امریکہ نے وعدے وفا نہیں کیے، اس لیے ایران بھی اپنی ذمہ داریوں پر عمل پیرا نہ رہا: نائب وزیر خارجہ غریب آبادی
غریب آبادی نے کہا کہ ’’اس وقت ہمارے سامنے اپنے ملک کا مضبوطی کے ساتھ دفاع کرنے کا چیلنج ہے۔ اس بار بھی امریکیوں کو پہلے ہی جواب مل چکا ہے کہ جارحانہ کارروائیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔‘‘

ایران کے قانونی اور بین الاقوامی امور کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ’’ایران نے امریکہ کے ساتھ امن معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد روک دیا ہے، کیونکہ واشنگٹن نے معاہدے کے تحت کیے گئے اپنے وعدے پورے نہیں کیے۔‘‘ سرکاری آئی آر آئی بی ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں غریب آبادی نے کہا کہ ’’امریکہ نے معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں کو عملاً توڑ دیا ہے یا انہیں منسوخ کر دیا ہے۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’’ایران اس وقت اپنی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور فی الحال کسی بھی قسم کے مذاکرات کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’اس وقت ہمارے سامنے اپنے ملک کا مضبوطی کے ساتھ دفاع کرنے کا چیلنج ہے۔ اس بار بھی امریکیوں کو پہلے ہی جواب مل چکا ہے کہ جارحانہ کارروائیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اگر وہ دانشمندی سے کام لیں تو انہیں دوسرے راستے اختیار کرنے چاہییں۔‘‘
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے امریکی وقت کے مطابق ہفتہ کی رات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’’امریکی فوج نے ہفتہ کی شام 6 بجے کمانڈر اِن چیف کی ہدایت پر ایران کے خلاف نئے فضائی حملے شروع کیے ہیں۔ یہ حملے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو خطرہ پہنچانے کی ایران کی قوت کو مزید کمزور کرنے اور اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی ان فورسز کو فوری سزا دینے کے لیے کیے گئے ہیں، جنہوں نے گزشتہ رات اردن میں امریکی فوجیوں پر حملہ کیا تھا۔‘‘ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ہفتے کے روز بتایا کہ ایران کے خلاف کارروائی کے دوران دو امریکی فوجی ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک لاپتہ ہے۔ مارچ کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ایرانی فائرنگ میں کسی امریکی فوجی کی ہلاکت ہوئی ہے۔
سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ ’’17 جولائی کو اردن میں دو امریکی سروس ارکان اس وقت ہلاک ہو گئے، جب امریکی سینٹرل کمانڈ اور اس کی شراکت دار افواج ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں سے دفاع کر رہی تھیں۔ اس کے علاوہ ایک سروس رکن تاحال لاپتہ ہے۔‘‘ کمانڈ کے مطابق مزید 4 امریکی سروس ارکان کو طبی امداد کے لیے اردن کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ لیکن انہیں اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔ دیگر اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئیں اور وہ دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر واپس آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوجیوں کی شناخت سے متعلق معلومات ان کے اہلِ خانہ کو اطلاع دیے جانے کے 24 گھنٹے بعد تک عوامی طور پر جاری نہیں کی جائیں گی۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی فوجیوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں یہ ہوتا دیکھ کر اچھا نہیں لگ رہا۔ وہ اپنے ملک کی خدمت کرتے ہوئے شہید ہوئے ہیں۔‘‘ اس کے علاوہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایکس پر لکھا کہ ’’خدا آپ پر رحم کرے، ہیروز کی قربانی ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہے۔‘‘
آئی آر جی سی نے ہفتے کے روز جاری ایک بیان میں اردن کے الازراق میں امریکی فوج کے اڈے پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ اس حملے میں کئی طیارے مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ یہ حملہ میزائلوں اور ڈرونز دونوں کے ذریعے کیا گیا تھا۔ شنہوا نیوز ایجنسی کے مطابق امریکہ نے گزشتہ ہفتے ایران کے جنوبی صوبوں میں واقع فوجی اڈوں اور عسکری تنصیبات پر کئی حملے کیے ہیں۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کو خطرہ پہنچانے کی ایران کی قوت کو کم کرنا تھا۔ اس کے جواب میں ایران نے کئی خلیجی ممالک اور اردن میں واقع امریکی فوجی اڈوں اور دیگر مقامات کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
