مذہب انسانی وحدت کا ذریعہ...ایف اے مجیب
مذاہبِ عالم اور انسانی تہذیب کا سنجیدہ، غیر جانب دار مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ ظاہری اختلافات کے باوجود اخلاقی اور عملی معاملات میں ایک غیر معمولی اشتراک پایا جاتا ہے جو انسانیت کی بنیاد ہے

اکیسویں صدی کا عالمی منظرنامہ بظاہر سائنسی ترقی، تکنیکی وسعت اور معلوماتی فراوانی کا آئینہ دار ہے، مگر فکری سطح پر یہ عہد شدید انتشار، مذہبی کشیدگی اور تہذیبی بداعتمادی کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ مذہب کو کبھی تصادم کی جڑ قرار دیا جاتا ہے اور کبھی اسے انسانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں یہ بنیادی سوال ایک بار پھر پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے کہ کیا مذاہب واقعی انسانوں کو تقسیم کرنے کے لیے آئے تھے، یا ان کا اصل مقصد انسانی معاشرے کو ایک مشترک اخلاقی نظم فراہم کرنا تھا؟
مذاہبِ عالم اور انسانی تہذیب کا سنجیدہ، غیر جانب دار مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ ظاہری اختلافات، عقائد کے تنوع اور عبادات کے تناظر میں فرق کے باوجود اخلاقی اور عملی معاملات میں ایک غیر معمولی اشتراک پایا جاتا ہے۔ یہ اشتراک اس بات کی دلیل ہے کہ انسانیت کی فکری و اخلاقی جڑیں کسی اتفاق یا تاریخی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مشترک اخلاقی شعور سے وابستہ ہیں، جو زمانوں، قوموں اور جغرافیائی سرحدوں سے ماورا ہے۔
تقریباً تمام مذاہب اور قدیم انسانی تہذیبیں اس اصول پر متفق نظر آتی ہیں کہ معاشرتی بقا کے لیے کچھ افعال کا ممنوع ہونا اور کچھ کا لازم قرار دیا جانا ناگزیر ہے۔ قتلِ ناحق، جھوٹ، دھوکہ، خیانت، ظلم، فحاشی، بددیانتی، ناپ تول میں کمی، یتیموں، عورتوں اور کمزور طبقات کا استحصال—یہ وہ اعمال ہیں جنہیں ہر مذہب اور ہر مہذب سماجی نظام نے کسی نہ کسی شکل میں قابلِ مذمت اور قابلِ سزا قرار دیا ہے۔ یہ محض مذہبی احکامات نہیں بلکہ انسانی معاشرت کے وہ بنیادی اصول ہیں جن کے بغیر کسی سماج میں امن، اعتماد اور استحکام ممکن نہیں رہتا۔
اسی طرح کچھ اقدار ایسی ہیں جنہیں تقریباً ہر مذہب اور تہذیب نے انسانی فلاح کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔ سچ بولنا، عدل قائم کرنا، وعدہ پورا کرنا، والدین کا احترام، پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھنا، مسافروں اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا، امانت داری، عفو و درگزر، اور کمزور و محروم طبقات کے ساتھ ہمدردی—یہ وہ اخلاقی قدریں ہیں جو اسلامی شریعت، مسیحی اخلاقیات، یہودی قانون، ہندو دھرم اور بدھ مت سمیت تقریباً تمام بڑے مذہبی اور فکری نظاموں میں مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس سے یہ حقیقت مزید واضح ہوتی ہے کہ خیر کو فروغ دینا اور شر کو روکنا انسانی تہذیب کا مشترک مقصد رہا ہے۔
یہ اخلاقی ہم آہنگی کسی رسمی مفاہمت یا تاریخی سمجھوتے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس بات کا اظہار ہے کہ اخلاقی اصول انسانی فطرت میں پیوست ہیں۔ مذاہب نے ان اصولوں کو وحی، روایت، قانون یا فلسفے کی صورت میں منظم کیا تاکہ انسان محض جبلّت اور خواہش کا اسیر نہ بنے بلکہ اپنے عمل کا اخلاقی شعور کے ساتھ جائزہ لے۔ اسی لیے مذاہب فرد کو تنہا نہیں چھوڑتے بلکہ اسے ایک اجتماعی نظام کا حصہ سمجھتے ہیں، جہاں اس کے اعمال کا اثر پورے معاشرے پر پڑتا ہے۔
زندگی کے معاملات میں جواب دہی کا تصور بھی تقریباً تمام مذہبی اور فکری نظاموں میں مشترک ہے۔ کہیں آخرت اور یومِ حساب کا ذکر ملتا ہے اور کہیں کرم اور اس کے نتائج کا نظریہ، مگر پیغام ایک ہی ہے: انسان اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے، اور کوئی ظلم، ناانصافی یا بددیانتی ہمیشہ کے لیے نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ یہی تصور فرد کو قانون، اخلاق اور سماجی اقدار سے بالاتر سمجھنے کے رویّے سے روکتا ہے اور اسے اس احساس کے ساتھ جینے پر آمادہ کرتا ہے کہ اس کے ہر عمل کا کوئی نہ کوئی اخلاقی نتیجہ ضرور ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایک خدا، ایک انسانیت، ایک ہدایت...ایف اے مجیب
یہ بھی ایک قابلِ توجہ حقیقت ہے کہ مذاہب نے عبادات کو محض فرد اور اس کے خدا کے درمیان ذاتی معاملہ قرار نہیں دیا بلکہ انہیں اخلاقی تطہیر اور سماجی اصلاح سے جوڑ دیا۔ نماز، دعا، روزہ، قربانی، مراقبہ یا ریاضت—یہ سب اعمال انسان کے باطن کو سنوارنے اور اس کے کردار کو نکھارنے کے لیے ہیں، تاکہ وہ خودغرضی، غرور اور سنگ دلی سے نکل کر ایک ذمہ دار سماجی وجود بن سکے۔ اگر عبادات انسان کو بہتر انسان نہ بنائیں تو وہ محض رسم رہ جاتی ہیں، مقصد نہیں۔
انسانی تہذیب کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ جتنے بھی پائیدار اخلاقی قوانین اور سماجی ضابطے قائم ہوئے، ان کی جڑیں کسی نہ کسی مذہبی یا روحانی تصور سے جا ملتی ہیں۔ مذہب نے انسان کو محض مابعد الطبیعاتی سوالات کے جواب نہیں دیے بلکہ اسے یہ بھی سکھایا کہ وہ دوسرے انسانوں کے ساتھ کس طرح پیش آئے۔ جب مذہب کو محض شناخت، فرقہ واریت یا سیاسی مفادات کے تابع کر دیا جاتا ہے اور اس کے اخلاقی پیغام کو پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے تو وہی مذہب انتشار اور تصادم کا ذریعہ بن جاتا ہے، حالانکہ اس کی اصل روح انسان کو انسان سے جوڑنے کے لیے ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اکیسویں صدی میں مذہب اور اس کی معنویت...ایف اے مجیب
آج کی دنیا میں اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ مذاہب کے اس مشترک اخلاقی پیغام کو ازسرِنو سمجھا اور اپنایا جائے۔ وہ پیغام جو قتل کے بجائے زندگی، نفرت کے بجائے احترام، تعصب کے بجائے انصاف اور مفاد کے بجائے انسانی وقار کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر انسان ان اخلاقی مشترکات کو بنیاد بنا لے تو مذہبی اور تہذیبی اختلافات تصادم کے بجائے مکالمے میں ڈھل سکتے ہیں، اور مذہب تقسیم کا نہیں بلکہ انسانی وحدت اور عالمی اخلاقی نظم کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔