
افغان سکیورٹی اہلکار/ فوٹو سوشل میڈیا
پاکستان نے ہفتے اوراتوار کی درمیانی شب افغانستان کے سرحدی علاقوں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ایئر اسٹرائیک کی۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں ان دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جو پاکستان کے اندر حالیہ خودکش حملوں کے ذمہ دار تھے۔ بتایا جارہا ہے کہ ان فضائی حملوں میں 19 لوگوں کی موت ہوگئی ہے۔ پاکستان کے وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اتوار کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ فوج نے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اوراس سے منسلک تنظیموں کے 7 کیمپوں کے خلاف خفیہ معلومات پرمبنی آپریشن کئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرحدی علاقے میں اسلامک اسٹیٹ سے وابستہ ایک گروپ کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔
Published: undefined
اگرچہ پاکستان نے حملوں کی صحیح جگہ کی وضاحت نہیں کی لیکن سوشل میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ ایئراسٹرائیک افغانستان کے اندر ہوئی ہے۔ دریں اثنا افغان حکومت نے بھی اس حملے کے حوالے سے بیان جاری کیا ہے۔ افغان حکومت نے کہا کہ پاکستان نے مدرسے پر حملہ کیا اور دعویٰ کیا کہ حملوں میں 19 عام لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ افغانستان نے ان حملوں کا بدلہ لینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
Published: undefined
’طلوع نیوز‘ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستانی فضائیہ نے افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں ایک دینی مدرسے پر حملہ کیا۔ اس کے علاوہ پاکستانی جیٹ طیاروں نے صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانی میں بھی کئی فضائی حملے کیے جن میں پکتیکا کے برمل اور ارگن کے ساتھ ساتھ ننگرہار کے اضلاع خوگیانی، بہسود اور غنی خیل میں بھی فضائی حملے کیے گئے۔ یہ کارروائی صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں ایک حالیہ خودکش حملے کے بعد ہوئی ہے جس میں 11 فوجی اور ایک بچے کی موت ہوگئی تھی۔ اس کے علاوہ ضلع بنوں میں ایک اور خودکش حملے میں لیفٹیننٹ کرنل سمیت دو فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستان نے الزام لگایا کہ ان حملوں کے پیچھے افغانستان میں مقیم ٹی ٹی پی قیادت کا ہاتھ ہے۔
Published: undefined
تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)افغان طالبان سے الگ ہے لیکن اس کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے الزام لگاتا رہا ہے کہ ٹی ٹی پی کے جنگجو پاکستان میں حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرتے ہیں۔ تاہم کابل اور ٹی ٹی پی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں واپسی کے بعد سے دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات مسلسل کشیدہ ہیں۔ اس صورتحال میں گزشتہ سال سرحدی جھڑپوں میں متعدد فوجیوں اور شہریوں کی جانیں گئی تھیں۔ حال ہی میں قطر کی ثالثی میں ہوئی جنگ بندی فی الحال برقرار ہے لیکن ابھی تک کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined