امریکی سپریم کورٹ کے ذریعہ ٹرمپ کے ٹیرف منسوخی سے سرخیوں میں ہند نژاد نیل کاتیال
کاتیال نے کہا کہ آج امریکہ کی سپریم کورٹ نے قانون کی حکمرانی اور پورے امریکہ کے لیے اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔ اس فیصلے کا پیغام صاف تھا کہ صدر طاقتور ہوتے ہیں لیکن ہمارا آئین اس سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔

امریکہ کے سابق قائم مقام سالیسٹرجنرل نیل کاتیال سپریم کورٹ کے ایک تاریخی فیصلے کے چہرے کے طور پرابھرے ہیں جس میں صدرڈونالڈ ٹرمپ کے وسیع ٹیرف کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کے 1977 کے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (آئی ای ای پی اے) کا استعمال کرکے ہر تجارتی شراکت دار پر ٹیرف لگانے کے فیصلے کوغیرمنصفانہ اورغیرآئینی ٹیکس قراردیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کاتیال نے کہا کہ آج امریکہ کی سپریم کورٹ نے قانون کی حکمرانی اور پورے امریکہ کے لیے اپنا مؤقف پیش کیا۔ پیغام صاف تھا کہ صدر طاقتور ہوتے ہیں لیکن ہمارا آئین اس سے بھی زیادہ طاقتور ہے۔ امریکہ میں صرف کانگریس ہی امریکی عوام پر ٹیکس لگا سکتی ہے۔
یہ مقدمہ چھوٹے تاجروں کی جانب سے دائر کیا گیا تھا اور اس کو لبرٹی جسٹس سینٹر کی حمایت حاصل تھی۔ ٹرمپ نے قومی سلامتی اوراقتصادی فائدے کے لیے ٹیرف کو ضروری قرار دیتے ہوئے تجارتی نقصانات اور فینٹینائل کی زیادہ مقدار سے ہونے والی اموات کو قومی ایمرجنسی بتایا تھا۔ کاتیال نے اس فیصلے کو آئینی نقطہ نظر سے ایک اہم کامیابی بتایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سپریم کورٹ نے ہمارے قانونی معاملات میں ہمارا ہرمطالبہ پورا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ ہمیشہ سے عہدۂ صدارت سے وابستہ رہا ہے، کسی ایک صدر سےنہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہورہی ہے کہ ہماری سب سے بڑی عدالت جو گزشتہ 250 سالوں سے ہماری حکومت سنگ بنیاد رہی ہے، ہماری بنیادی اقدار کی حفاظت کر رہی ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سرخیوں میں آئے کاتیال شکاگو میں ہندوستانی تارکین وطن والدین (ایک ڈاکٹر اور ایک انجینئر) کے ہاں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنا کیریئراہم آئینی مقدمات میں پیروی کرتے ہوئے بنایا ہے۔ وہ ڈارٹ ماؤتھ کالج اور ییل لا اسکول سے گریجویٹ ہیں اورانہوں نے امریکی سپریم کورٹ کے جسٹس اسٹیفن بریئر کے کلرک کے طور پر کام کیا۔ 2010 میں صدر براک اوباما کی طرف سے قائم مقام سالیسٹر جنرل مقرر کیے جانے کے بعد کاتیال نے امریکی سپریم کورٹ اور اپیلی کورٹس میں وفاقی حکومت کی نمائندگی کی۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے سامنے 50 سے زائد مقدمات میں پیروی کی ہے جو اقلیتی وکلاء کے لیے ایک ریکارڈ ہے۔