بدل گیا یو پی آئی ٹرانزیکشن کا طریقہ، نافذ ہوا نیا اصول

نئے اصول کے تحت یو پی آئی لین دین اور اے پی آئی رسپانس کو 10 سیکنڈ کے اندر مکمل کرنا ضروری ہوگا۔ پہلے وقت کی حد 30 سیکنڈ تھی، جس کی وجہ سے کئی بار پیمنٹ پینڈنگ ہو جاتا تھا یا تاخیر سے مکمل ہوتا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>یو پی آئی / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ہندوستان میں ڈیجیٹل پیمنٹ لوگوں کی روزمرہ زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ سبزی خریدنے سے لے کر آن لائن شاپنگ، بجلی کا بل ادا کرنے اور دوستوں کو پیسے بھیجنے تک ہر جگہ یونیفائیڈ پیمنٹ انٹرفیس (یو پی آئی) کا استعمال ہو رہا ہے۔ ایسے میں اگر یو پی آئی کے اصولوں میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو اس کا اثر کروڑوں لوگوں پر پڑتا ہے۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت، آر بی آئی اور این پی سی آئی نے فروری 2026 سے یو پی آئی کے نئے قوانین کو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان نئے قوانین کا مقصد لین دین کو مزید تیز بنانا، دھوکہ دہی سے بچانے کے لے سیکورٹی میں اضافہ کرنا، صارفین کو اپنے پیسوں اور ادائیگی پر زیادہ کنٹرول دینا ہے۔ اگر آپ گوگل پے، فون پے، پے ٹی ایم یا کسی بھی یو پی آئی ایپ کا استعمال کرتے ہیں تو آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ یو پی آئی کے کون سے نئے قوانین فروری سے نافذ ہو رہے ہیں۔

نئے قوانین کے تحت یو پی آئی لین دین اور اے پی آئی رسپانس کو 10 سیکنڈ کے اندر مکمل کرنا ضروری ہوگا۔ پہلے وقت کی حد 30 سیکنڈ تھی، جس کی وجہ سے کئی بار پیمنٹ پینڈنگ ہو جاتا تھا یا تاخیر سے مکمل ہوتا تھا۔ اب فائدہ یہ ہوگا کہ پیمنٹ جلدی مکمل ہوگا، پینڈنگ یا پروسیسنگ میں پھنسے ٹرانزیکشن کم ہوں گے، مصروف اوقات (جیسے سیل یا ماہ کے اخیر میں) بھی سسٹم بہتر کام کرے گا۔ اس سے صارفین کے ساتھ ساتھ دکانداروں کو بھی راحت ملے گی۔


اے پی آئی یعنی ایپلیکیشن پروگرامنگ انٹرفیس، اسے آپ 2 ایپ یا سسٹم کے درمیان بات کرنے کا ذریعہ سمجھ سکتے ہیں۔ جب آپ یو پی آئی سے ادائیگی کرتے ہیں تو آپ کا یو پی آئی ایپ آپ کے بینک سے پوچھتا ہے کہ کیا کھاتے میں پیسے ہیں پھر وہ سامنے والے کے بینک سے کہتا ہے کہ پیسے قبول کرو۔ یہ مکمل بات چیت اے پی آئی کے ذریعہ ہوتی ہے۔ اب اے پی آئی تیز ہوگی تو مکمل ادائیگی بھی مزید تیز اور ہموار ہوگی۔

2026 کے نئے یو پی آئی قوانین میں سیکورٹی کو اولین ترجیح دی جائے گی، خاص طور پر بڑی رقم کی لین دین کے لیے۔ اس میں اہم تبدیلی ادائیگی سے قبل واضح کنفرمیشن میسج، آٹو پیمنٹ اور سبسکرپشن کے لیے بہتر سیکورٹی ہے۔ صارفین آسانی سے اپنی سبسکرپشن کو دیکھ، مینج اور کینسل کر پائیں گے۔ اس سے غلط کٹوتی اور دھوکہ دہی کے امکانات کم ہوں گے۔


اگر کوئی یو پی آئی آئی ڈی طویل عرصہ سے استعمال نہیں ہوئی ہے تو اسے عارضی طور پر بند کیا جا سکتا ہے۔ اسے ڈورمنٹ یو پی آئی آئی ڈی کہا جائے گا، اسے دوبارہ فعال کرنے کے لیے صارف کو دوبارہ تصدیق کرانے کی ضرورت ہوگی۔ اس قانون کا مقصد ہے پرانے اور بھولے ہوئے اکاؤنٹس کا غلط استعمال روکنا۔ اب اگر یو پی آئی پیمنٹ فیل ہو جاتا ہے یا پینڈنگ رہ جاتا ہے تو بینک اور ایپس کو کچھ گھنٹوں کے اندر اس مسئلہ کو حل کرنا ہوگا۔ صارفین کو واضح طور پر بتایا جائے گا کہ پیسہ اکاؤنٹ سے ڈیبٹ ہوا ہے یا نہیں، کہاں پینڈنگ ہے، کب واپس ملے گا، اس سے صارفین کی پریشانی اور الجھن دونوں میں کمی آئے گی۔

قابل ذکر ہے کہ حکومت نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ رواں مالی سال میں دسمبر تک یو پی آئی کے ذریعہ 230 لاکھ کروڑ روپے کا لین دین ہوا۔ یہ اعداد و شمار 23-2022 کے 139 لاکھ کروڑ روپے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس سے واضح ہے کہ یو پی آئی پر لوگوں کا اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے۔ یو پی آئی اب صرف ہندوستان تک محدود نہیں ہے، بلکہ 8 ممالک میں استعمال ہو رہا ہے جس میں بھوٹان، فرانس، ماریشس، نیپال، قطر، سنگاپور، سری لنکا اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ حکومت اور این پی سی آئی مل کر بیرون ملک ’پرسن ٹو پرسن‘ (پی2پی) اور ’پرسن ٹو مرچنٹ‘ (پی2ایم) ادائیگی کو آسان بنا رہا ہے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ (جون 2025) کے مطابق یو پی آئی دنیا کی سب سے بڑی ریئل-ٹائم ریٹیل پیمنٹ سسٹم ہے۔ ’اے سی آئی ورلڈ وائڈ‘ رپورٹ 2024 کے مطابق دنیا کی مجموعی ریئل ٹائم دیجیٹل پیمنٹس میں تقریباً 49 فیصد حصہ یو پی آئی کا ہے۔