بنگلہ دیش کی پہلی خاتون فوٹو گرافر سعیدہ خانم کا انتقال

لبریشن وار کی فتح کے بعد جب ہندوستانی فوج کے سامنے پاکستانی فوج ہتھیار ڈال رہی تھی اس لمحے کو اپنے کیمرے سے قید کرنے والی سعیدہ خانم نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی تھی۔

تصویر بشکریہ ڈھاکہ ٹربیون
تصویر بشکریہ ڈھاکہ ٹربیون
user

یو این آئی

کلکتہ/،ڈھاکہ: 1971 میں لبریشن جنگ کے دوران اپنی فوٹو گرافی سے ہندوستان و ایسٹ پاکستان (بنگلہ دیش) سمیت پوری دنیا میں شہرت حاصل کرنے والی مشہور فوٹو گرافر سعیدہ خانم کا آج بنگلہ دیش کی راجدھانی ڈھاکہ میں انتقال ہوگیا۔ خانم کو بنگلہ دیش کی پہلی خاتون فوٹو گرافر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہے۔ ان کی عمر 72 سال کی تھی اور وہ گزشتہ کئی سالوں سے بیمار تھیں۔

لبریشن وار کی فتح کے بعد جب ہندوستانی فوج کے سامنے پاکستانی فوج ہتھیار ڈال رہی تھی اس لمحے کو اپنے کیمرے سے قید کرنے والی سعیدہ خانم نے لبریشن جنگ کے دوران پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی تھی۔ اس دور میں مسلم معاشرہ میں خاتون فوٹوگرافر کا تصور تک بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

19 دسمبر 1971 کو پاکستانی افواج نے خودسپردگی کی تھی۔ اس تاریخی لمحے کے وقت ڈھاکہ بین الاقوامی میڈیا کا مرکز بنا ہو اتھا۔ سعیدہ خانم کیمرہ لے کر ہر لمحے کو کیمرے میں قید کرنے کے لئے تگ و دو کرتی ہوئی نظر آرہی تھیں۔ 29 دسمبر 1936میں پبنا میں پیدا ہونے والی سعیدہ خانم طالب علمی کے دور سے ہی فوٹو گرافی کی شوقین تھیں۔ ان کے فوٹو آبزرور، اتفاق اور سنگباد میں شائع ہوتے تھے۔

پاکستان کی تقسیم سے قبل جب ایسٹ پاکستان میں تحریک زوروں پر تھی، بڑے پیمانے پر مار دھاڑ ہو رہی تھی اس وقت بھی سعید ہ خانم ایک خاتون فوٹو گرافر ہونے کے باوجود ہر لمحے کو اپنے کیمرے میں قید کرنے کے لئے اپنی جان کو خطر میں ڈالتی تھیں۔ اسی وجہ سے انہیں بنگلہ دیش کا آئیکونک فوٹوگرافر کہا جاتا تھا۔

انہوں نے کئی بین الاقوامی سیمیناروں میں شرکت کی۔ اس کے علاوہ ستیہ جیت رائے کی فلموں میں بھی ان کے فوٹوکا استعمال ہوچکا ہے۔ وہ ڈھاکہ سے شائع ہونے والے ایک اخبار کی فوٹو جرنلسٹ بن کر کلکتہ میں رہ چکی ہیں اورستیہ جیت رائے کے فلم عکس بندی اور کئی پروگراموں کی فوٹو گرافی کرچکی ہیں۔سعیدہ خانم نے ”ستیہ جیت رائے“ پر ایک کتابRay in My Eyes"بھی لکھ چکی ہیں۔ ان کے فوٹوؤں کی ہندوستان، جاپان، فرانس، سویڈن، پاکستان، سائبریا اور امریکہ میں نمائش ہو چکی ہے۔ وہ یونیسکو ایوارڈ کے علاوہ کئی بین الاقوامی ایوارڈ بھی حاصل کر چکی تھیں۔

next