بچوں کی اموات پر راجستھان حکومت کی خاموشی شرمناک: ٹیکارام جولی

اپوزیشن لیڈر نے ہندوستان-امریکہ تجارتی معاہدے پر مرکز کی مودی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے اسے ’غلامی کا نیا دستاویز‘ اور ہندوستان کی اسٹریٹجک خود مختاری پر حملہ قرار دیا

<div class="paragraphs"><p>ٹیکارام جولی / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

راجستھان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ٹیکا رام جولی نے منگل کے روز آلودہ کف سیرپ کے استعمال سے مبینہ طور پر بچوں کی اموات کے معاملے میں ریاستی حکومت پر سخت حملہ کیا۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران مسئلہ اٹھاتے ہوئے جولی نے حکومت پر لاپرواہی اور ’کمیشن سے چلنے والی بدعنوانی‘ کا الزام لگایا اور کہا کہ معصوم بچے اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔

کانگریس ایم ایل اے ہری موہن شرما کے ذریعہ اٹھائے گئے ایک سوال سے متعلق وزیر صحت کے جواب پر سوال اٹھاتے ہوئے ٹیکا رام جولی نے اسے نامکمل اور گمراہ کن قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت جان بوجھ کر ’موت کے سوداگروں‘ کو تحفظ دے رہی ہے اور احتساب کا مطالبہ کیا۔ ان کے اس بیان پر اسمبلی میں شدید احتجاج اور ہنگامہ ہوا۔


کانگریس لیڈر نے دعویٰ کیا کہ جس دوا ساز کمپنی کا کف سیرپ کا تعلق ان اموات سے جڑا ہوا ہے ،اسے پہلے ہی کئی ریاستوں میں بلیک لسٹ کیا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے سوال کیا کہ کمپنی راجستھان میں سپلائی کا معاہدہ کیسے حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ جولی نے مزید الزام لگایا کہ کف سیرپ کا وہی آلودہ بیچ راجستھان میں وزیر اعلیٰ کی مفت دوا اسکیم کے تحت بچوں میں تقسیم کیا گیا۔

ایوان کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے ہندوستان۔ امریکہ تجارتی معاہدے پر مرکز کی مودی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے اسے’’غلامی کا نیا دستاویز‘‘ اور ہندوستان کی اسٹریٹجک خود مختاری پر حملہ قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ نے ہندوستان پر اس معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے دباؤ ڈالا، جس سے ملک کی معیشت کو نقصان ہو گا۔


ٹیکارام جولی نے ہندوستان کی تیل کی خریداری کی پالیسی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ ملک کو سستے روسی تیل سے دور ہٹ کر مہنگے متبادل کی تلاش کرنے کے لیے کیوں مجبور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اسے ہندوستان کی آزاد خارجہ پالیسی کی خلاف ورزی قرار دیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔