پارلیمانی ضابطوں اور روایات سے روگردانی تشویش ناک ہے...سہیل انجم

صدر کے خطاب پر شکریہ کی تحریک کے دوران راہل گاندھی کو اقتباس پڑھنے سے روکا گیا اور وزیر اعظم لوک سبھا میں جواب دینے نہیں آئے۔ اپوزیشن نے اسے ضابطہ کی خلاف ورزی اور پارلیمانی روایات سے انحراف قرار دیا

<div class="paragraphs"><p>لوک سبھا میں راہل گاندھی / ویڈیو گریب</p></div>
i
user

سہیل انجم

پارلیمانی نظام حکومت میں جہاں پارلیمانی اجلاس کی کارروائی چلانے کے لیے ضابطہ ہوتا ہے وہیں پارلیمانی روایات بھی ہوتی ہیں اور اپنی اپنی جگہ پر ان دونوں کی اہمیت ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ برسوں سے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ ضابطوں کی بھی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور روایات کی بھی۔ پارلیمانی ضابطے کے مطابق جب صدر جمہوریہ پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہیں تو اس پر پیش کی جانے والی شکریہ کی تحریک پر بحث ہوتی ہے اور آخر میں وزیر اعظم بحث کا جواب دیتے ہیں۔ اس کے بعد ہی شکریہ کی تحریک منظور کی جاتی ہے۔

لیکن رواں سال کا بجٹ پیش کیے جانے کے بعد جب صدر دروپدی مورمو نے ایوان سے خطاب کیا اور اس کے بعد جب اس پر بحث شروع ہوئی تو ایک تو حزب اختلاف کے قائد اور سینئر کانگریس رہنما راہل گاندھی کو بولنے نہیں دیا گیا اور دوسرے یہ کہ وزیر اعظم جواب دینے کے لیے لوک سبھا میں آئے ہی نہیں۔ انھوں نے راجیہ سبھا میں تو ایک گھنٹے کی تقریر کی لیکن لوک سبھا سے غائب رہے۔ وہ لوک سبھا میں کیوں نہیں آئے اس پر کانگریس کا کہنا ہے کہ ان کے پاس راہل گاندھی کے اٹھائے گئے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔ انھوں نے چینی افواج کی جانب سے ہندوستانی افواج پر ہونے والے حملے کے سلسلے میں سوالات اٹھائے تھے۔ یہ سوالات انھوں نے اپنی جانب سے نہیں گھڑے بلکہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی کتاب کے حوالے سے اٹھائے۔

جب راہل گاندھی نے مذکورہ کتاب کے کچھ اوراق کی نقل ایوان میں لہرائی اور اس میں سے کچھ پڑھنا چاہا تو انھیں روک دیا گیا۔ ایم ایم نرونے نے اپنی کتاب ”فور اسٹارز آف ڈیسٹنی“ میں 2020 میں پیش آنے والے اس واقعے کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ چین سے ٹکراؤ کے وقت سیاسی قیادت کوئی رہنمائی کرنے میں ناکام رہی۔ یاد رہے کہ اس ٹکراؤ میں بیس ہندوستانی جوان ہلاک ہوئے تھے۔ میڈیا میں آنے والی تفصیلات جو کہ کارواں میگزین میں شائع ہوئی ہیں، حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق 31 اگست 2020 کی شب میں مشرقی لداخ میں چینی ٹینک ہندوستانی ٹھکانوں سے چند سو میٹر کی مسافت تک آگئے تھے، ہندوستانی توپیں تیار کھڑی تھیں مگر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

کارواں کے مطابق اس موقع پر فوجی قیادت سیاسی قیادت سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ صحافی کے پی ملک نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ فوج کی اعلیٰ قیادت حکومت کے ذمہ داروں سے ڈھائی گھنٹے تک فون پر رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتی رہی لیکن ادھر سے خاموشی اختیار کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ جنرل نرونے کی کتاب میں لکھا ہے کہ فوجی قیادت نے وزیر دفاع، وزیر خارجہ، قومی سلامتی کے مشیر، چیف آف ڈیفنس اسٹاف کو مطلع کیا۔ لیکن فیصلہ کرنے میں تاخیر کی جاتی رہی۔ وقت نکلا جا رہا تھا۔ بالآخر وزیر اعظم سے گفتگو ہوئی۔ ہدایت دی گئی کہ جو مناسب سمجھو وہ کرو۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے جنرل نرونے نے لکھا کہ ”انھیں گرم آلو تھما دیا گیا۔“ فیصلہ فوجی تھا لیکن جوکھم سیاسی تھا اور سیاست نے اپنے ہاتھ پیچھے کھینچ لیے تھے۔


راہل گاندھی لوک سبھا میں یہی اقتباس پیش کرنا چاہتے تھے لیکن حکومت کی جانب سے ان کو روکنے کے لیے پوری طاقت لگا دی گئی۔ اسپیکر اوم برلا، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، وزیر داخلہ امت شاہ اور پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو تک سب نے شدید مخالفت کی۔ راج ناتھ سنگھ نے یہاں تک کہا کہ یہ کتاب شائع ہی نہیں ہوئی ہے اور جو کتاب شائع نہیں ہوئی اس کا اقتباس کیسے پڑھا جا سکتا ہے۔ میڈیا میں یہ خبر آئی کہ حکومت نے اس کتاب کی اشاعت کی اجازت نہیں دی ہے۔ اس نے آج تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ لیکن اگلے روز راہل گاندھی وہی کتاب لے کر پارلیمنٹ پہنچ گئے۔ انھوں نے میڈیا کو کتاب دکھاتے ہوئے کہا کہ وہ یہ کتاب وزیر اعظم مودی کو پیش کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ نہیں آئیں گے۔ کیونکہ ان کے پاس سچ کا سامنا کرنے کی قوت نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کتاب تو چھپ گئی ہے مگر پبلک کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

بہرحال وزیر اعظم نریندر مودی لوک سبھا میں نہیں آئے۔ انھوں نے راجیہ سبھا میں طویل تقریر کی اور کانگریس پر وہی سب الزامات لگائے جو وہ پہلے لگاتے رہے ہیں۔ اس بار بھی پنڈت جواہر لعل نہرو کو بہت سے معاملات کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ لیکن وزیر اعظم کے نہ آنے کی ایک وجہ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے بتائی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایوان میں کچھ غیر متوقع واقعات کا خطرہ تھا اس لیے انھوں نے خود ہی وزیر اعظم سے گزارش کی کہ وہ ایوان میں نہ آئیں۔ واضح رہے کہ پارلیمنٹ کی زبردست سکیورٹی ہے۔ بغیر جانچ کے کوئی بھی اندر نہیں جا سکتا۔ ایوان کے اندر کوئی ہتھیار نہیں لے جایا جا سکتا۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ وہ غیر متوقع واقعات کیا تھے جن کا خطرہ اوم برلا نے محسوس کیا۔

انھوں نے تو اس خطرے کی وضاحت نہیں کی البتہ حکومت کی حمایت کرنے والی جماعت ٹی ڈی پی کے ترجمان نے نیشنل چینل پر ہونے والی ایک ڈبیٹ میں اس کی یہ مضحکہ خیز وجہ بتائی کہ اپوزیشن کی خاتون ارکان وزیر اعظم کو دانت سے کاٹ سکتی تھیں۔ جب انھوں نے یہ بات کہی تو ٹی وی اسٹوڈیو میں اینکرنگ کرنے والی خاتون صحافی بھی ہنسنے لگی۔ اس نے بار بار پوچھا کہ کیا کہہ رہے ہیں کیا خواتین وزیر اعظم کو کاٹ لیتیں۔ انھوں نے کہا جی ہاں یہی خطرہ تھا۔ ذرا سوچیے کہ ہندوستان کی خاتون ارکان پارلیمنٹ اتنی غیر مہذب ہیں کہ وہ وزیر اعظم کو دانت کاٹ لیتیں۔ ٹی ڈی پی لیڈر کو یہ وجہ بتاتے ہوئے شرمندگی نہیں ہوئی۔

دراصل جس روز راہل گاندھی کو بولنے نہیں دیا گیا اس روز ایوان میں کافی ہنگامہ ہوا۔ کارروائی کو کئی بار ملتوی کرنا پڑا۔ جب شام کے پانچ بجے پھر کارروائی شروع ہوئی تو اپوزیشن کی بعض حاتون ارکان جن میں ورشا گائیکواڑ اور جیوتی مانی بھی شامل تھیں، وزیر اعظم کی نشست سمیت حکومت کے ارکان کی نشستوں کا راستہ روک کر کھڑی ہو گئیں۔ گویا انھوں نے ان نشستوں کو بلاک کر دیا۔ ان کے ہاتھوں میں ایک بڑا سا بینر تھا جس پر لکھا تھا ”جو صحیح ہے وہ کرو“۔ یہ احتجاج ایک روز قبل کانگریس کے آٹھ ارکان کی معطلی کے خلاف کیا جا رہا تھا۔ بعد میں بی جے پی کے ایم پی منوج تیواری نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ خواتین وزیر اعظم پر حملہ کر سکتی تھیں۔


اس طرح صدر کے خطبہ پر شکریہ کی تحریک پر ہونے والی بحث کا جواب وزیر اعظم نے نہیں دیا۔ کانگریس کے ایم پی کے سی وینو گوپال نے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے رویے کو ضابطے کی سنگین بدعنوانی قرار دیا۔ انھوں نے اپنے ایک خط میں کہا کہ کارروائی کے ضابطہ بیس کے مطابق بحث کے آخر میں حکومت کا موقف واضح کرنے کے لیے وزیر اعظم کی تقریر لازمی ہوتی ہے۔ اور اگر وزیر اعظم آنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو ایوان کی اس کی اطلاع دی جانی چاہیے۔ لیکن یہ دونوں باتیں نہیں ہوئیں۔ یہ ضابطہ بیس کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔