انٹرویو

پٹنہ یونیورسٹی میں شعبۂ اردو کا ماحول مجموعی طور پر سنجیدہ، لیکن چیلنجز سے خالی نہیں: ڈاکٹر افشاں بانو

ڈاکٹر افشاں بانو اس معاملہ میں خوش نصیب ہیں کہ انھیں اسی یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض انجام دینے کا موقع ملا، جہاں انھوں نے تعلیم حاصل کی۔ بی اے، ایم اے اور پی ایچ ڈی انھوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے ہی کی۔

<div class="paragraphs"><p>ڈاکٹر افشاں بانو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے</p></div>

ڈاکٹر افشاں بانو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے

 

’قومی آواز‘ کے قارئین کو نئے سال کی نیک خواہشات۔ نئے سال کی آمد کو پیش نظر رکھتے ہوئے آپ کے لیے ایک خاص سلسلہ ’سوال اُستاد سے‘ شروع کیا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ انٹرویوز پر مشتمل ہے، جو کہ ہندوستان کی مختلف یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں میں تدریس کی ذمہ داریاں نبھا رہی نوجوان نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ ہر ماہ کے پہلے اور تیسرے ہفتہ کو ایک نئے اُستاد کے تجربات و مشاہدات پر مبنی انٹرویو شائع کیا جائے گا، جس میں متعلقہ کالج یا یونیورسٹی کے ماضی اور حال پر بھی مختصر گفتگو ہوگی۔ انٹرویو کے لیے ایسے اساتذہ کا انتخاب کیا جائے گا، جو اُردو زبان کی خدمت کر رہے ہیں اور جن کا تجربہ 10 سالوں سے زیادہ نہ ہو۔ یعنی اساتذہ کی نئی پود کے نظریات سے ہم واقف ہوں گے۔ ان میں کچھ کورونا وبا سے قبل تدریس کے میدان میں اترنے والے اساتذہ ہوں گے اور کچھ کورونا کے بعد۔ ہماری کوشش ہوگی کہ کورونا کے بعد تدریسی عمل میں ہونے والی تبدیلیاں خاص طور سے گفتگو کا موضوع بنیں۔ ہمارا ارادہ اس سلسلہ کو ایک سال تک جاری رکھنے کا ہے، یعنی ان شاء اللہ 24 اساتذہ کا انٹرویو مختصر، لیکن جامع انداز میں آپ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ انٹرویو کے لیے 20 اساتذہ کا انتخاب کالج و یونیورسٹیوں سے کیا جائے گا، جبکہ 4 اساتذہ اسکول سے ہوں گے۔ اس سلسلہ کا پہلا انٹرویو آپ کی خدمت میں حاضر ہے۔

ڈاکٹر افشاں بانو کا مختصر تعارف:

ڈاکٹر افشاں بانو بہار کی تاریخی ’پٹنہ یونیورسٹی‘ کے شعبۂ اردو میں بطور استاد اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔ ان کی پیدائش بہار شریف جیسے مقدس شہر میں ہوئی۔ چونکہ والد محمد عقیل احمد نے بزنس کی وجہ سے شہر پٹنہ میں بود و باش اختیار کر لی، اس لیے ڈاکٹر افشاں کا بچپن بھی وہیں گزرا۔ والدہ گلناز بانو اور 5 بھائی بہنوں کے ساتھ گھر میں انھیں تعلیم کا ایک اچھا ماحول ملا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تعلیمی سفر کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتا گیا۔

Published: undefined

پٹنہ یونیورسٹی کے شعبۂ اُردو  میں تقرری کے بعد ایک تقریب میں ڈاکٹر افشاں بانو کی حوصلہ افزائی کا منظر

ڈاکٹر افشاں بانو اس معاملہ میں خوش نصیب ہیں کہ انھیں اسی یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض انجام دینے کا موقع ملا، جہاں انھوں نے تعلیم حاصل کی۔ بی اے، ایم اے اور پی ایچ ڈی انھوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے ہی کی۔ ان کی تعلیمی لیاقت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایم اے کے دوران ہی انھوں نے نیٹ کے ساتھ ساتھ جے آر ایف بھی  کوالیفائی کر لیا۔ 2019 میں پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے بعد ان کی تقرری للت نارائن متھلا یونیورسٹی کے ڈگری کالج (جی ایم آر ڈی کالج، موہن پور، سمستی پور) میں بطور گیسٹ لیکچرر ہوئی۔ 3 سال یہاں گزارنے کے بعد حکومت بہار کے اُردو ڈائریکٹوریٹ، محکمہ کابینہ سکریٹریٹ، پٹنہ میں ’راج بھاشا اسسٹنٹ‘ کے عہدہ پر فائز ہوئیں۔

Published: undefined

طالب علمی کے زمانہ سے ہی ادبی سرگرمیوں میں فعال رہنے والی ڈاکٹر افشاں کی کئی کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں، جن میں ’محمد حسین آزاد کا تنقیدی شعور اور دیگر مضامین‘ (مرتبہ)، ’غبار خاطر: ایک بازدید‘ (مرتبہ)، ’تقسیم ملک کا ادب اور دیگر مضامین‘ (مضامین کا مجموعہ)، ’آغاز گفتگو‘ (مضامین کا مجموعہ) وغیرہ شامل ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ دوردرشن کیندر (پٹنہ) میں وہ جز وقتی نیوز اینکر بھی رہیں، اور پھر 2024 میں بہار یونیورسٹی سروس کمیشن کے ذریعہ ان کی تقرری پٹنہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں ہوئی۔ یہ بات لائق تحسین ہے کہ ’بہار اردو اکادمی‘ سے ان کی کتاب ’غبار خاطر: ایک بازدید‘ کو ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے، ساتھ ہی زبان و ادب کی خدمات کے لیے 2025 میں گورنمنٹ اردو لائبریری (حکومت بہار) نے بھی انھیں اعزاز سے سرفراز کیا۔ ذیل میں پیش ہے ان کے تدریسی تجربات اور شعبۂ اُردو، پٹنہ یونیورسٹی سے ان کی وابستگیوں پر مشتمل انٹرویو۔

Published: undefined

شعبۂ اردو، پٹنہ یونیورسٹی میں ایک تقریب سے خطاب کرتی ہوئیں ڈاکٹر افشاں بانو

10 سال بھی نہیں ہوئے ہیں جب آپ پٹنہ یونیورسٹی کی طالبہ تھیں، اور اب پٹنہ یونیورسٹی میں تدریسی عمل انجام دے رہی ہیں، یہ تجربہ کیسا ہے؟

یہ تجربہ میرے لیے فخر اور اعزاز کے ساتھ خوشی اور ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ جس جگہ آپ نے تعلیم حاصل کی ہو، اسی جگہ بطور استاد خدمات انجام دینا کسی خواب کی تعبیر سے کم نہیں۔ 1917 میں قائم ہونے والی اس یونیورسٹی کا شمار برصغیر کی قدیم ترین یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے۔ جس یونیورسٹی سے کلیم الدین احمد (شعبۂ انگریزی)، اختر اورینوی، جمیل مظہری، کلیم عاجز جیسے افراد کا رشتہ رہا ہو، وہاں تعلیم حاصل کرنا ہی بڑی بات تھی اور پھر وہاں آپ کو تدریسی خدمات انجام دینے کا موقع میسر آ جائے، یہ نعمت سے کم نہیں۔ اس تعلیمی روایت کا حصہ بننا میرے لیے فخر کی بات ہے۔ اس تقرری نے نہ صرف میرے اعتماد میں اضافہ کیا ہے بلکہ طالب علم سے معلم تک کا یہ سفر میرے اس احساس ذمہ داری کو مزید گہرا کر دیتا ہے کہ اب مجھے آنے والی نسلوں کے لیے اس سے بہتر رہنمائی، خلوص اور دیانت کے ساتھ تعلیم فراہم کرنا ہے جسے میں نے اس ادارے میں حاصل کیا تھا۔

آپ پٹنہ یونیورسٹی میں شعبۂ اردو جوائن کرنے سے قبل اُردو ڈائریکٹوریٹ میں اردو زبان و ادب کے لیے سرگرم خدمات انجام دے رہی تھیں۔ اب تو یہ سرگرمیاں مدھم پڑ گئی ہوں گی؟

ایسی بات نہیں ہے۔ اردو ڈائرکٹوریٹ میں تقرری سے قبل بھی میں ایک متحرک اور فعال ادارے بزمِ صدف انٹرنیشنل سے جڑی ہوئی تھی۔ وہاں سے نکلنے والے سہ ماہی رسالہ ’صدف‘ کی میں معاون مدیر رہی ہوں، ساتھ ہی اس کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی مختلف تقریبات کا حصہ بھی رہی ہوں۔ یہی تجربہ مجھے اردو ڈائرکٹوریٹ کے رسالہ ’بھاشا سنگم‘ کی ادارت اور مختلف پروگراموں کے انعقاد کے سلسلے میں کار آمد ثابت ہوا۔ اور اب ان سارے تجربات کا فائدہ شعبۂ ارددو، پٹنہ یونیورسٹی میں تدریس و تحقیق کے دوران مجھے ہو رہا ہے۔ پٹنہ یونیورسٹی سے بھی ’اردو جرنل‘ تقریباً 16 برسوں سے تواتر کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ میرے استاد ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی اس کے مدیر ہیں۔ درس و تدریس کے ساتھ اس رسالہ میں بھی میں مقدور بھر اپنا تعاون پیش کر رہی ہوں۔ ہمارے شعبہ کے ساتھ ساتھ بہار اور بالخصوص پٹنہ کی سطح پر جو ادبی پروگرام ہوتے ہیں، ان میں کبھی مقالہ نگار، کبھی ناظم اور کبھی منتظم کی حیثیت سے شرکت رہا کرتی ہے۔ پٹنہ کے باہر بھی ارریہ، مدھے پورہ، گیا، سیوان، جہان آباد وغیرہ مقامات پر پروگرام میں شرکت کے سلسلے میں جانا رہا۔ دہلی، حیدر آباد، راجستھان، کولکاتا، جھارکھنڈ جیسی جگہوں پر بھی مقالہ نگار کی حیثیت سے شریک ہو چکی ہوں۔

پٹنہ یونیورسٹی میں شعبۂ اُردو کا ماحول کیسا ہے؟ میرا مطلب ہے طلبا و طالبات کی حاضری اور اُردو کے تئیں ان کی دلچسپی کتنی ہے؟

آپ نے بہت اچھا سوال کیا۔ پٹنہ یونیورسٹی میں شعبۂ اردو کا ماحول مجموعی طور پر سنجیدہ ہے، لیکن چیلنجز سے خالی نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ بہت سی جگہوں پر شعبۂ اردو تقریباً غیر فعال ہے، لیکن پٹنہ یونیورسٹی میں صورت حال اس قدر مایوس کن نہیں۔ یہاں ایم اے کے ایک سیشن کے لیے 40 سیٹیں مخصوص ہیں۔ ہمارے وقت تک تو سیٹ سے زیادہ طلبا ایپلائی کیا کرتے تھے اور بچوں کی لیاقت کے مطابق ان کو منتخب کیا جاتا تھا۔ حال کے دنوں میں اس میں کچھ کمی آئی ہے، پھر بھی 35-34 طلبا ایک سیشن میں داخلہ لیتے ہیں۔ طالب علموں کی تعداد میں کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے یہاں حاضری پر زور زیادہ دیا جاتا ہے اور کم حاضری ہونے کی صورت میں انھیں سی آئی اے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ملتی، جبکہ دوسری جگہوں پر طالب علموں کو اس معاملہ میں سختی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ہے۔

کورونا وبا سے قبل آپ نے پٹنہ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی مکمل کر لی اور کورونا وبا کے بعد یہاں بطور استاد ذمہ داری نبھا رہی ہیں۔ پہلے اور اب کے حالات میں کیا کوئی تبدیلی دیکھ رہی ہیں؟

کورونا وبا سے قبل جب میں نے پٹنہ یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کی، اس وقت کا تعلیمی ماحول ایک حد تک روایتی تھا۔ طالب علموں کی بیشتر سرگرمیاں لائبریری اور سیمینار تک محدود تھیں۔ حالانکہ میں نے اس وقت بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارم سے کافی استفادہ کیا تھا، لیکن ہمارے یہاں اُس زمانے میں یہ عام نہیں تھا۔ اب جبکہ میں اپنے مادر علمی میں بحیثیت استاد واپس آئی ہوں، تو میں نے اپنی تدریس کے لیے نئے سرے سے منصوبے بنائے ہیں۔ تدریسی زندگی کا آغاز تو ریسرچ کے دوران ہی ہو گیا تھا۔ جونیر ریسرچ فیلو کی حیثیت سے مجھے شعبہ کی دوسری ذمہ داریوں کے ساتھ باقاعدہ ایم اے کی کلاس لینے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی اور پھر ریسرچ کے بعد بطور گیسٹ لکچرر بھی درس و تدریس کی خدمات انجام دی ہے، تو اب وہ روایتی انداز تھوڑا بدلا ہے۔ اب طالب علموں کو مضمون پڑھانے کے ساتھ ساتھ انھیں ذہنی طور پر متحرک رکھنا، ڈیجیٹل وسائل کے درست استعمال کی رہنمائی کرنا بھی ہماری ذمہ داریوں میں شامل ہو گیا۔

طالب علمی کے زمانہ میں کیا شعبۂ اُردو میں آپ کچھ ایسی تبدیلی دیکھنا چاہتی تھیں، جسے اب عملی شکل دینے کی کوشش کر رہی ہوں؟

اردو کے بیشتر اساتذہ کا طریقۂ کار طالب علموں کو نصابی کتابوں اور امتحان کے نقطۂ نظر تک محدود رکھنا ہوتا ہے۔ میں یہ چاہتی ہوں کہ طلبا کو نصابی مضامین کو یاد کرنے کے بجائے ان کی دوستی متن سے ہو، جس سے کلاس روم میں سوال و جواب اوربحث و مباحثے کے ذریعے مضمون کی داخلی دنیا واضح ہو جائے۔ ساتھ ہی نصاب کے باہر کی دیگر ادبی سرگرمیوں میں بھی طلبا و طالبات کو شریک کیا جائے۔ مثلاً میری کوشش ہوتی ہے کہ کبھی ان کے درمیان کسی موضوع پر تقریری یا تحریری مقابلے کا انعقاد کیا جائے۔ کبھی بیت بازی تو کبھی نظم سنانے کا کوئی پروگرام بھی رکھا جائے، تاکہ بچوں میں تقریری اور تحریری صلاحیت تو پیدا ہو ہی، نئی نسل کی شعر فہمی سے جو دوری بڑھتی جا رہی ہے، وہ بھی کسی حد تک کم ہو۔ آج کے دور میں کمپوٹر کا علم حاصل کرنا بھی طالب علموں کے لیے از حد ضروری ہے۔ میں انھیں اس طرف بھی راغب کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ میں چاہتی ہوں کم از کم کمپیوٹر کی اتنی استعداد ان میں پیدا ہو جائے کہ وہ اپنے مضامین اور مقالے خود ٹائپ کر کے اس کی تصحیح کر سکیں۔

درس و تدریس کے دوران میں اپنے ذاتی تجربات بھی شیئر کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ جب میں انھیں بتاتی ہوں کہ میں نے اسی کلاس روم اور جہاں ابھی آپ بیٹھے ہیں، انھی بنچوں سے گزر کر یہاں تک کا سفر طے کیا ہے، تو انھیں حوصلہ ملتا ہے اور ان کی آنکھوں میں آگے بڑھنے کی لگن بھی میں محسوس کرتی ہوں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined