دہلی سے جیسلمیر جا رہی ’سورن نگری ایکسپریس‘ میں لگی آگ، لوکو پائلٹ کی مستعدی سے ٹل گیا بڑا حادثہ

یہ واردات اتوار کے روز صبح تقریباً 9 بجے جیسلمیر کے جیٹھا چندن ریلوے اسٹیشن کے قریب ہوئی۔ افسران کے مطابق لوکو پائلٹ نے بروقت خطرے کو محسوس کیا اور فوری طور پر ٹرین کو محفوظ مقام پر روک دیا

<div class="paragraphs"><p>ٹرین میں لگی آگ، علامتی تصویر</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 راجستھان کے جیسلمیر میں اتوار کے روز چلتی ٹرین میں آگ لگ گئی جس سے مسافروں میں کچھ دیر کے لیےخوف و ہراس پھیل گیا۔ حالانکہ عملے کی چوکسی سے آگ پر جلد قابو پالیا گیا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ معلومات کے مطابق یہ آگ سورن نگری ایکسپریس (12468) کے کوچ کے نیچے لگی جو دہلی سے جیسلمیر جارہی تھی۔ یہ واردات جیسلمیر کے جیٹھا چندن ریلوے اسٹیشن کے قریب ہوئی۔ افسران کے مطابق لوکو پائلٹ نے بروقت خطرے کو محسوس کیا اور فوری طور پر ٹرین کو محفوظ مقام پر روک دیا۔

جیسے ہی ٹرین رکی، ریلوے ملازمین نے فوری طور پر آگ بجھانے کا کام شروع کردیا۔ آگ بجھانے والے آلات اور دستیاب ذرائع کی مدد سے کچھ ہی دیر میں آگ پر قابو پالیا گیا۔ اس دوران مسافروں میں تھوڑی دیر کے لیے افرا تفری مچ گئی لیکن حالات جلد ہی معمول پر آ گئے۔ ریلوے افسران نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔ آگ بجھانے کے بعد ٹرین کا دوبارہ معائنہ کیا گیا اور پھر اسے جیسلمیر روانہ کیا گیا۔


واردات کے بعد ریلوے انتظامیہ نے موقع پر پہنچ کر تکنیکی تحقیقات شروع کردی۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ آگ کسی تکنیکی خرابی یا بریک سسٹم کے کسی حصے میں ضرورت سے زیادہ گرمی کی وجہ سے لگی ہوسکتی ہے۔ تاہم فی الحال آگ لگنے کی صحیح وجہ کا تعین نہیں کیا جاسکا ہے اور ریلوے کی تکنیکی ٹیم کی جانب سے اس کی وسیع تحقیقات جاری ہیں۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کی اصل وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

آگ لگنے کی وجہ فی الحال معلوم نہیں ہوسکی ہے اور معاملے کی تفتیش جاری ہے۔ یہ واردات اس معاملے کے کچھ ہفتوں بعد سامنے آئی ہے جب 14 جنوری کو پوکھرن ریلوے اسٹیشن پر سابرمتی ایکسپریس کے ایک کوچ میں آگ لگ گئی تھی۔اس وقت ٹرین پلیٹ فارم پر کھڑی تھی اور دھواں اٹھتا دیکھا گیا تھا۔ ریلوے عملہ اور سیکورٹی اہلکاروں نے کافی مشقت کے بعد آگ پر قابو پایا تھا۔ اس واردات میں بھی کسی کے زخمی ہونے یا ہلاکت کی خبر نہیں تھی اور ٹرین کو سیکیورٹی چیک کے بعد آگے بڑھنے کی اجازت دی گئی تھی۔