
ویڈیو گریب
کانپور: اتر پردیش کی صنعتی راجدھانی کانپور میں بدھ کے روز ہوئے دھماکے سے افراتفری مچی ہوئی ہے۔ انتظامیہ کی ناک کے نیچے ہوئے اس واقعہ نے پولیس کی کارکردگی پر بھی سوال کھڑے کر دیئے ہیں اور پولیس کی لاپرواہی کے خلاف کارروائی بھی تیز ہوگئی ہے۔ دریں اثناء ایس ایچ او مول گنج سمیت 5 پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سی او کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ اے سی پی کا تبادلہ کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ دھماکہ غیر قانونی پٹاخوں کی وجہ سے ہوا تھا۔ الزام ہے کہ مقامی پولیس نے پٹاخوں کے غیر قانونی ذخیرے پر دھیان نہیں دیا جس کے نتیجے میں بدھ کی شام کانپور کے مشری بازار میں دھماکہ ہوا۔
کانپور کے میسٹن روڈ پر واقع کھلونوں کی دکان میں ہونے والے اس دھماکہ میں 8 افراد زخمی ہو گئے تھے۔ تحقیقات کے بعد پتہ چلا ہے کہ یہ واقعہ پٹاخوں کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے ہوا ہے۔ یہاں پر تقریباً ایک کوئنٹل پٹاخے غیر قانونی طور پر ذخیرہ کیے گئے تھے جو ضبط کر لیے گئے ہیں۔ پولیس نے مشری بازار میں غیر قانونی پٹاخہ بازار کے ذمہ دار کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کمشنر رگھوبیر لال نے بتایا کہ اب تک 12 لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ ملزم طارق کی تلاش جاری ہے۔ ایک اسکوٹی مالک زخمی ہے۔ یہاں دو اسکوٹی پر پٹاخے رکھے تھے۔ دھماکے سے ایک اسکوٹی تباہ ہو گئی جبکہ دوسری اسکوٹی چوری کی بتائی جا رہی ہے۔ اس کے بارے میں معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے دو گوداموں کو سیل کر دیا ہے اور درجنوں دکانوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔
کیس کے سلسلے میں پرویز اور اس کے بیٹے سمیت 12 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس نے دو گوداموں کو سیل بھی کر دیا ہے اور 18 دکانوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ فرانزک ٹیموں نے دھماکے کو کم شدت کا دھماکہ قرار دیا ہے اور دہشت گردی کی سازش کو مسترد کر دیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
تصویر آئی اے این ایس