’جو لوگ پٹاخے جلاتے ہیں وہ غدار ہیں‘، دہلی میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی پر بی جے پی لیڈر مینکا گاندھی کا شدید ردعمل

مینکا گاندھی کے مطابق دیوالی سے 3 روز قبل تک دہلی کی ہوا صاف رہتی ہے، لیکن دیوالی کے بعد سے لے کر نئے سال تک حالات اس قدر خراب ہو جاتے ہیں کہ لوگ کھل کر سانس بھی نہیں لے پاتے۔

سوشل میڈیا 
i
user

قومی آواز بیورو

دہلی میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے متعلق بی جے پی لیڈر اور سابق مرکزی وزیر مینکا گاندھی نے پٹاخوں کے استعمال پر ایک ایسا بیان دیا ہے جو بحث کا موضوع بنا گیا ہے۔ ’اے این آئی‘ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’جو لوگ پٹاخے کا استعمال کرتے ہیں، وہ غدار ہیں اور اس حوالے سے ان کے ذہن میں کوئی دوسرا لفظ نہیں ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی مینکا گاندھی نے کہا کہ دیوالی، دشہرہ، شادیوں، نئے سال اور کرکٹ میچوں جیسے مواقع پر جب پٹاخے جلائے جاتے ہیں تو اس کا براہ راست اثر لوگوں کی صحت پر پڑتا ہے اور لوگوں کو سانس لینے میں دقت ہونے لگتی ہے۔

سابق مرکزی وزیر مینکا گاندھی کا کہنا ہے کہ ملک میں آلودگی کے لیے اکثر پرالی جلانے، گاڑیوں کی تعداد اور صنعتی وجوہات کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے، لیکن یہ مکمل سچ نہیں ہے۔ مینکا گاندھی کے مطابق دیوالی سے 3 روز قبل تک دہلی کی ہوا صاف رہتی ہے، لیکن دیوالی کے بعد سے لے کر نئے سال تک حالات اس قدر خراب ہو جاتے ہیں کہ لوگ کھل کر سانس بھی نہیں لے پاتے۔ ساتھ ہی انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر صرف دیوالی کے روز ہی دہلی میں تقریباً 800 کروڑ روپے کے پٹاخے جلائے جائیں تو اس کا ماحولیات اور صحت پر کیا اثر پڑے گا، یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے۔


مینکا گاندھی نے گرین پٹاخوں کے دعوے پر بھی سوال کھڑے کیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’گرین پٹاخے نام کی کوئی چیز دنیا میں موجود نہیں ہے اور یہ صرف لوگوں کو گمراہ کرنے کا طریقہ ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’کسی بھی طرح کے پٹاخے جلانے سے آلودگی میں ہی اضافہ ہوتا ہے، خواہ انہیں کسی بھی نام سے کیوں نہ فروخت کیا جائے۔‘‘

بی جے پی لیڈر مینکا گاندھی نے مزید کہا کہ ’’آلودگی کی وجہ سے لوگ ذہنی طور پر بھی متاثر ہو رہے ہیں اور ڈپریشن کی حالت میں پہنچ رہے ہیں۔ جب تک بارش نہیں ہوتی ہے تب تک زہریلی ہوا سے راحت ملنا مشکل ہوتا ہے۔‘‘ مینکا گاندھی نے طنز کستے ہوئے کہا کہ ’’یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ جو لوگ سب سے زیادہ پٹاخے جلاتے ہیں، وہی لوگ بعد میں حکومت اور سسٹم پر سب سے زیادہ الزام عائد کرتے ہیں۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔