کورونا کے خلاف جنگ میں خواتین حکمراں زیادہ کامیاب، دانشمندی سے وائرس پر پایا قابو

جہاں مغرور حکمراں ’من کی بات‘ کرتے رہے وہاں آج برا حال ہے، بلکہ جن ممالک میں حکمرانی خواتین کے ہاتھوں میں ہے وہاں قدر کم نقصان ہو، بحران کے وقت خواتین نے مثالی دانشمندی اور صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

مہیندر پانڈے

کورونا وائرس غالباً پہلی ایسی وبا ہے جس نے ایک وقت میں دنیا کے ہر ملک کو متآثر کیا ہے۔ فروری کے آخر تک کوویڈ۔19 کے تناظر میں ہر ملک کا حکمراں کم و بیش ایک ہی پوزیشن پر تھا، تمام خوف زدہ تھے اور اپنے ملک کو اس وبا سے بچانے میں مصروف تھے۔ ان میں سے کچھ حکمراں صرف سوچ رہے تھے، جبکہ دوسرے زمینی سطح پر اس سے مقابلہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ اگر ہم آج کے حالات پر نگاہ ڈالیں تو زمینی سطح پر کام کرنے والے حکمراں اپنے شہریوں کو نسبتاً محفوظ کرنے میں کامیاب رہے ہیں جبکہ صرف غور و خوض کرنے کرنے والے خود پسند حکمران آج بھی بدتر حالت میں ہیں۔

ظاہر ہے کہ ایک ہی وقت میں متآثر ہونے کے سبب بیشتر ممالک کے حکمرانوں کو اپنی صوابدید پر فوری فیصلے کرنے پڑے۔ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں وہ تمام ممالک جن کے حکمرانوں نے صرف اپنے ’من کی بات ‘ کی یا جو مغرور اور بڑ بولے ہیں، وہ تمام ممالک پیچھے رہ گئے۔ دوسری طرف ان تمام ممالک میں جہاں خواتین حکمرانی میں ہیں وہاں اس وائرس سے نقصان تو ہوا لیکن دوسرے ممالک کی طرح نہیں۔ آئس لینڈ، ناروے، تائیوان، ڈنمارک، جرمنی اور نیوزی لینڈ اس کی زندہ مثالیں ہیں۔

برصغیر پر نظر ڈالیں تو بنگلہ دیش اور میانمار میں ہندوستان اور پاکستان کے مقابلہ اموات کم واقع ہوئی ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان میں کورونا وائرس کے تناظر میں وسیع پیمانے پر بحث ہوتی ہیں، لیکن بنگلہ دیش میں جہاں شیخ حسینہ وزیر اعظم ہیں، 22 اپریل تک اس بیماری سے صرف 127 اموات ہوئیں ہیں۔ متآثرہ افراد کی تعداد بھی 4186 تھی جو کسی بھی پڑوسی ملک سے کم ہے۔ میانمار کی وزیر اعظم آنگ سان سوچی ہیں اور 22 اپریل تک کورونا وائرس کی وجہ سے یہاں صرف 5 اموات واقع ہوئیں۔

دنیا نے اس وائرس سے نمٹنے کے لئے جنوبی کوریا کے اقدامات کی تعریف کی ہے لیکن بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ وہاں ایک خاتون، جیونگ یون کیونگ انسداد متعدی امراض کی سربراہ ہیں۔ انہوں نے ہی ٹیسٹنگ، ٹریسنگ اور کنٹینمنٹ پر زور دیا تھا، جس کی وجہ سے چین کے فوری بعد متآثرہ ہونے کے باوجود اس ملک میں صرف 250 افراد کی جان گئی۔ یون کیونگ نے بذات خود روزانہ پریس کانفرنس کی، لوگوں کو مشورے دیئے، ان کی حوصلہ افزائی کی اور محفوظ رہنے کے طریقے بیان کیے۔ یہی وجہ ہے کہ جیونگ یون کیونگ کو دنیا کی بہترین ’وائرس ہنٹر‘ (وائرس کو شکار کرنے والی) کے لقب سے نوازا جا رہا ہے۔

امریکہ کے دوسرے شہروں یا ریاستوں کے خوفناک حالات کی خبریں روزانہ آتی ہیں، لیکن ان میں سان فرانسسکو کے نام کا شاذ و نادر ہی ذکر کیا جاتا ہے۔ یہاں پورے امریکہ کی نسبت صورتحال بہتر ہے اور اس کا سہرا پہلی سیاہ فام خاتون میئر ’لندن بریڈ‘ کے سر جاتا ہے، جنہوں نے دوسرے شہروں سے پہلے اس شہر میں معاشرتی فاصلے کے ساتھ ساتھ بہت سی دیگر پابندیاں عائد کردی تھیں۔

ایتھوپیا کی صدر ’ساہلے ورک زیوڈے ‘ ہیں اور یہاں 20 اپریل تک صرف 117 افراد کورونا وائرس سے متآثر ہوئے تھے اور 3 افراد کی موت ہوئی تھی۔ یہ تعداد کسی بھی ملک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ جزائر کیریبین کے ایک بہت ہی چھوٹے ملک سینٹ مارٹن کی وزیر اعظم سلوریہ جیکبس نے بھی اپنے سخت فیصلوں اور واضح احکامات کی وجہ سے کورونا وائرس کو قابو میں رکھا ہے۔

فن لینڈ میں کورونا کے 4000 کیسز رپورٹ ہوئے اور 140 افراد اس کے انفیکشن سے ہلاک ہوئے ہیں، یہ تعداد فی 10 لاکھ آبادی کے تناظر میں پڑوسی ملک سویڈن کے مقابلے میں 10 فیصد بھی نہیں ہے۔ دنیا کے کسی ملک کی سب سے کم عمر وزیر اعظم سینا میرین نے لوگوں سے سخت لاک ڈاؤن پر عمل کروایا، متآثرہ افراد کی بے حد کم تعداد اسی کا نتیجہ ہے۔

آئس لینڈ کی وزیر اعظم کٹرین جیکبسڈوٹیئر نے نہ تو اسکول بند کرائے اور نہ ہی سخت پابندیاں عائد کیں، بلکہ انہوں نے ہر شہری کے لئے ٹیسٹ مفت کر دیا اور ممکنہ مریضوں کو تنہا اور فوری طور پر الگ کر کے علاج کرنے کی ہدایت دی۔ نتیجاً آئس لینڈ میں صرف 1800 افراد متآثر ہوئے اور 10 کی موت واقع ہوئی۔

جرمن چانسلر انجیلا میرکل ملکی سربراہ ہونے سے قبل سائنس دان تھیں، لہذا وہ عوام کو مشکل چیزیں بھی آسانی سے سمجھا سکتی ہیں، اس کے علاوہ وہ وائرس کے خطرے اور روک تھام کے بارے میں سائنسی گفتگو بھی کرتی ہیں۔ خود تعریف والی تقاریر نہ کر کے وہ لوگوں سے کہتی ہیں کہ اپنا خیال رکھیں، اپنوں کا خیال رکھیں۔ یہی وجہ ہے کہ بحران کے اس وقت میں بھی ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

نیوزی لینڈ میں کورونا سے صرف 18 اموات کی اطلاع ہے، وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن ویڈیو پیغام اور فیس بک لائیو کے ذریعہ عوام سے جڑی رہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کرتی رہیں۔ نیوزی لینڈ اب لاک ڈاؤن کو کامیابی کے ساتھ ہٹانے والے ممالک میں شامل ہے۔

ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹی فریڈرکنسن نے مارچ کے اوائل میں ہی ملک کی سرحدیں، اسکول، تعلیمی ادارے وغیرہ بند کردیئے تھے اور مجمع پر پابندی عائد کردی تھی۔ ڈنمارک میں کورونا سے 370 اموات کی اطلاع ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران بھی یہاں کی وزیر اعظم نے ہر عمر کے طبقہ سے علیحدہ رابطہ کیا اور ہدایات جاری کیں۔

تائیوان میں مکمل لاک ڈاؤن کبھی نافذ نہیں کیا گیا اور یہاں صرف 6 اموات واقع ہوئی ہیں۔ یہاں کی صدر تسے انگ نے جنوری کے بعد سے متعدی بیماریوں سے متعلق مراکز کو تیار رہنے کے احکامات جاری کیے تھے اور ملک میں غیر ملکیوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی تھی۔

وہیں، ناروے میں اب تعلیمی ادارے دوبارہ کھولے جارہے ہیں اور یہاں کورونا سے مجموعی طور پر 182 افراد کی موت ہوئی ہے۔ یہاں کی وزیر اعظم ایرنا سولبرگ نے سائنس دانوں کے مشورے کے مطابق مکمل طور پر ہدایات جاری کیں اور لاک ڈاؤن کا فیصلہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں پہلے ہی نافذ کر دیا۔

اس بحران کے دوران مغربی میڈیا میں خواتین رہنماؤں کی قائدانہ صلاحیت پر متعدد مضامین شائع ہو رہے ہیں اور کئی مضامین میں بتایا جارہا ہے کہ اگرچہ تاحال محض 7 فیصد ممالک ہی خواتین کی سربراہی میں ہیں، تاہم کورونا بحران کے خاتمے کے بعد، دنیا خواتین رہنماؤں کی قابلیت اور قائدانہ صلاحیت پر توجہ مرکوز کرے گی۔

خواتین رہنماؤں کی بہترین کارکردگی پر سیاسی اور نفسیات کے ماہرین بھی تحقیق کی بنیاد پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ خواتین پر اعتماد تو ہوتا ہی ہے لیکن یہ اعتماد غرور کی حد تک نہیں پہنچتا۔ اس کے علاوہ مرد خود کو افضل سمجھتے ہیں جبکہ خواتین میں یہ خیال نہیں پایا جاتا۔

خواتین اپنے شراکت داروں اور ماہرین کا انتخاب جی حضوری کی بنیاد پر نہیں کرتیں، بلکہ پہلے ان کی صلاحیت کو پرکھتی ہیں پھر کوئی فیصلہ لیتی ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین رہنما ماہرین کی رائے کو بھی غور سے سنتی ہیں، حقائق کا جائزہ لیتی ہیں اور تبھی کوئی حکم جاری کرتی ہیں۔ متعدد مطالعات نے مستقل طور پر ثابت کیا ہے کہ خواتین کسی بھی آفت پر قابو پانے اور عوامی فلاحی کاموں میں مردوں کے مقابلہ زیادہ سرگرمی سے کام کرتی ہیں۔

Published: 3 May 2020, 9:11 PM
next