سیاسی کارکنان جیل میں اور زانی ضمانت پر، عمر خالد کو ضمانت نہ ملنا عدالتی ستم ظریفی!
عدالت کا کہنا ہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام دیگر ملزمین کے مقابلے معیاری طور پر بہت مختلف حالت میں ہیں۔

جے این یو کے سابق طلبا لیڈر اور سیاسی کارکن عمر خالد کو دہلی فسادات سے متعلق ’بڑی سازش‘ کے معاملہ میں ایک بار پھر سپریم کورٹ سے ضمانت نہیں مل پائی۔ یہ معاملہ کسی عدالتی ستم ظریفی سے کم نہیں ہے۔ ایسا اس لیے، کیونکہ کئی سزا یافتہ زانی اور بدنام زمانہ جرائم پیشے پیرول یا ضمانت پر باہر گھومتے نظر آ رہے ہیں۔ عمر خالد کے معاملہ میں عدالت عظمیٰ نے نہ صرف ضمانت خارج کی ہے، بلکہ فطری طور پر آئندہ ایک سال تک ان کے رِہائی سے متعلق امکانات بھی بند کر دیے ہیں۔
واضح رہے کہ عمر خالد بغیر مقدمہ شروع ہوئے ہی 5 سال سے زیادہ وقت جیل میں گزار چکے ہیں۔ اسی معاملے میں ایک دیگر سیاسی کارکن شرجیل امام کو بھی سپریم کورٹ نے ضمانت سے محروم کر دیا۔ دونوں پر غیر قانونی سرگرمی (انسداد) ایکٹ 1967، یعنی یو اے پی اے کی دفعات لگائی گئی ہیں۔ یہ ایسا قانون ہے جس میں ضمانت ایک استثنائی حیثیت بن جاتی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اسی معاملے میں عدالت نے شریک ملزمین گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفاء الرحمن، محمد سلیم خان اور شاداب احمد کو ضمانت دے دی ہے۔ اس فیصلے سے عدالتی نظام کی سنگین خامیاں سامنے آ جاتی ہیں۔
عدالت کے ذریعہ عمر خالد کو ضمانت نہیں دیے جانے کے بعد ان کی ساتھی بانو جیوتسنا نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ ڈالی ہے۔ اس پوسٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ عمر نے دوسروں کی ضمانت ملنے پر خوشی ظاہر کی ہے۔ عمر نے کہا کہ ’’مجھے باقی لوگوں کے لیے بہت خوشی ہے، بڑی راحت ہے۔‘‘ آگے وہ لکھتی ہیں کہ ’’اپنی ضمانت خارج ہونے پر انھوں نے کہا– ملنے آ جانا۔ اب یہی زندگی ہے۔‘‘
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے کہ عمر خالد اور شرجیل امام ایک سال پورا ہونے کے بعد ہی دوبارہ ضمانت کے لیے درخواست کر سکتے ہیں۔ عدالت نے مانا کہ خالد اور امام پہلی نظر میں فسادات کے دوران ’منصوبہ بنانے اور لوگوں کو جمع کرنے میں فیصلہ کن کردار‘ ادا کر رہے تھے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ ’’اس معاملے میں دفعہ 43 ڈی (5) کی حد نافذ ہوتی ہے۔‘‘ ساتھ ہی یہ بھی جوڑا کہ ان کی مستقل حراست ’آئینی طور پر ناقابل قبول‘ کی حد پار نہیں کرتی۔
عدالت عظمیٰ کے اس رخ نے سوشل میڈیا پر تلخ بحث کی بنیاد ڈال دی ہے۔ سینئر صحافی راجدیپ سردیسائی نے لکھا ہے کہ ’’عمر خالد کو ضمانت نہیں۔ یعنی یو اے پی اے کے تحت انفرادی آزادی کی کوئی اہمیت نہیں، جبکہ 5 سال بعد بھی مقدمہ شروع نہیں ہوا ہے۔ دوسری طرف زنا اور قتل کا قصوروار رام رحیم پھر سے پیرول پر باہر ہے۔‘‘ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’2017 میں قصوروار ٹھہرائے جانے کے بعد وہ (رام رحیم) 14 بار جیل سے باہر آ چکا ہے۔ یہی ہے ہندوستان کا مجرمانہ نظامِ انصاف۔‘‘
اس معاملے میں ایک دیگر ’ایکس‘ صارف نے لکھا ہے کہ ’’قصوروار زانی رام رحیم نے جتنا وقت جیل کے باہر گزارا ہے، اتنا عمر خالد نے انڈر ٹرائل کے طور پر بھی باہر نہیں دیکھا۔ ذرا سوچیے۔‘‘ مورخ ڈاکٹر روچیکا شرما اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے لکھتی ہیں ’’آج سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت خارج کر دی۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا مشکل نہیں کہ یہ ذاتی دشمنی کا معاملہ بن چکا ہے۔ دوسری طرف زنا اور قتل کا قصوروار رام رحیم ہر کچھ مہینوں میں باہر آ جاتا ہے۔ یہ انصاف کا تماشہ ہے۔‘‘ سابق راجیہ سبھا رکن جواہر سرکار بھی کچھ ایسا ہی رد عمل ظاہر کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’حیران کرنے والا فیصلہ! 2020 کے دہلی فسادات کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل کو ضمانت نہیں دی، جس میں 36 مسلمان اور 15 ہندو مارے گئے۔ دہلی پولیس غیر فعال رہی اور یکطرفہ رویہ اختیار کیا۔ 18 فرد جرم میں سے 16 مسلمانوں کے خلاف ہیں۔ عمر خالد جائے وقوع کے پاس بھی نہیں تھے، پھر بھی 5 سال سے جیل میں ہیں۔‘‘
قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہاں رام رحیم کوئی استثنا نہیں ہے۔ حال ہی میں رائے پور میں کرسمس کے دن عیسائیوں پر حملہ کرنے کے ملزمین کو بھی ضمانت دے دی گئی۔ گجرات میں بی جے پی حکومت نے مرکز کی رضامندی سے 2022 میں بلقیس بانو اجتماعی عصمت دری معاملہ کے قصورواروں کو وقت سے پہلے رِہا کر دیا۔ اتنا ہی نہیں، ہندوتوا تنظیموں نے ان جرائم پیشوں کا مالا پہنا کر استقبال کیا تھا۔ نابالغ سے زنا کے قصوروار اور عمر قید کی سزا پائے آسا رام باپو ایک ایسی ہی مثال ہے۔ اس کو بھی بار بار میڈیکل بنیاد پر عبوری ضمانت ملتی رہی ہے۔
فہرست یہیں ختم نہیں ہوتی۔ حال ہی میں اناؤ عصمت دری واقعہ کے ملزم اور قتل کے معاملے میں قصوروار ٹھہرائے گئے بی جے پی رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کو دہلی ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی، جس پر عوامی غصہ کے بعد سی بی آئی کو سپریم کورٹ جانا پڑا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے دور میں مجرمانہ نظامِ انصاف کا کردار ہی بدل گیا ہے۔ اس حکومت میں یو اے پی اے جیسے قوانین کا استعمال عدم اتفاق کی آوازوں کو جیل میں رکھنے کے لیے ہو رہا ہے۔ دوسری طرف بی جے پی کے چہیتے اور سزا یافتہ جنسی جرائم انجام دینے والوں کے ساتھ غیر معمولی نرمی اختیار کی جا رہی ہے۔
اس معاملے میں یہ نوٹ کرنے والی بات ہے کہ حال ہی میں نیویارک کے میئر ظہران ممدانی اور کئی ڈیموکریٹک پارٹی لیڈران نے مودی حکومت کو خط لکھ کر عمر خالد کو ضمانت دینے کی اپیل کی تھی، لیکن وہ بے اثر رہی۔ بغیر مقدمہ چلے عمر خالد کا 5 سال جیل میں گزارنا صرف ایک قانونی خامی نہیں ہے، یہ اس نظام پر ایک گہرا طنز بھی ہے جہاں انفرادی آزادی اب مشروط ملتی ہے۔ اس کا ملنا حکومت کے رحم و کرم اور سیاست پر منحصر کرتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔