میگھالیہ واقع کوئلہ کان میں زوردار دھماکہ، کم از کم 10 افراد جاں بحق

یہ کوئلہ کان ضلع کے مسنگیٹ-تھانگسکو علاقہ میں ہے۔ مقامی میڈیا کے ذریعہ دی گئی جانکاری میں بتایا گیا ہے کہ دھماکہ زوردار تھا، جس کے بعد علاقہ میں افرا تفری مچ گئی۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

میگھالیہ کے مشرقی جینتیا ہلز ضلع میں 5 فروری کو ایک کوئلہ کان میں غیر قانونی کانکنی کے دوران ڈائنامائٹ دھماکہ ہوا، جس سے کم از کم 10 لوگوں کی موت ہو گئی۔ اس دھماکہ میں ایک شخص کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ حالانکہ پولیس نے اس معاملے میں فی الحال 4 لاشیں برآمد ہونے اور ایک شخص کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

موصولہ اطلاع کے مطابق یہ کوئلہ کان ضلع کے مسنگیٹ-تھانگسکو علاقہ میں ہے۔ مقامی میڈیا کے ذریعہ دی گئی جانکاری میں بتایا گیا ہے کہ دھماکہ زوردار تھا، جس کے بعد علاقہ میں افرا تفری مچ گئی۔ مشرقی جینتیا ہلز کے پولیس سپرنٹنڈنٹ وکاس کمار کا کہنا ہے کہ دور دراز علاقہ میں واقع اس کوئلہ کان سے 4 لاشیں برآمد کی گئی ہیں اور ایک جھلسے ہوئے شخص کو علاج کے لیے شیلانگ بھیجا گیا ہے۔ مہلوکین کی شناخت فی الحال نہیں ہو سکی ہے۔


افسران کا کہنا ہے کہ دھماکہ کی خبر ملتے ہی ریاستی آفات رِسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) اور فائر بریگیڈ کے ساتھ ساتھ ایمرجنسی سروسز کی ٹیمیں جائے وقوع پر بھیجی گئی ہیں۔ افسران نے ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا ہے۔ جائے وقوع سے ملی جانکاری کے مطابق جس پہاڑی میں غیر قانونی کانکنی ہو رہی تھی، دھماکہ کے بعد اس کا ایک حصہ دھنس گیا۔ اس واقعہ میں کئی کانکنوں کے ملبہ میں پھنسنے کا اندیشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ حادثہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ضلع میں غیر قانونی کوئلہ کانکنی معاملہ پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اسی تھانگسکو علاقہ میں گزشتہ سال 23 دسمبر کو بھی ایسا ہی ڈائنامائٹ دھماکہ ہوا تھا، جس میں 2 کانکنوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس وقت پولیس نے شروع میں دھماکہ کی خبروں کو بے بنیاد بتایا تھا۔ حالانکہ میڈیا رپورٹس سامنے آنے کے بعد میگھالیہ ہائی کورٹ نے ریاست میں غیر قانونی کوئلہ کانکنی اور اس کے ٹرانسپورٹیشن کی جانچ کے لیے تشکیل یک رکنی کمیٹی (سبکدوش جج بی پی کاٹیکی کمیٹی) نے پولیس سے رپورٹ طلب کی تھی۔ میگھالیہ کے حقوق انسانی کمیشن نے بھی اس معاملے میں نوٹس لیا تھا اور ریاستی حکومت سے تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔