ہندوستانی مسلم مذہبی رہنماؤں پر برسے جاوید اختر، افغانستان میں شوہروں کو اپنی اہلیہ کو مارنے کی آزادی

جاوید اختر نے اس قانون کی مخالفت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی ہے۔ انہوں نے ملک کے اسلامی مذہبی رہنماؤں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس فیصلے کی مخالفت کریں۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ملک کے نامور گیت نگار اور مصنف جاوید اختر نے خواتین کے حوالے سے طالبان کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ملک کے مفتیوں اور مولاناوں کی خاموشی پر کڑی تنقید کی ہے۔ اس فیصلے پرشدید اعتراض کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے ملک کے مفتیوں اور مولاناوں کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا ہے۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت نے حال ہی میں ایک نیا تعزیری ضابطہ لاگو کیا ہے ۔ اب شوہروں کو اپنی بیویوں کے ساتھ جسمانی زیادتی کرنے کی آزادی ہے۔

جاوید اختر نے اس قانون کی مخالفت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی ہے۔ انہوں نے ملک کے اسلامی مذہبی رہنماؤں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس فیصلے کی مخالفت کریں اور اس کے خلاف بات کریں۔ انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ طالبان نے اب بیوی کو مارنے کو قانونی حیثیت دے دی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہڈیاں نہ ٹوٹیں۔ انہوں نے لکھا کہ اگر کوئی خاتون اپنے شوہر کی رضامندی کے بغیر اپنے والدین کے گھر جاتی ہے تو اسے تین ماہ قید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جاوید اختر نے سوال کیا کہ ہندوستان کے مفتی اور ملا اس معاملے پر کیوں خاموش ہیں؟ انہوں نے ان سے اپیل کی کہ وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ اور بغیر کسی شرط کے اس کی مذمت کریں۔ یہ سب کچھ مذہب کی آڑ میں کیا جا رہا ہے۔


جاوید اختر نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ سیاسی فائدہ چاہے کوئی بھی ہو، ہمیں ان غیر مہذب، وحشی طالبان پر کوئی اعتماد یا عزت نہیں کرنی چاہیے۔  درحقیقت افغانستان میں ایک نیا تعزیری ضابطہ طالبان حکومت نے نافذ کیا ہے۔ تقریباً 90 صفحات پر مشتمل اس دستاویز پر سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے دستخط ہیں۔ اسے جلد ہی وہاں کی عدالتوں میں پیش کیا جائے گا۔ یہ قانون دو حصوں میں منقسم ہے، اعلیٰ طبقہ اور نچلا طبقہ۔ سزا کا تعین کسی شخص کی سماجی حیثیت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس قانون کے تحت خواتین کو غلاموں کا درجہ دے دیا گیا ہے۔