واشنگٹن: امریکی اپیل کورٹ نے جمعہ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے گئے بیشتر ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ واشنگٹن ڈی سی میں قائم یو ایس کورٹ آف اپیلز فار دی فیڈرل سرکٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ صدر کو قومی ایمرجنسی کے دوران کئی طرح کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں لیکن ان میں ٹیرف یا محصولات عائد کرنے کا اختیار شامل نہیں ہے۔
یہ فیصلہ ٹرمپ کی معاشی حکمتِ عملی پر بڑا جھٹکا تصور کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے البتہ 14 اکتوبر تک ٹیرف کو برقرار رکھنے کی اجازت دے دی ہے تاکہ انتظامیہ کو اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا موقع مل سکے۔
Published: undefined
فیصلے کے فوراً بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عدالت کو ’جانبدار‘ قرار دیا اور کہا کہ تمام ٹیرف بدستور نافذ رہیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر اس فیصلے کو ایسے ہی رہنے دیا گیا تو یہ امریکہ کے لیے تباہی ثابت ہوگا۔ ہم سپریم کورٹ کے ذریعے ان ٹیرف کو اپنے قومی مفاد میں استعمال کرتے رہیں گے۔‘‘
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی بیان جاری کیا جس میں انہوں نے لکھا، ’’یہ فیصلہ امریکہ کے خلاف سازش ہے۔ ٹیرف اب بھی نافذ ہیں اور آخرکار جیت امریکہ کی ہی ہوگی۔ اگر یہ ٹیرف ہٹا دیے گئے تو یہ ملک کے لیے ایک بڑی آفت ہوگی۔‘‘
Published: undefined
انہوں نے مزید کہا کہ غیر منصفانہ تجارتی پالیسیوں اور غیر ملکی رکاوٹوں نے امریکی کسانوں اور صنعت کاروں کو کمزور کیا ہے لیکن ٹیرف ہی وہ ذریعہ ہیں جن سے امریکہ دوبارہ مضبوط اور خود کفیل ہو سکتا ہے۔
یہ مقدمہ دراصل ٹرمپ کی جانب سے رواں سال اپریل میں عائد کیے گئے ’ریسپرکل ٹیرف‘ اور فروری میں چین، کینیڈا اور میکسیکو پر لگائے گئے محصولات سے متعلق تھا۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ ان ٹیرف پر لاگو نہیں ہوگا جو دیگر قوانین، مثلاً اسٹیل اور ایلومینیم پر لگائے گئے محصولات کے تحت نافذ ہیں۔
Published: undefined
ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے دفاع میں انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کا حوالہ دیا، جو 1977 کا قانون ہے اور صدر کو غیر معمولی خطرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اختیارات فراہم کرتا ہے۔ ٹرمپ پہلے امریکی صدر ہیں جنہوں نے اسی قانون کو بنیاد بنا کر ٹیرف عائد کیے۔ ان کا مؤقف ہے کہ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ، مقامی صنعت کی کمزوری اور نشہ آور اشیا کی اسمگلنگ قومی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔
تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کانگریس نے اس قانون کے ذریعے صدر کو ٹیرف عائد کرنے کا لامحدود اختیار دینے کا کبھی ارادہ نہیں کیا تھا۔ آئین کے مطابق محصولات اور ٹیکس لگانے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے اور اگر یہ اختیار صدر کو دیا بھی جاتا ہے تو وہ محدود اور واضح ہونا چاہیے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل نیویارک کی یو ایس کورٹ آف انٹرنیشنل ٹریڈ نے بھی 28 مئی کو فیصلہ دیا تھا کہ ٹرمپ نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ٹیرف نافذ کیے۔ اسی طرح ایک اور عدالت نے بھی آئی ای ای پی اے کے تحت ٹیرف لگانے کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔ اب تک آٹھ مختلف مقدمات میں ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کو چیلنج کیا جا چکا ہے، جن میں ریاست کیلیفورنیا کا مقدمہ بھی شامل ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined