بنگلہ دیش: طارق رحمان حکومت امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کا تجزیہ کرے گی
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے دوران امریکہ کے ساتھ طے پانے والے تجارتی معاہدے کے حوالے سے طارق رحمان حکومت نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش اب امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کا تجزیہ کرے گا۔

امریکی سپریم کورٹ نے مختلف ممالک پر ڈونلڈ ٹرمپ کے محصولات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں منسوخ کر دیا۔ دریں اثنا، طارق رحمان کی حکومت نے کل یعنی21 فروری کو کہا کہ بنگلہ دیش ٹرمپ انتظامیہ کے من مانی محصولات کی منسوخی کے بعد امریکہ کے ساتھ اپنے تجارتی معاہدے پر نظرثانی کرے گا۔
بنگلہ دیش کی وزارت تجارت کے ڈبلیو ٹی او ونگ کی سیکرٹری خدیجہ نازنین نےروزنامہ ’دی ڈیلی اسٹار ‘کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش پہلے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کا تجزیہ کرے گا اور پھر کوئی فیصلہ کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش امریکہ تجارتی معاہدے میں بھی ایگزٹ شق ہے۔ یہ معاہدے میں ایک شرط ہے جس کے تحت دونوں ممالک پہلے سے طے شدہ قواعد کے مطابق معاہدہ ختم کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ "ایگزٹ شق کا ذکر صرف بنگلہ دیش کے معاملے میں کیا گیا ہے۔ اس شق کا ذکر کسی دوسرے ملک کے ساتھ نہیں ہے جس کے ساتھ امریکہ نے معاہدہ کیا ہے۔ اس لیے ہم حکومتی پالیسی کی بنیاد پر فیصلہ کریں گے۔" بنگلہ دیش نے 9 فروری کو محمد یونس کی قیادت میں امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کی وزارت تجارت کے ایک اہلکار نے بتایا کہ امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی معاہدے کو کالعدم قرار دیا گیا ہے، یعنی اب امریکی فیصلے کا اطلاق بنگلہ دیش پر نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا، "ہم جلد ہی اس پر تفصیل سے بات کریں گے اور ضروری کارروائی کریں گے۔ بنگلہ دیش کے ساتھ معاہدہ کالعدم ہونے کا امکان ہے، کیونکہ پورا معاہدہ کالعدم ہو چکا ہے۔"