مودی حکومت اپنی غلطیوں کو چھپانے کے لیے لوک سبھا چلنے نہیں دے رہی، اسے مفلوج کر دیا ہے: کھڑگے
کھڑگے نے کہا کہ ’آج راجیہ سبھا میں پی ایم مودی عزت مآب صدر کی تقریر پر جواب دینے آئے۔ ہم انھیں سننا چاہتے تھے، لیکن ہم 4 دنوں سے دیکھ رہے ہیں کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف کو بولنے نہیں دیا جا رہا۔‘

’’4 دنوں سے لوک سبھا میں کارروائی نہیں چل رہی، کیونکہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد کو بولنے نہیں دیا جا رہا۔ دونوں ایوان کے ملنے سے ہی پارلیمنٹ بنتا ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ہی پارلیمنٹ کے ستون ہیں۔ لیکن حکومت اپنی غلطیوں کو چھپانے کے لیے ایک ایوان کو چلنے نہیں دے رہی ہے، اسے پیرالائز (معذور) کر دیا ہے۔‘‘ یہ سخت بیان آج کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھڑگے نے ایوان بالا میں دیا۔ اس کی ویڈیو انھوں نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہے جس میں وہ مرکزی حکومت کے رویے پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس ویڈیو کے ساتھ انھوں نے لکھا ہے کہ ’’مودی حکومت ملک کو دھوکہ دے رہی ہے، ملک کی بے عزتی کر رہی ہے۔ اس کے بارے میں جب لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی بولتے ہیں، تو انھیں بولنے نہیں دیا جاتا۔ یہ ملک اور جمہوریت کے لیے بالکل بھی اچھا نہیں ہے۔‘‘
آج راجیہ سبھا میں جب پی ایم مودی عزت مآب صدر کی تقریر پر شکریہ کی تحریک کا جواب دینے کے لیے کھڑے ہوئے، تو برسراقتدار طبقہ کے رویہ پر اپنا احتجاج درج کراتے ہوئے کانگریس اراکین راجیہ سبھا ایوان سے باہر نکل گئے۔ پارلیمنٹ احاطہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کھڑگے نے اپنی یہ ناراضگی ظاہر بھی کی۔ نامہ نگاروں سے انھوں نے کہا کہ ’’مودی حکومت نے عزم کر لیا ہے کہ دونوں اپوزیشن لیڈرس کو بات کرنے نہیں دینا ہے۔ نہ لوک سبھا میں اور نہ راجیہ سبھا میں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہمارے بڑے بڑے لیڈران، جنھوں نے اس ملک کے لیے قربانی دی، جنھوں نے اس ملک کے لیے جنگیں لڑیں، جیلوں میں گئے اور انگریزوں کے خلاف لڑ کر ملک کو آزادی دلائی، ان لیڈران کے خلاف ایک آدمی ایوان میں بولتا ہے۔ اسے مائک دیا جاتا ہے، وہ مائک پر منمانی گالیاں دیتا ہے اور حکومت والے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ کیا بی جے پی والوں نے کبھی اس کی مذمت کی ہے؟‘‘ انھوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’سبھی اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران نے یہ طے کیا ہے کہ اگر وہ ہمیں بات کرنے نہیں دیں گے، تو ہمیں واک آؤٹ کرنا چاہیے، احتجاج کرنا چاہیے۔ خصوصاً ہمارے لیڈران کے بارے میں جو بے عزتی کی گئی ہے، اس کی بھی ہم مذمت کرتے ہیں۔‘‘
پارلیمنٹ احاطہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کھڑگے کی ویڈیو کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کی ہے۔ اس میں وہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ ’’آج راجیہ سبھا میں وزیر اعظم نریندر مودی عزت مآب صدر جمہوریہ جی کی تقریر پر جواب دینے آئے تھے۔ ہم انھیں سننا چاہتے تھے، لیکن ہم 4 دنوں سے دیکھ رہے ہیں کہ لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی جی کو بولنے نہیں دیا جا رہا ہے۔‘‘ انھوں نے ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ سے متعلق نامہ نگاروں سے کہا کہ ’’نریندر مودی نے امریکہ کے ساتھ ٹریڈ ڈیل کر ملک کے کسانوں کے مفادات کی قربانی دی ہے۔ جو ٹرمپ کہتے ہیں، مودی وہی کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔‘‘
کانگریس صدر کا کہنا ہے کہ ’’ہم پارلیمنٹ میں جمہوریت، سماجی انصاف، نوجوانوں کے روزگار اور ٹرمپ کے بیان پر اپنی بات رکھنا چاہتے تھے۔ ہم سبھی اپوزیشن پارٹیوں نے یہ طے کیا تھا کہ اگر لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد کو بولنے دیا گیا، تو ہم وزیر اعظم کی بات ضرور سنیں گے۔ ہم کوئی ہنگامہ کھڑا نہیں کر رہے تھے، لیکن ہمارے لگاتار کہنے کے بعد بھی راہل گاندھی جی کو ایوان میں بولنے نہیں دیا گیا۔ ایسا لگتا ہے کہ برسراقتدار طبقہ نے ٹھان لیا ہے کہ دونوں ایوانوں کے اپوزیشن لیڈر کو بولنے نہیں دینا ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’اگر میری بات سنی جاتی تو یہ مسئلہ ختم ہو سکتا تھا، لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’پنڈت نہرو جی نے جدید ہندوستان کی تعمیر کی ہے، اور اندرا گاندھی نے ملک کو بیدار کیا ہے۔ ایسے لوگوں کو ایوان میں بھلا برا کہا جاتا ہے، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ مودی حکومت ہمارے لیڈران کی بے عزتی کرتی ہے اور اپوزیشن کو اپنی بات رکھنے نہیں دیتی، اس لیے ہم نے اس کی مذمت کی اور ایوان سے واک آؤٹ کر دیا۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔