طلبہ یونین کے انتخابات اب شیڈول کے مطابق ہی ہوں گے، یونیورسٹی نے منسوخی کا اپنا فیصلہ واپس لیا
پٹنہ یونیورسٹی نے طلبہ یونین کے انتخابات کو منسوخ کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ انتخابات کو ابتدائی طور پر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور ڈسپلن کی وجہ سے ملتوی کیا گیا تھا۔

پٹنہ یونیورسٹی اسٹوڈنٹ یونین کے انتخابات کو لے کر ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے ۔ چند گھنٹوں کے اندر پٹنہ یونیورسٹی نے طلبہ یونین کے انتخابات کو منسوخ کرنے کا اپنا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ اب انتخابات 28 فروری کو ہوں گے۔
کل شام یعنی21 فروری کو، کئی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے، پٹنہ یونیورسٹی نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا کہ طلبہ یونین کے انتخابات کو اگلے نوٹس تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس کے بعد مختلف طلبہ تنظیموں کے سینکڑوں طلبہ پٹنہ یونیورسٹی پہنچے اور احتجاج شروع کیا۔
طلباء کے ہنگامے نے یونیورسٹی کے عملے کو چونکا دیا۔ ڈین آف اسٹوڈنٹ ویلفیئر (ڈی ایس ڈبلو) یوگیش کمار فوراً وہاں پہنچے اور ایک تحریری حکم نامہ سونپا جس میں کہا گیا تھا کہ حالات کو دیکھتے ہوئے طلبہ یونین کے انتخابات 28 فروری کو ہوں گے۔ اس کے بعد طلبہ پرسکون ہوگئے۔ انتخابات ملتوی کرنے کا نوٹیفکیشن خود یوگیش کمار نے جاری کیا تھا، لیکن ڈی ایس ڈبلیو نے صورتحال کی روشنی میں جلد بازی میں یہ فیصلہ کیا۔
واضح رہے کہ کل شام یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کیمپس میں گزشتہ دنوں متعدد ایسے واقعات پیش آئے جن میں انتخابی ضابطہ اخلاق اور تعلیمی نظم و ضبط کو چیلنج کیا گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ طالبات کا ایک گروپ پٹنہ ویمنس کالج کیمپس میں بغیر اجازت کے داخل ہوا اور نعرے لگائے۔ یونی ورسٹی انتظامیہ نے اس کو سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ پرنٹ شدہ بینرز اور پوسٹرز کا استعمال، مہنگے فور وہیلر کا استعمال کرتے ہوئے انتخابی مہم چلانے اور مقررہ وقت سے پہلے انتخابی مہم شروع کرنے کو بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ کل 21 فروری کو پٹنہ کے سائنس کالج میں کچھ طلباء کے کلاس روم میں گھس کر اساتذہ اور یونیورسٹی کے اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی کرنے کے واقعہ نے انتظامیہ کو سخت کارروائی کرنے پر مجبور کر دیا۔
یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں منصفانہ اور پرامن انتخابات کا انعقاد ناممکن ہے۔ یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ طلبہ یونین کے انتخابات اگلے احکامات تک ملتوی کئے جاتے ہیں۔