کیوں نہ کہوں: ابھی بھی موقع ہے... سید خرم رضا

وبا کے نتیجے میں جو لاک ڈاؤن ہوا اس نے بھی ہمیں موقع دیا کہ ہم اپنی سماجی ترجیحات بدل دیں۔ ہمارے پاس موقع تھا کہ ہم اپنی سماجی سوچ میں تبدیلی لاکر اپنی تقریبات میں سادگی لائیں، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

سید خرم رضا

جب چین اور کچھ یوروپی ممالک میں کورونا کے پھیلاؤ پر تبصرے شروع ہوئے تو اس وقت دہلی میں جب کچھ لوگ اس کی بات کرتے تھے یا میٹرو وغیرہ میں ماسک پہنتے تھے باقی لوگ تو اس طرح کی بات کرنے والوں کو خاطر میں ہی نہیں لاتے تھے اور ماسک پہننے والوں کو کچھ لوگ ڈرپوک یا بے وقوف بھی کہتے تھے۔ ان سب کو لگتا تھا کہ یہ سب ہمارے لئے نہیں ہے۔ یہ بیماری چین کی ہے اور صرف چین والوں کے لئے ہی ہے، کیونکہ ان کے کھانے پینے اسی طرح کے ہیں۔ بہرحال پھر یوروپی ممالک میں جب یہ وائرس اپنے عروج پر آیا تو تھوڑا ڈر تو پیدا ہوا پر اس وقت بھی یہ بھروسہ اور اعتماد رہا کہ یہ وائرس ہمارے یہاں کی گرمی میں اپنے پیر زیادہ نہیں پھیلا سکتا، بس باہر سے آنے والے کچھ لوگوں کے ساتھ یہ وائرس آئے گا اور یہاں اپنی موت مر جائے گا۔

جب طبی ماہرین نے اس کے خوفناک پہلوؤں کو اجاگر کرنا شروع کیا اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے لئے کہا تو حکومت کچھ حرکت میں آئی، لیکن اس وقت بھی حکومت کی ترجیحات ملک کی بھولی بھالی عوام کی طرح زیادہ نہیں تھیں۔ اس لئے حکومت نے بھی اپنے تمام ضروری کام نمٹائے جیسے پارلیمنٹ کا اجلاس، مدھیہ پردیش میں حکومت کی تبدیلی وغیرہ وغیرہ۔ اس کے لئے جو اقدام اٹھائے گئے ان میں بھی کوئی دوراندیشی اور سنجیدگی نظر نہیں آئی۔ وزیر اعظم نے پہلے ایک دن کا جنتا کرفیو نافذ کیا، پھر 21 دن کا لاک ڈاؤن نافذ کر دیا اور یہ اعلان کر دیا کہ جس طرح 18 دن میں مہابھارت ختم ہو گئی تھی ویسے ہی 21 دن میں ہم کووڈ کے خلاف بھی جنگ جیت لیں گے۔ تھالی، تالی بھی بجوائی اور چراغاں بھی کروا دیا۔ آج صورتحال بہت تشویشناک ہے یعنی کووڈ کے 90 ہزار سے زیادہ نئے معاملہ ایک دن میں رپورٹ ہوئے ہیں اور ابتداء میں جو اقدام اٹھائے گئے تھے ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت میں بیٹھے افسران اور سیاست دان نے اس وبا کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور وہ بھی شائد بھولی بھالی عوام کی طرح یہی امید کرتے رہے کہ اس وائرس کی موت ہمارے یہاں کی گرمی سے ہو جائے گی یا پھر ہماری دیسی دوائیں اس کو بھگانے میں کامیاب رہیں گی، بہرحال نہ ایسا ہوا اور نہ ایسا ہونا تھا۔

اس وبا نے ہمیں اپنے سماج کی خامیوں کو دور کرنے کے لئے وقت اور ضرورت دونوں فراہم کیے لیکن شروع میں ہم نے گھر میں لوڈو، کیرم وغیر کھیلنے میں یا نئے نئے پکوان بنانے میں ضائع کر دیئے۔ اس وبا نے سماج کو موقع دیا تھا مذہب کی صحیح شکل پہچاننے اور اپنے رویوں پر غور کر کے اس میں ضروری تبدیلی لانے میں۔ جب ہم نے مذہب کی بنیادی حقیقتوں پر غور ہی نہیں کیا تو پہچاننے اور تبدیلی پر بات کرنا ہی فضول ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چاہے ہم مندر اور مسجد نہ گئے ہوں، چاہے عبادات کے طریقہ بدلے ہوں، لیکن ہماری مذہبی شدت پسندی میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔

وبا کے نتیجے میں جو لاک ڈاؤن ہوا اس نے بھی ہمیں موقع دیا کہ ہم اپنی سماجی ترجیحات بدل دیں۔ ہمارے پاس موقع تھا کہ ہم اپنی سماجی سوچ میں تبدیلی لا کر اپنی تقریبات میں سادگی لائیں، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ آج جو بھی تقریبات ہو رہی ہیں اس میں قانونی مجبوری کے باوجود ہماری کوشش یہ ہے کہ ہمارے شوق، مستی اور دکھاوے میں کوئی کمی نہ آئے۔ اس ماحول میں بھی فارم ہاوسز میں پکنک ہو رہی ہیں اور شادی، لال خط کی رسمیں اور یہاں تک کہ جن لوگوں کا کووڈ یا دوسری وجہ سے انتقال ہوا ہے ان کے لئے قران خوانی کرنا اور کھانے بنواکر تقسیم کرنے کا چلن بدستور جاری ہے۔

اس وبا نے حکومت اور نجی شعبہ کو ایک موقع دیا تھا کہ اس وبا کی وجہ سے ہم اپنے ملک کے طبی نظام کو چست درست کر لیتے۔ ہم ترجیحی بنیاد پر اور جنگی پیمانہ پر پورے ملک میں طبی سہولیات کا جال بچھا دیتے، لیکن ہماری ترجیحات کا تو اس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ چار گھنٹے کے مختصر ترین وقفہ پر ہم لاک ڈاؤن نافذ کر دیتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی خیال نہیں ہوتا کہ جو آدمی باہر گیا ہوا ہے، جو آدمی ٹرک سے سامان لے کر گیا ہوا ہے، جو شخص دفتر کے کسی ضروری کام سے دوسرے شہر گیا ہوا ہے، جو گاؤں سے بڑے شہروں میں اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے رکشہ چلانے آیا ہوا ہے وہ 21 دن تک کیا کھائے گا اور کہاں سے لائے گا۔ بہرحال یہ چھوڑیئے کہ مہاجر مزدور سڑکوں پر آئے، گھر جانے کے لئے پیدل یا کسی بھی سواری سے اپنے گھر جانے کے لئے مجبور ہوئے، لیکن اگر ان کو اپنے گاؤں میں طبی سہولیات کے لئے کچھ کام ہوتا نظر آتا تو ان کو یہ خوشی ضرور ہوتی کہ اب گاؤں کا کوئی فرد مستقبل میں بیمار ہوگا تو اس کو شہر کی طرف بھاگنا نہیں پڑے گا یا علاج نہ ہونے کی وجہ سے موت اس کو اپنی آغوش میں نہیں لے گی۔ لیکن افسوس ایسا نہیں ہوا۔

وبا کے طبی پہلو جو بھی رہے ہوں لیکن اس خراب پہلو سے اچھا پہلو یہ بھی نکالا جا سکتا تھا کہ جس طرح وبا نے اونچ نیچ، ذات پات، مذہب کو نہیں دیکھا تھا ایسے ہی ہم بھی ان چیزوں کو ہمیشہ کے لئے دفن کر دیتے۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس وبا سے بھی ہم نے کچھ نہیں سیکھا بلکہ اس دور میں بھی اپنی گھٹیا اور فرسودہ سوچ کی وجہ سے ہم منافرت کو بڑھاتے ہی رہے۔ ہم نے سبزی خریدنے میں ہندو-مسلم دیکھنا بھی شروع کر دیا، ہم نے مذہبی تنظیموں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

افسوس تو ہے ہی کہ اس وبا کے دوران بھی ہم نے اس سے کچھ سبق نہیں لیا اور ہم نے اپنی پرانی روش اور فرسودہ سوچ کو طلاق نہیں دی، لیکن اس کی وجہ سے ہم نے اس سماج کو زندہ رکھا جس میں طبی سہولیات کا فقدان ہے، جس میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت بہت زیادہ ہے، جس میں سماجی تقریبات اور رسموں کے تقاضہ غریبوں کے لئے پریشانی کا باعث ہیں اور جس میں مذہبی شدت پسندی میں کوئی کمی نہیں ہے۔ ملک کے دانشور اور حکمراں جماعت چاہیں تو ابھی بھی اس وبا کو اچھے سماج کی تشکیل کے لئے استعمال کر سکتے ہیں، ابھی بھی موقع ہے۔

Published: 6 Sep 2020, 7:08 PM
next