آج کی صحافت ایک دھندہ، اور صحافی ٹھیکیدار... ظفر آغا

یہ ہے 21 ویں صدی کے ہندوستان کا صحافی اور اس کی صحافت۔ حق، ایمان اور انصاف طاق پر۔ ٹھیکیداری اور حکومت کے جھوٹ کو سچ کرنا زندہ باد۔ لب و لباب یہ کہ آج کی صحافت ایک دھندہ اور صحافی ٹھیکیدار ہو چکا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

ظفر آغا

ایک دور تھا کہ جب صحافی ہندوستانی سماج کا ایک باعزت فرد ہوتا تھا۔ آزاد قلم، حق پسند اور انصاف کے لیے آواز اٹھانے والے کا ظاہر ہے قدر و احترام تو ہوگا ہی۔ چنانچہ بھلے ہی اس دور کا صحافی پھٹے حال ہو، لیکن اس کا احترام ہوتا تھا۔ ہمیں یاد ہے کہ ہم خود دو مرتبہ بیرون ملک سیمینار میں شرکت کےلیے بلائے گئے اور ہماری وہاں بڑی قدر و منزلت رہی۔ اس دور کے صحافی کو جدوجہد کرنی پڑتی تھی۔ چھوٹی تنخواہ، نہ گاڑی نہ گھوڑا، ایک پریس کانفرنس سے دوسری پریس کانفرنس کسی کے اسکوٹر پر لد کر پہنچنا اور پھر شام کو اپنی رپورٹ فائل کرنا۔ لیکن صاحب اب تو صحافت اور صحافی کی دنیا ہی بدل گئی ہے۔ اب تو صحافی لمبی لمبی گاڑیوں میں ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتا ہے۔ شام کو تھکن مٹانے کو اکثر کسی فائیو اسٹار ہوٹل میں چسکی لیتا ہے۔ اور اب وہ عیش و عشرت کی زندگی بھلا کیوں نہ بسر کرے، موٹی موٹی لاکھوں روپے ماہانہ کی تنخواہ۔ ارے ایک انگریزی اخبار کے مشہور ایڈیٹر کی سالانہ تنخواہ ایک کروڑ روپے تھی۔ اوپر سے گاڑی گھوڑا، ہوائی جہاز کا سفر، فائیو اسٹار ہوٹلوں میں قیام، یہ سب تو مالک کے سر۔ تب ہی تو آج کا صحافی گھمنڈ سے چور ہے۔ دیکھیے نہ شام کو اینکر جب اپنے ٹی وی پروگرام پر ہوتا ہے تو اس کو ڈانٹنا، اس کو پھٹکارنا اور ملک و قوم کو سبق پڑھانا، گویا صحافی نہیں خدا بیٹھا ہو ٹی وی پر۔ اور جب پروگرام کے بعد وہی اینکر اپنے احباب کی محفل میں بیٹھتا ہے تو بڑے فخر سے کہتا ہے بھئی ہم تو سرکار گراتے اور بناتے ہیں۔

اور یہی آج کی صحافت کی دنیا ہے۔ بلاشبہ صحافی سرکار گرانے اور بنانے کا کام کرتا ہے۔ جی ہاں، صحافت اب ایک آدرش نہیں، عوام کے حقوق کی آواز نہیں، بلکہ اس دور کی صحافت ایک دھندہ ہے جیسے باقی سب دھندے ہوتے ہیں۔ جیسے ہر دھندے کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ منافع کمانا ہوتا ہے، ویسے صحافت کے دھندے کا مقصد بھی ہر حال میں منافع کمانا ہوتا ہے۔ آج کے صحافی کو اصول، حق، انصاف پسندی جیسی باتوں سے کوئی لینا دینا نہیں۔ تب ہی تو آج صحافی کو 'واچ ڈاگ' نہیں 'لیپ ڈاگ' یعنی گودی میڈیا کہا جاتا ہے۔ پھر لمبا چوڑا نوٹ کما کر آج کا صحافی لمبی لمبی، مہنگی سے مہنگی گاڑیوں میں گھومتا ہے۔ فائیو اسٹار ہوٹلوں کے مزے لیتا ہے۔ بڑے بڑے فارم ہاؤس اور عالیشان مکانوں میں رہتا ہے۔ اور تو اور، سنتے ہیں کہ دولت کی حوس میں بڑے صحافی اکثر مشہور سرمایہ داروں کی 'ڈیل میکنگ' کا بھی کام کرتا ہے اور موٹا کمیشن کماتا ہے۔ آپ دہلی کے پریس کلب چلے جائیے تو ایسے نہ جانے کتنے قصے آپ کو سنائی پڑ جائیں گے۔ پتہ نہیں کتنا سچ اور کتنی مرچ مسالہ ہوتی ہے ان باتوں میں۔ لیکن میں خود شاہد ہوں کہ میرے سامنے پھٹیچر حال صحافی دیکھتے دیکھتے بڑے چینلوں کے مالک بن گئے اور اب ہزاروں کروڑ کے آدمی ہیں۔ ارے صاحب، ہمارے سامنے ایک صاحب ٹوٹے پھوٹے اسکوٹر پر چلتے تھے، ڈھابے پر چائے پیتے تھے۔ اب اپنے چینل کے مالک ہیں۔ ہفتے میں ایک بار اپنی عدالت سجاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک صحافی کے پاس چائے پینے تک کے پیسے نہیں ہوتے تھے، وہ بھی اب چینل کے مالک ہیں۔ ایسے ہی گلا پھاڑنے والے اور بات بات پر قوم سے سوال کرنے والے صحافی معمولی رپورٹر تھے۔ اب وہ ایک چینل میں ملکیت کے حقوق رکھتے ہیں۔

آخر صحافت کی دنیا میں یہ انقلاب زمانہ کیسے! سیدھی بات یہ ہے کہ جتنا بے ایمان اور بدکار آج کا سیاستداں اتنا ہی بے ایمان اور بدکار آج کا دھندے باز صحافی۔ اصول اور ایمان سب طاق پر۔ شام کو ٹی وی پر جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ کرنا ٹی وی پر صحافی کا کام ہو گیا ہے۔ دراصل آج کا بڑا صحافی واقعی سرکار گرانے اور سرکار بنانے کا کام ٹھیکے پر کرتا ہے۔ جی ہاں، صحافی اب صحافی نہیں ٹھیکیدار ہو چکا ہے۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں وہ کیسے ٹھیکے پر کام کرتا ہے۔ آپ نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا، لیکن اس وقت سمجھ نہیں پائے۔ ارے سنہ 2012 سے 2014 کے بیچ کا دور یاد کیجیے۔ سارے ہندوستان میں صحافت میں ٹو-جی معاملے کا شور تھا۔ صاحب ہر ٹی وی چینل اور اخبار میں یو پی اے حکومت کے خلاف ٹو-جی معاملے میں بدعنوانی کا وہ شور کہ اللہ کی پناہ۔ ہر ٹی وی اینکر کو بدعنوانی ختم کرنے کے لیے فوراً ایک لوک پال کی تقرری چاہیے تھی۔ گویا لوک پال آیا نہیں کہ بس ملک سے بدعنوانی کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ انا ہزارے لوک پال کے لیے جان دینے کو تیار۔ اروند کیجریوال اس تحریک کے روح رواں۔ ٹیلی کام وزیر بیچارے جیل چلے گئے۔ آخر کانگریس ٹو-جی اور لوک پال معاملے میں اس قدر بدنام ہوئی کہ سنہ 2014 کا چناؤ ہار گئی۔ اب آپ کی سمجھ میں آیا کہ پورا ٹو-جی معاملہ اور لوک پال تحریک ایک چھلاوا تھا۔ اس جھوٹ کو سچ بنانے کا ٹھیکہ صحافیوں کا تھا۔ صحافیوں نے یو پی اے سرکار کو بدنام کرنے کا ٹھیکہ لیا تھا تاکہ کانگریس قیادت والی منموہن حکومت اقتدار سے باہر ہو جائے۔ چنانچہ 2014 میں یہی ہوا بھی۔ بعد میں عدالت نے فیصلہ سنایا کہ پورا ٹو-جی معاملہ ہوا ہوائی تھا۔ حد یہ کہ وزیر بھی باعزت بری ہو گئے۔ لیکن صحافیوں نے جو ٹھیکہ لیا تھا اس میں وہ کانگریس کی سرکار گرانے میں کامیاب رہے۔ ظاہر ہے اس ٹھیکے میں کمیشن میں بڑی رقم کاٹی ہوگی۔

لیکن سنہ 2014 میں جب سے مودی جی برسراقتدار آئے تب سے صحافی سرکار چلوانے کا ٹھیکہ لیتے ہیں۔ مودی کی سیاست کی بنیاد یہ ہے کہ وہ کامیابی سے اپنے حق میں ہندو ووٹ بینک بناتے ہیں اور چناؤ جیت لیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہندو رد عمل بنا کر ہندو اکثریت کو مودی کے حق میں اکٹھا کرنے کے لیے ہندو ذہنوں میں ایک ہندو دشمن کا خوف پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اب وہ دشمن کہاں سے اور کیسے ایجاد کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ وہ دشمن مسلمان یا مسلم پاکستان ہی ہونا چاہیے تب ہی تو ہندو رد عمل پیدا ہوگا۔ آج کا صحافی ہندو ذہنوں میں اسی مسلم دشمن کی امیج بناتا ہے۔ اور وہ یہ کام ٹھیکے پر کرتا ہے تاکہ مودی جی کی سرکار چلتی رہے۔ ابھی دو ہفتے قبل کس خوبصورتی سے ٹی وی اور اخباروں نے تبلیغی جماعت کو دیکھتے دیکھتے کورونا جہادی اور ہندو دشمن بنا دیا۔ ہندو اب مسلمان سے اس قدر خائف ہے کہ وہ مسلم سبزی فروشوں کو اپنے علاقوں میں داخل ہونے سے روک رہا ہے۔ مسلمان بے چارہ اچھوت ہوتا جا رہا ہے۔ مگر مودی جی کا تو کام ہو گیا۔ مسلم منافرت کا بازار گرم ہو گیا۔ اب وہ جب چاہیں ووٹ کی فصل کاٹ لیں۔ اور صحافیوں کا مودی سرکار چلوانے کا ٹھیکہ کامیاب ہو گیا۔

تو جناب یہ ہے اکیسویں صدی کے ہندوستان کا صحافی اور اس کی صحافت۔ حق، ایمان اور انصاف طاق پر۔ ٹھیکیداری اور حکومت کے جھوٹ کو سچ کرنا زندہ باد۔ لب و لباب یہ کہ آج کی صحافت ایک دھندہ اور صحافی ٹھیکیدار ہو چکا ہے۔

Published: 3 May 2020, 10:11 AM