بہار میں مڈ ڈے میل کھانے کے بعد 70 سے زائد اسکولی بچے بیمار، تحقیقات شروع
مڈ ڈے میل سے متعلق این جی او کے ذریعہ سپلائی کئے گئے کھانے میں مبینہ طور پر چھپکلی گرگئی تھی۔ افسران نے وجوہات کی تصدیق نہیں کی ہے لیکن تحقیقات کے حصے کے طور پرکھانے کے نمونے کی جانچ کی جائے گی۔

بہار کے مدھے پورہ صدر بلاک کے ساہوگڑھ میں کارو ٹولہ کے ایک اپ گریڈ مڈل اسکول میں ہفتہ کے روز مڈ ڈے میل کھانے کے بعد 70 سے زیادہ اسکولی بچے بیمار پڑ گئے، جس سے اساتذہ، والدین اور مقامی باشندوں میں افرا تفری مچ گئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کھانا کھانے کے کچھ ہی دیربعد بچے ایک ایک کرکے بیمار پڑنے لگے۔
بچوں کو قے، پیٹ میں درد، چکر آنا، بےچینی اور گھبراہٹ کی شکایت ہوئی جس سے اسکول کے احاطے میں افراتفری مچ گئی۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی طلباء کے والدین اسکول میں جمع ہو گئے۔ سبھی بیمار بچوں کو فوری طور پر ایمبولینس اور پرائیویٹ گاڑیوں کے ذریعے مدھے پورہ صدر اسپتال پہنچایا گیا۔
اسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زیادہ تر بچوں کی حالت مستحکم اور خطرے سے باہر ہے، تاہم ایک بچی کی حالت تشویشناک ہے اور وہ گہری نگہداشت میں ہے۔ اس واقعہ سے پریشان سرپرستوں نے اسپتال کے باہر احتجاج کیا اور معاملے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
ابتدائی معلومات کے مطابق مڈ ڈے میل اسکیم سے متعلق ایک این جی او کی جانب سے سپلائی کئے گئے کھانے میں مبینہ طور پر چھپکلی گرگئی تھی۔ افسران نے ابھی تک وجوہات کی تصدیق نہیں کی ہے لیکن تحقیقات کے حصے کے طور پر کھانے کے نمونوں کی جانچ کی جائے گی۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ڈی ای او) سنجے کمار صدر اسپتال پہنچے اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ڈی ای او نے مزید کہا کہ اگر کسی بھی سطح پر غفلت یا کوئی بے ضابطگی پائی گئی تو متعلقہ این جی او اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اس واقعے سے سرپرستوں میں کافی غصہ پایا جارہا ہے جنہوں نے افسران پر ناقص نگرانی اور لاپرواہی کا الزام لگایا ہے۔ مڈ ڈے میل پروگرام کے کوالٹی کنٹرول، صفائی ستھرائی کے معیارات اور نگرانی کے طریقہ کار پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس دوران ضلع انتظامیہ نے یقین دلایا ہے کہ کسی قسم کی غفلت کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اصلاحی اقدامات کیے جائیں گے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔