غالب اکیڈمی میں اسد رضا کی یاد میں تعزیتی اجلاس، صحافتی و ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت

نئی دہلی میں غالب اکیڈمی کے زیر اہتمام اسد رضا کی یاد میں تعزیتی اجلاس ہوا۔ صحافیوں، ادیبوں اور اہلِ خانہ نے ان کی صحافتی، ادبی اور انسانی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر پریس ریلیز</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: اردو صحافت اور ادب کی دنیا کی ایک ہمہ جہت اور نمایاں آواز، سینئر صحافی، شاعر اور طنز و مزاح نگار اسد رضا کی رحلت پر غالب اکیڈمی میں ایک تعزیتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صحافت، شعر و ادب اور سماجی حلقوں سے وابستہ شخصیات نے ان کی علمی، ادبی اور انسانی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ تعزیتی جلسے کا اہتمام عبارت پبلی کیشن نے غالب اکیڈمی کے اشتراک سے کیا تھا۔

جلسے کا آغاز مرحوم کے قریبی ساتھی ضمیر ہاشمی نے تلاوتِ قرآن مجید سے کیا۔ انھوں نے قرآنی آیات کا منظوم ترجمہ بھی پیش کیا۔ضمیر ہاشمی نے اسد رضا کے طویل صحافتی سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے 1991 میں 'راشٹریہ سہارا' سے وابستگی سے قبل 'سوویت جائزہ' اور ہفت روزہ 'ہمارا قدم' میں خدمات انجام دیں اور سینئر سب ایڈیٹر سے لے کر گروپ ایڈیٹر تک اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ ان کے کئی شعری مجموعے اور نثری تصانیف شائع ہوئیں، جبکہ شعری مجموعہ 'طنزستان' پر دوردرشن کے لیے دو مزاحیہ سیریل بھی بنائے گئے۔

وزارتِ اطلاعات و نشریات سے وابستہ عربی زبان کے اسکالر عبید الرحمن نے بتایا کہ اسد رضا انتقال سے کچھ ہی عرصہ قبل عمرہ ادا کر کے واپس آنے کے بعد اسلام کے پیغامِ مساوات پر ایک کتاب لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے، مگر زندگی نے مہلت نہ دی۔ عبید الرحمن نے کہا کہ نیک نیتی بھی اللہ کے یہاں قبولیت رکھتی ہے، اس لیے یہ عزم ان کے درجات کی بلندی کا سبب ہوگا۔

اردو ٹی وی چینل عالمی سہارا کے سابق ایڈیٹر لئیق رضوی نے اسد رضا کی سادگی اور انکساری کا ذکر کرتے ہوئے ان کی غیر مطبوعہ تحریروں کو محفوظ کرنے پر زور دیا۔

سینئر صحافی اور سماجی کارکن فرحت رضوی نے کہا کہ اسد رضا دل میں کسی کے لیے کینہ نہیں رکھتے تھے اور اختلاف کے باوجود رشتوں کو جوڑنے میں پیش پیش رہتے تھے۔


سینئر صحافی سہیل انجم نے کہا کہ اسد رضا جیسی کثیرالجہات شخصیت کے اوصاف کا بیان جس طرح آج کیا جا رہا ہے کاش ان کی حیات میں ان کے سامنے ان کا اعتراف ہوتا۔

معروف صحافی اور خاکہ نگار معصوم مرادآبادی نے کہا کہ مترجم کی حیثیت سے صحافتی کریئر کا آغاز کرنے والے اسد رضا نےصحافت، شاعری اور طنز و مزاح میں نمایاں مقام حاصل کیا۔

غالب اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد نے کہا کہ اسد رضا اردو کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کو اخبارات میں نمایاں جگہ دیتے تھے اور ان کے مشورے ہمیشہ رہنمائی کا ذریعہ رہے۔

معروف کالم نویس فیروز بخت احمد نے ادبِ اطفال کے فروغ کے لیے اسد رضا کی کاوشوں کو سراہا۔

رسالہ 'بیسویں صدی' کی مدیرہ شمع افروز زیدی نے کہا کہ مرحوم اپنی خدمات کے ساتھ شخصی اوصاف کے سبب ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

ادیب و صحافی شیخ نگینوی نے کہا کہ اسد رضا نے عملی زندگی کا آغاز ایک معلم کے طور پر کیا تھا۔ وہ درس تدریس سے علیحدہ ہونے کے بعد صحافت و ادب کے شعبوں میں بھی ہمیشہ ایک معلم کے کردار میں ہی نظر آئے۔

سینئر صحافی جمشید عادل علیگ نے اسد رضا کو اپنا محسن قرار دیا اور بہار کی سیاست پر ان کی تحریروں کو کتابی شکل دینے کے ارادے کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس موقع پر روزنامہ سچ کی آواز کے ایڈیٹر سید فیصل علی اور سید اصدر علی کے تعزیتی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے۔

سینئر صحافی شباب انوار نے کہا کہ اسد رضا کا جذبۂ خیرخواہی غیر معمولی تھا۔ وہ دوستوں، احباب اور ساتھیوں کی خبر گیری میں کبھی پیچھے نہیں رہے۔


نیوز پورٹل 'بھارت ایکسپریس' کے ایڈیٹر خالد رضا خاں نے اسد رضا کی تجزیہ نگاری کی توصیف کرتے ہوئے بتایا کہ اسد رضا ٹی وی چینل پر منظوم خبروں کا بلیٹن شروع کرنے کے خواہاں تھے، مگر تکنیکی وجوہ کے سبب یہ خواہش عملی شکل اختیار نہ کر سکی۔

جلسے کے ناظم معروف صحافی معین شاداب نے اسد رضا کی فعالیت اور ہمہ جہتی کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی سرگرمیوں اور مختلف اصناف میں ان کی طبع آزمائی کی صلاحیت کو خراج پیش کیا۔

رازنامہ انقلاب کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر ڈاکٹر یامین انصاری نے کہا کہ اسد رضا خلوص، محبت اور انس کا پیکر تھے اور ان کی شخصیت کا ہر پہلو قابل ذکر ہے۔

دوردرشن کے خبروں کے شعبے سے وابستہ ڈاکٹر فرمان چودھری نے کہا کہ اسد رضا چھوٹوں پر دست شفقت دراز رکھتے اور نئے لکھنے والوں کی دل کھول کر حوصلہ افزائی کرتے تھے۔

اس موقع پر شاہ نواز احمد صدیقی نے اسد رضا کے ساتھ وابستہ یادوں کو تازہ کیا اور ان کی باغ و بہار طبیعت کا ذکر کیا۔

آسیہ خان نے ملازمت کے دوران اسد رضا کے ساتھ گزرے وقت اور اس دوران پیش آنے والے خوش گوار واقعات کو یاد کرتے ہوئے ان کے آخری دیدار سے محرومی کے ملال کا اظہار کیا۔

مرحوم کی صاحبزادی ثنا اسد نے کہا کہ ان کے والد کے فنی کمالات سے سب واقف ہیں، لیکن ان کی اصل پہچان ان کی انسان دوستی اور رشتوں کی پاسداری تھی۔ وہ نہ صرف ایک معروف قلم کار تھے بلکہ ہر رشتے کو خلوص کے ساتھ نبھانے والے انسان بھی تھے۔

تعزیتی اجلاس میں مرحوم کے اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب بھی شریک تھے، جن میں قنبر رضا نقوی، ثمر رضا نقوی، سید عباس رضا چھولسی اور گلنار زہری شامل ہیں، جبکہ دیگر اہم شرکا میں سید خرم رضا، ممتاز احمد، مفیض الرحمن، جمیل اختر، انس فیضی، شاکر دہلوی، ترنم جہاں، شبنم اور کشفی شمائل کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

جلسے کے کنوینر سلام خاں نے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے اسد رضا کی رحلت کو ذاتی نقصان قرار دیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔