روس سے تیل نہ خریدنے کے متعلق ڈونالڈ ٹرمپ کے دعوے پر ہندوستان کا آیا جواب
وزارت خارجہ نے کہا کہ ’’ہم اپنی ضرورت کے مطابق دنیا کے کسی بھی ملک سے تیل خرید سکتے ہیں۔ ہندوستان کے تمام فیصلے اسی بات کو ذہن میں رکھ کر لیے گئے ہیں اور لیے جائیں گے۔‘‘

ہندوستان نے امریکہ کے ان دعووں کو خارج کر دیا ہے، جس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’’وزیر اعظم نریندر مودی روس سے تیل نہ خریدنے پر راضی ہوئے ہیں۔‘‘ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ہندوستانی حکومت کئی بار عوامی طور پر کہہ چکی ہے کہ 1.4 عرب ہندوستانیوں کے لیے توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانا ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ بازار کے حالات اور بدلتی ہوئی بین الاقوامی صورتحال کے مطابق ہم توانائی کی خریداری میں تنوع لاتے ہیں۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ ’’ہم اپنی ضرورت کے حساب سے دنیا کے کسی بھی ملک سے تیل خرید سکتے ہیں۔ فیصلہ قومی مفاد کے تحت لیا جائے گا۔ ہندوستان کے تمام فیصلے اسی بات کو ذہن میں رکھ کر لیے گئے ہیں اور لیے جائیں گے۔‘‘ دوسری جانب روس نے بھی کہا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ توانائی تعاون جاری رہے گا۔ روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ’’ہندوستان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں ہے، ہماری تجارت دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہے۔‘‘
وینزویلا سے تیل خریدنے کے متعلق وزارت خارجہ نے کہا کہ ’’وینزویلا توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں طویل عرصے سے ہمارا شراکت دار رہا ہے۔ ہم 20-2019 تک وینزویلا سے توانائی اور خام تیل درآمد کر رہے تھے، جس کے بعد ہمیں اسے روکنا پڑا۔ پھر ہم نے 24-2023 میں وینزویلا سے تیل خریدنا شروع کیا لیکن دوبارہ پابندی عائد ہونے کے بعد ہمیں اسے روکنا پڑا۔‘‘
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے ڈونالڈ ٹرمپ سے فون پر بات کی اور ٹیرف میں کمی کے لیے امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اب میڈ ان انڈیا پروڈکٹس 18 فیصد کم ٹیرف پر امریکہ کو برآمد کی جائیں گی۔ اس ٹریڈ ڈیل سے ہماری برآمدات اور ہندوستان میں محنت کش صنعتوں کو بڑا فروغ حاصل ہوگا۔ نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ہمارے لوگوں کے لیے ترقی اور خوشحالی آئے گی۔
ایران میں یرغمال بنائے گئے 16 ہندوستانیوں کے متعلق وزارت خارجہ نے کہا کہ ’’ہمیں ایران میں 16 ملاحوں سے ملنے کی اجازت مل گئی ہے۔ بندر عباس میں ہمارے افسران نے ان سے ملاقات کی ہے۔ ایرانی افسران کے مطابق ان 16 میں سے 8 افراد کو رہا کر دیا گیا ہے اور وہ گھر لوٹ رہے ہیں۔ بقیہ 8 کے متعلق ہم ایرانی افسران کے رابطے میں ہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ ہم ان کی سب سے اچھی مدد کر سکتے ہیں۔‘‘