فکر و خیالات

انسانی اخلاقیات کا مذہبی تصور…ایف اے مجیب

اسلام سب سے پہلے یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم کائنات میں خود مختار نہیں بلکہ جوابدہ ہیں اور یہی احساس اخلاق کی اصل بنیاد ہے۔ آخرت محض عقیدہ نہیں بلکہ ایک زندہ شعور ہے، جو انسان کے ہر عمل کو معنی دیتا ہے

<div class="paragraphs"><p>&nbsp;علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

 علامتی تصویر / اے آئی

 

عصرِ حاضر میں اخلاقیات، تہذیب اور انسانی ذمہ داری کے حوالے سے ایک بنیادی بحث پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ جدید دنیا، خصوصاً مغربی فکری نظام، یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ انسان مذہب اور خدا کے تصور کے بغیر بھی ایک مہذب، ذمہ دار اور اخلاقی زندگی گزار سکتا ہے۔ عقل، قانون، سائنسی شعور اور سماجی اقدار کو اخلاقیات کی بنیاد قرار دیا گیا۔ لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں عالمی سطح پر سامنے آنے والے مسلسل اخلاقی، سیاسی اور سماجی بحرانوں نے اس دعوے کو سنجیدہ سوالات کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ انسان علم، طاقت یا ترقی حاصل کر سکتا ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ ان سب کے باوجود اخلاقی بھی رہ سکتا ہے؟

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ علم خود بخود اخلاق پیدا نہیں کرتا۔ سائنس انسان کو یہ تو بتا دیتی ہے کہ کیا ممکن ہے، مگر یہ نہیں بتاتی کہ کیا درست ہے۔ طاقت انسان کو اختیار دیتی ہے، مگر اسے خود احتسابی نہیں سکھاتی۔ دولت انسان کے لیے سہولتیں پیدا کرتی ہے، مگر اس کے اندر انصاف اور رحم خود سے نہیں جگاتی۔ یہی وجہ ہے کہ جب انسان اپنے آپ کو کسی بالاتر ہستی کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتا تو اس کی عقل، طاقت اور آزادی اکثر اس کے نفس کی غلام بن جاتی ہے۔

Published: undefined

یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام کا اخلاقی تصور انسانی تاریخ میں ایک منفرد اور ہمہ گیر حیثیت رکھتا ہے۔ اسلام کوئی نیا یا وقتی مذہب نہیں بلکہ وہ دینِ فطرت ہے جو حضرت آدمؑ کے ساتھ شروع ہوا، مختلف انبیاء کے ذریعے انسانیت کی رہنمائی کرتا رہا، اور حضرت محمد ﷺ پر اپنی آخری اور مکمل شکل میں ظاہر ہوا۔ اسلام انسان کو سب سے پہلے یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ کائنات میں خود مختار نہیں بلکہ جواب دہ ہے، اور یہی احساس اخلاق کی اصل بنیاد ہے۔

اسلامی فکر میں اخلاقیات کا مرکز تصورِ آخرت ہے۔ آخرت محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ ایک ہمہ وقت زندہ شعور ہے جو انسان کے ہر عمل کو معنی دیتا ہے۔ یہ تصور انسان کو بتاتا ہے کہ زندگی صرف یہی چند دہائیاں نہیں، بلکہ اس کے بعد ایک ایسی زندگی ہے جہاں ہر چھوٹے بڑے عمل کا حساب ہوگا۔ وہاں نہ طاقت کام آئے گی، نہ دولت، نہ عہدہ، اور نہ ہی کسی نظام یا ادارے کی پشت پناہی۔ انسان اگر دنیا کی عدالتوں سے بچ بھی جائے تو خدا کی عدالت سے بچ نہیں سکتا۔ یہی وہ یقین ہے جو انسان کو تنہائی میں بھی اخلاقی بناتا ہے، جہاں نہ قانون کی گرفت ہوتی ہے، نہ سماج کا دباؤ، اور نہ ہی کسی کی نظر۔

Published: undefined

اسلام میں خدا کا خوف محض سزا کا خوف نہیں بلکہ ایک گہری داخلی ذمہ داری ہے۔ یہ خوف دراصل اس شعور کا نام ہے کہ انسان کا ہر عمل ایک دن اس کے سامنے پیش ہوگا جس نے اسے پیدا کیا۔ یہی احساس انسان کو ظلم سے روکتا ہے، خواہشات کو حدود میں رکھتا ہے، اور طاقت کو امانت سمجھنے کا سبق دیتا ہے۔ اسی لیے اسلام میں حکمران اور عام فرد، عالم اور جاہل، امیر اور غریب سب ایک ہی اصول کے تحت جواب دہ ہیں۔ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خود کو قانون، اخلاق یا احتساب سے بالاتر سمجھے۔

اس کے مقابلے میں سیکولر اخلاقیات عموماً قانون، سماجی قبولیت اور ذاتی مفاد کے گرد گھومتی ہیں۔ جب تک قانون مضبوط ہو اور سماج محتسب بنا رہے، تب تک ایک حد تک نظم قائم رہتا ہے، مگر جیسے ہی انسان طاقتور ہو جاتا ہے، قانون اس کے لیے کمزور پڑنے لگتا ہے۔ دولت قوانین کو موڑ لیتی ہے، اثر و رسوخ احتساب کو معطل کر دیتا ہے، اور سماجی دباؤ مخصوص طبقوں کے لیے بے معنی ہو جاتا ہے۔ ایسے میں اگر انسان کے اندر آخرت کی جواب دہی کا احساس نہ ہو تو اخلاق محض ایک ظاہری لبادہ بن کر رہ جاتا ہے۔

Published: undefined

اکثر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ مذہبی معاشروں اور مذہبی اداروں میں بھی اخلاقی جرائم ہوتے ہیں، جو بظاہر مذہب کی اخلاقی بالادستی پر سوال اٹھاتے ہیں۔ یہ اعتراض اپنی جگہ درست ہے کہ کوئی معاشرہ یا ادارہ فرشتوں پر مشتمل نہیں۔ مگر یہاں ایک بنیادی فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ مذہبی نظام میں جرم کرنے والا فرد اپنے ہی عقیدے، تعلیمات اور اخلاقی اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اس کا مذہب اسے مجرم قرار دیتا ہے، قانون اس کے خلاف حرکت میں آتا ہے اور سماج اسے قابلِ مذمت سمجھتا ہے۔ وہ نظام کا نمائندہ نہیں بلکہ اس سے انحراف کرنے والا ہوتا ہے۔

اس کے برعکس وہ معاشرے جہاں خدا، آخرت اور جواب دہی کا تصور کمزور یا غیر متعلق سمجھا جانے لگے، وہاں اخلاقی جرائم اکثر فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے نظام میں سرایت کر جاتے ہیں۔ جرم طاقت کے ساتھ جڑ جاتا ہے، ادارے مجرم کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، اور اخلاقی بگاڑ معمول بن جاتا ہے۔ یہاں مسئلہ کسی ایک شخص کی گمراہی نہیں بلکہ پوری تہذیب کی اخلاقی سمت کا ہوتا ہے۔

Published: undefined

اسلام انسان کو یاد دلاتا ہے کہ آزادی مطلق نہیں بلکہ مشروط ہے، طاقت حق نہیں بلکہ امانت ہے، اور علم برتری نہیں بلکہ ذمہ داری ہے۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کی عقل، قوت اور اختیار سب خدا کی عطا ہیں اور ان سب کا ایک دن حساب دینا ہے، تو وہ خود کو اخلاقی حدود کا پابند سمجھتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اسلامی اخلاقیات کو محض قانونی یا سماجی اخلاقیات سے کہیں بلند کر دیتا ہے۔

انسانی تاریخ بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ علم بغیر اخلاق کے خطرناک، طاقت بغیر جواب دہی کے تباہ کن، اور آزادی بغیر حدود کے درندگی میں بدل جاتی ہے۔ اسلام ان سب کے مقابلے میں انسان کو ایک متوازن راستہ دکھاتا ہے، جہاں دنیا کی کامیابی کو آخرت کی جواب دہی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اخلاق کوئی ثانوی یا اختیاری چیز نہیں بلکہ ایمان کا لازمی نتیجہ ہے۔

Published: undefined

آخرکار سوال یہی ہے کہ تہذیب کا اصل محافظ کون ہے؟ قانون، طاقت، سائنس یا اخلاقی فلسفے؟ یا پھر وہ شعور جو انسان کو یہ یاد دلاتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں، بے لگام نہیں اور بے حساب نہیں۔ تاریخ کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ خدا، آخرت اور حساب کے تصور کے بغیر اخلاق اکثر ایک نظری دعویٰ بن کر رہ جاتا ہے، مگر ان کے ساتھ اخلاق ایک زندہ حقیقت بن جاتا ہے۔ اور یہی حقیقت کسی بھی تہذیب کو انسانیت کے دائرے میں رکھ سکتی ہے، ورنہ تہذیب کا لباس بدل جاتا ہے، مزاج نہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined