راجستھان: ’مڈ ڈے میل‘ منصوبہ میں تقریباً 2000 کروڑ روپے کا گھوٹالہ، 21 افراد کے خلاف معاملہ درج

تحقیقات میں پتہ چلا کہ ’مڈ ڈے میل‘ منصوبہ سے منسلک افسران اور کانفیڈ افسران نے ملی بھگت کر سازش کے تحت اصولوں میں تبدیلی کی۔ انھوں نے اہل فرموں کو ٹنڈر کے عمل سے باہر کر چہیتی کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا

تصویر سوشل میڈیا
i
user

قومی آواز بیورو

راجستھان میں ایک بڑے گھوٹالہ کا پردہ فاش ہوا ہے جو ’مڈ ڈے میل‘ منصوبہ سے جڑا ہے۔ تحقیقات میں اس گھوٹالہ کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد کانفیڈ اور پرائیویٹ فرموں کے 21 نامزد ملزمین کے خلاف اے سی بی میں معاملہ درج کیا گیا۔ کووڈ-19 وبا کے دوران اسکول بند رہنے کے دوران راجستھان حکومت کے ذریعہ چلنے والے ’مڈ ڈے میل‘ منصوبہ میں یہ گھوٹالہ ہوا ہے۔

اس منصوبہ کے تحت اسکولی طلبا کو کھانا فراہم کرانے کے لیے کانفیڈ کے ذریعہ دال، تیل، مسالے وغیرہ پر مشتمل ’کامبو پیک‘ کی فراہمی کرائی گئی تھی۔ کھانے میں استعمال سامانوں کو ’ایگمارک‘ پیمانوں اور ایف ایس ایس اے آئی کے مطابق بتایا گیا ہے۔ کھانے کی اشیا سرکاری اسکولوں میں فراہم کیے جانے کی بات کہی گئی ہے، لیکن اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے میں بے ضابطگی اور بدعنوانی کا پتہ چلا ہے۔ اب اس معاملہ میں اے سی بی (انسداد بدعنوانی بیورو) نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔


تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ ’مڈ ڈے میل‘ منصوبہ سے منسلک افسران اور کانفیڈ کے افسران نے آپسی ملی بھگت کر سازش کے تحت اصولوں میں تبدیلی کی۔ اہل اور قابل فرموں کو ٹنڈر کے عمل سے باہر کر دیا گیا اور اپنی چہیتی کمپنیوں کو نامناسب فائدہ پہنچانے کے مقصد سے ٹنڈر الاٹ کر دیا گیا۔ ان کمپنیوں نے دیگر اداروں کو غیر اخلاقی طور سے سبلیٹ بھی کیا، جن کے ذریعہ ٹرانسپورٹرس اور فرضی فراہم کنندگان کا ایک منظم نیٹورک کھڑا ہو گیا۔ کئی معاملوں میں حقیقی طور سے مال کی خرید اور فراہمی کیے بغیر ہی زیادہ شرحوں کے فرضی بل پیش کر دیے گئے۔ پھر انہی کی بنیاد پر رقم کی ادائیگی بھی حاصل کر لی گئی۔ اس کی وجہ سے سرکاری خزانہ میں تقریباً 2000 کروڑ روپے کا مالی نقصان ہوا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔