راجستھان کی بی جے پی حکومت نے فرضی کمپنی کو دے دیا 456 کروڑ روپے کا ٹنڈر، کانگریس حملہ آور
کانگریس نے سوال کیا ہے کہ جب حکومت غریب کو 1000 روپے پنشن دینے کے لیے تمام طرح کی جانچ کرتی ہے، تو ایک فرضی کمپنی کو 456 کروڑ روپے کا ٹنڈر بغیر کسی جانچ کے کس طرح تھما دیا گیا۔

راجستھان کی بی جے پی حکومت نے ایک فرضی کمپنی کو کروڑوں روپے کا ٹنڈر دے دیا، جس کے لیے اب اسے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ میں اس تعلق سے انکشاف ہوا، جس کا تراشہ کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر شیئر کیا ہے۔ اس پوسٹ میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’راجستھان کی اس خبر کو دیکھیے، جہراں راجستھان حکومت نے گجرات کی فرضی کمپنی کو بغیر کسی جانچ کے 456 کروڑ روپے کا ٹنڈر دے دیا۔‘‘
اس معاملہ میں کانگریس نے بی جے پی حکومت کے خلاف انتہائی حملہ آور رخ اختیار کیا ہے۔ کانگریس نے پہلے تو اس بات پر حیرانی ظاہر کی کہ حکومت نے آنکھ موند کر اس فرضی فرم کو 46 کروڑ روپے ایڈوانس دے دیے، پھر تلخ انداز میں کہا کہ ’’راجستھان کے کاروباری کئی سال سے شکایت کر رہے ہیں کہ بی جے پی حکومت لگاتار فرضی فرموں اور ٹھیکیداروں کو ٹھیکے دے رہی ہے، اور اس کے دم پر خوب بدعنوانی کی جا رہی ہے۔‘‘ کانگریس یہ بھی کہتی ہے کہ ’’بی جے پی حکومت میں دھڑلّے سے گھپلے بازی چل رہی ہے اور وزراء و لیڈران سب ملائی کھا رہے ہیں۔‘‘
اس سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے ایک تلخ سوال بھی بی جے پی حکومت کے سامنے رکھ دیا ہے۔ کانگریس نے پوچھا ہے کہ ’’جب حکومت غریب کو 1000 روپے پنشن دینے کے لیے تمام طرح کی جانچ کرتی ہے، تو ایک فرضی کمپنی کو 456 کروڑ روپے کا ٹنڈر بغیر کسی جانچ کے کس طرح تھما دیا گیا۔‘‘ اس معاملہ میں حکومت کی طرف سے فی الحال کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن اپوزیشن لیڈران پوری طرح حملہ آور دکھائی دے رہے ہیں۔
معاملہ 100 میگاواٹ کے روف ٹاپ سولر پروجیکٹ لگانے سے متعلق ہیں، جس کے لیے 2 ٹنڈر دیے گئے تھے۔ سی بی آئی جانچ میں کمپنی کے فرضی ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کی رپورٹ ہندی روزنامہ ’دینک بھاسکر‘ میں شائع ہوئی ہے۔ اسی خبر کا تراشہ کانگریس نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر کیا ہے۔ ’دینک بھاسکر‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’آر آر ای سی ایل‘ (راجستھان اکشے اورجا نگم لمیٹڈ) کے افسروں نے گجرات کی فرم ’تیرتھ گوپی کان‘ (ایس پی وی) کو 42 دنوں میں 456 کروڑ روپے کے 2 ٹنڈر دیے۔ فیزیبلٹی، پروگریس رپورٹ اور بینک گارنٹی کی جانچ کیے بغیر ہی 46.30 کروڑ روپے ایڈوانس بھی دے دیے گئے۔ کچھ وقت بعد فرم کے فرضی ہونے کا پتہ چلا تو خود کو بچانے کے لیے بلیک لسٹ کر مقدمہ کروا دیا۔
اس رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ آر آر ای سی ایل نے 6 دسمبر 2024 میں فرم کو باراں اور پالی ضلعوں کی سرکاری عمارتوں پر 37 میگاواٹ کے روف ٹاپ سولر لگانے اور 25 سال تک رکھ رکھاؤ کا ٹنڈر دیا۔ اس کے لیے 12 مارچ 2025 کو 16.93 کروڑ ایڈوانس دیے۔ بعد ازاں 14 مارچ کو بوندی، جودھ پور، پالی، سروہی ضلعوں میں 63 میگاواٹ کے روف ٹاپ سولر لگانے کا دوسرا ٹنڈر اور 26.23 کروڑ روپے ایڈوانس فراہم کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق سی بی آئی نے 23 جون 2025 کو آر آر ای سی ایل سے ایس پی وی کی بینک گارنٹیوں کی جانکاری مانگی۔ اس نے 8 جولائی کو فرم سے وضاحت، کام کی پروگریس رپورٹ اور ایڈوانس روپے کا حساب بھی طلب کیا۔ جواب میں بتایا گیا کہ کمپنی مالیاتی مشاورت کی دھوکہ دہی کا شکار ہوئی ہے۔ ساتھ ہی 60 کروڑ روپے کی نئی بینک گارنٹی دینے کی تجویز پیش کی۔ بعد ازاں آر آر ای سی ایل نے پنجاب نیشنل بینک کو خط لکھ کر فرم کی بینک گارنٹی کی صداقت ظاہر کرنے کے لیے کہا۔ بینک نے 15 جولائی کو بتایا کہ ہم نے ایسی کوئی بینک گارنٹی جاری نہیں کی ہے۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد افسروں نے غلطی پر پردہ ڈالنے اور خود کو بچانے کے لیے فرم کو بلیک لسٹ کرنے، مقدمہ کرنے اور ریکوری کا عمل شروع کر دیا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔