مدھیہ پردیش: کین-بیتوا منصوبے کی مخالفت کرنے والے مظاہرین کو احتجاجی مقام سے پولیس نے ہٹایا

چھترپور کے ایڈیشنل ایس پی آدتیہ پٹلے نے بتایا کہ احتجاج کی جگہ پر موجود لوگ بنیادی طور پر ضلع پنا کے رہنے والے تھے، اس لیے انہیں محفوظ طریقے سے بسوں میں بٹھا کر ان کی منزل کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

کین-بیتوا لنک پروجیکٹ اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی وجہ سے بے گھر ہونے والے قبائلی کسانوں کا 14 دنوں سے جاری ’جل ستیہ گرہ‘ اور بھوک ہڑتال اتوار کی صبح سویرے پولیس نے ختم کرا دی۔ کسانوں کو دھرنے کی جگہ سے ہٹائے جانے کے بعد تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ احتجاج کرنے والے کسانوں نے پولیس کی جانب سے لوگوں کو گرفتار کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن موقع پر موجود ایڈیشنل ایس پی آدتیہ پٹلے نے مظاہرین کی گرفتاری اور حراست کی بات سے صاف انکار کیا ہے۔

دراصل مدھیہ پردیش کے چھترپور میں واقع گاؤں کوپی میں انڈر برج کے نیچے وران ندی کے کنارے کسان گزشتہ کئی دنوں سے احتجاج کر رہے تھے۔ وہ حاصل کی گئی زمین کا مناسب معاوضہ اور دوبارہ آباد کاری کا مطالبہ کر رہے تھے۔ لیکن اتوار کی صبح سویرے موقع پر بھاری تعداد میں پہنچی پولیس فورس نے مظاہرین کو دھرنے کی جگہ سے ہٹا دیا۔


اس پورے واقعے پر چھترپور کے ایڈیشنل ایس پی آدتیہ پٹلے نے فون پر آفیشیل معلومات شیئر کی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس نے کسی بھی مظاہرین کو نہ تو گرفتار کیا ہے اور نہ ہی حراست میں لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ احتجاج کی جگہ پر موجود لوگ بنیادی طور پر ضلع پنا کے رہنے والے تھے، اس لیے انہیں محفوظ طریقے سے بسوں میں بٹھا کر ان کی منزل کے لیے روانہ کر دیا گیا ہے۔

ایڈیشنل ایس پی نے مزید بتایا کہ تحریک کی قیادت کرنے والے کسان لیڈر امیت بھٹناگر گزشتہ 14 دنوں سے مسلسل بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کی طویل بھوک ہڑتال کے باعث بگڑتی ہوئی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس انتظامیہ نے انہیں فوری طور پر طبی معائنے کے لیے ضلع اسپتال بھیجا، تاکہ ان کی صحت کو کوئی سنگین خطرہ لاحق نہ ہو۔ انتظامی افسران کے مطابق جس جگہ پر قبائلی کسان اپنا ’جل ستیہ گرہ‘ احتجاج کر رہے تھے، اس انڈر برج کی تعمیر کا کام اس وقت جاری ہے۔ تعمیراتی جگہ پر کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعے یا حادثے کو روکنے کے مقصد سے ہی ان لوگوں کو وہاں سے ہٹایا گیا ہے۔


ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق اس معاملے پر مظاہرین کی جانب سے دیویا اہیروار نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ہماری تحریک کی قیادت کرنے والے امیت بھٹناگر آج اتوار کو کین-بیتوا پروجیکٹ میں ہونے والی 400 کروڑ روپے کی مبینہ بدعنوانی کا انکشاف کرنے والے تھے۔ لیکن پولیس انتظامیہ نے آج صبح 5 بجے سے ہی ہزاروں کی تعداد میں ہمارے تمام مظاہرین کو اور امیت بھٹناگر کو احتجاج کی جگہ سے گرفتار کر لیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس پورے معاملے میں وزیر اعلیٰ موہن یادو کا ہاتھ ہے، انہوں نے ہماری تحریک کو کچلنے کے لیے پنا اور چھترپور ضلع انتظامیہ کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی تھی۔ دیویا نے کہا کہ اگر امیت بھٹناگر کو کچھ بھی ہوتا ہے اور ہمارے مظاہرین میں سے ایک بھی شخص کو خراش تک آتی ہے، تو اس کی ذمہ دار انتظامیہ ہوگی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔