’اساتذہ کے بعد اب ڈاکٹر بھگائیں گے آوارہ کتے‘، راجستھان انتظامیہ کے حکم نامے پر اپوزیشن کا حملہ

جودھپور ضلع کے ایس این میڈیکل کالج میں ڈینٹسٹ نرملا وشنوئی کو کتے بھگانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے حال ہی میں ایک میٹنگ میں اس طرح کا فیصلہ کیا گیا جس پر تنقید کی جارہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ٹیکارام جولی / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

راجستھان میں پچھلے دنوں سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کو اسکول احاطے میں گھسنے والے ’آوارہ کتوں‘ کو بھگانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ انہیں اس مقصد کے لیے نوڈل افسر بھی مقرر کیا گیا۔ واضح رہے کہ ملک میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی دہشت اور لوگوں کو کاٹنے کے واقعات کی تعداد میں اضافہ کی روشنی میں سپریم کورٹ کے رہنما خطوط کے مطابق اسکولوں کو کتے کے کاٹنے کے واقعات کو کم کرنے اوراسکولوں میں محفوظ ماحول قائم کرنے کے لیے مقامی ایجنسیوں کے ساتھ رابطہ کاری کا کام سونپا گیا تھا۔ اب راجستھان سے ایک اور نیا معاملہ سامنے آیا ہے۔

راجستھان کے ضلع جودھ پورکا ایک نیا حکم موضوع بحث بن گیا ہے جس میں اب اساتذہ کو نہیں بلکہ ڈاکٹروں کو ’آوارہ کتے‘ بھگانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ یہ معاملہ جودھپور ضلع کے ایس این میڈیکل کالج سے متعلق ہے، جہاں اب ڈینٹسٹ نرملا وشنوئی کو کتے بھگانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ آوارہ کتوں کی دہشت سے پریشان ہو کرمقامی انتظامیہ کی جانب سے حال ہی میں ایک میٹنگ کی گئی تھی۔ جس کے بعد اب ڈاکٹر کو ’کتے بھگانے‘ کے لیے نوڈل آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔


اس معاملے پر ریاست میں اپوزیشن لیڈر ٹیکارام جولی نے طنزکستے ہوئے کہا کہ ’’5 سال بنام 2 سال کا ڈھول پینٹنے والوں کی ایک اور ’تاریخی کامیابی‘۔ سرکاری ڈاکٹر اب مریضوں کو نہیں دیکھیں گے، اب وہ آوارہ کتوں کو ہٹانے اور داخل ہونے سے روکنے کا کام کریں گے۔ وزیراعلیٰ بھجن لال شرما نے ریاست کی اس تاریخی کامیابی کو بھی حکومت کی فہرست میں جوڑ لیجئے۔‘‘

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔