والے کوچ میں بیت الخلاء کی حالت سب سے خراب بتائی گئی ہے۔

میٹنگ میں ریلوے بورڈ کے چیئرمین اور سی ای او ستیش کمار نے صفائی نظام سے جڑی دقتیں شمار کرائیں۔ انھوں نے بتایا کہ ملازمین کی کمی، محدود بجٹ، مسافروں کی بھیڑ اور ٹرینوں کے کم ٹھہراؤ کے سبب صفائی کر پانا چیلنج بن جاتا ہے۔ لیکن پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ان دلیلوں کو قبول نہیں کیا۔ کمیٹی نے کہا کہ یہ مسائل نئے نہیں ہیں۔ سالوں سے انھیں بہتر بنانے کے لیے ٹھوس قدم نہیں اٹھائے گئے۔ میٹنگ میں موجود ایک بی جے پی رکن نے بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امیروں کی ٹرینیں صاف اور غریبوں کی گندی رہنا، ٹرینوں میں نسل پرستی جیسا ہے۔


پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ریلوے کو ہدایت دی ہے کہ سبھی ٹرینوں میں صفائی کے لیے یکساں اصول نافذ کیے جائیں۔ سبھی ٹرینوں میں مستقل طور سے صفائی کی جانچ کرائی جائے۔ کمیٹی نے مسافروں کی شکایتوں کے لیے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ بنانے، ہر زون میں شکایت نمٹانے کا یکساں انتظام کرنے اور اچھی کارکردگی کرنے والے زون کو انعام دینے کی سفارش کی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ خراب کارکردگی کرنے والوں پر کارروائی کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ’کوئک واٹرنگ‘ اسٹیشنوں کی تعداد بڑھانے اور صفائی کے لیے بجٹ بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے ریلوے کو بہتری کے لیے طے مدت کار بھی دی ہے۔ اگر ان مشوروں پر عمل ہوتا ہے تو جنرل ٹرینوں میں بھی صفائی کی سطح بہتر ہو سکتی ہے اور مسافروں کو زیادہ آرام دہ سفر کا تجربہ حاصل ہوگا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔