’آپ نے تو بھگوان کو بھی نہیں بخشا‘، سبریمالا سونا چوری معاملہ میں سپریم کورٹ نے شنکر داس کو لگائی پھٹکار، عرضی خارج
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ نے تو بھگوان کو بھی نہیں چھوڑا۔ کم از کم مندر اور بھگوان کو تو بخش دیجیے۔‘‘

کیرالہ کے مشہور سبریمالا ایپّا سوامی مندر میں سونا چوری معاملے میں سپریم کورٹ نے تراونکور دیوسوم بورڈ (ٹی ڈی بی) کے سابق رکن کے پی شنکر داس کی عرضی خارج کر دی۔ عدالت نے شنکر داس کو پھٹکار لگاتے ہوئے کہا کہ ’’آپ نے تو بھگوان کو بھی نہیں بخشا۔‘‘ پیر کو سماعت کے دوران جسٹس دیپانکر دت اور جسٹس ستیش چندر شرما کی بنچ نے کیرالہ ہائی کورٹ کے حکم میں ان کے خلاف کیے گئے تبصروں کو ہٹانے سے صاف طور پر انکار کر دیا ہے۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ نے تو بھگوان کو بھی نہیں چھوڑا۔ کم از کم مندر اور بھگوان کو تو بخش دیجیے۔‘‘
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ دیوسوم بورڈ کے رکن کے طور پر کے پی شنکر داس کی ذمہ داری مندر کی املاک کی حفاظت کرنا تھی، لیکن الزامات کے مطابق وہ سونے کی لوٹ مار اور ہیرا پھیری کے لیے بھی ذمہ دار ٹھہرائے گئے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ جرم انتہائی سنگین ہے، پھر بھی ہائی کورٹ نے آپ کی خراب صحت اور عمر کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ راحت دی تھی۔ عدالت نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کے خلاف عائد کیے گئے الزامات کمزور ہیں یا جرم کی نوعیت پر کوئی تبصرہ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کیرالہ ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ ’’کے پی شنکر داس اور کے وجے کمار سونے کی چوری اور ہیرا پھیری کی مجرمانہ سازش سے بچ نہیں سکتے۔‘‘ ہائی کورٹ کے اس تبصرہ کے بعد داس نے حکم نامے کے 5 پیراگراف کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔ سپریم کورٹ نے عرضی پر سماعت کے دوران شنکر داس کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد اسے خارج کر دیا۔ عدالت نے تسلیم کیا کہ کیرالہ ہائی کورٹ کے تبصرے معاملے کے حقائق اور ثبوتوں پر مبنی ہیں۔ انہیں ہٹانے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ سبریمالا مندر سے منسلک ہونے کی وجہ سے پہلے سے ہی سرخیوں میں تھا۔ مندر کی جائیداد میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور چوری کے الزامات نے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی تھی۔ عدالت کے اس فیصلہ کو مندر انتظامیہ کے متعلق معاملوں میں جوابدہی طے کرنے کی سمت میں ایک اہم پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ داس کی عرضی خارج ہونے کے بعد کیرالہ ہائی کورٹ کا حکم برقرار رہے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔