کورونا وبا میں سرمایہ دارانہ نظام ڈراؤنی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے... سید خرم رضا

سرمایہ دارانہ نظام کی تصویر ہر نئے دن کے ساتھ مزید ڈراؤنی ہوتی جا رہی ہے۔ کیونکہ اس نظام میں پیسہ چند ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گیا ہے، جو غریب عوام میں غصہ پیدا کرے گا جو شائد نئے نظام کی جانب لے جائے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سید خرم رضا

اپنی منزل پر جلدی پہنچنے کے لئے لوگ ابھی بھی پہلے کی طرح لال بتی پر نہیں رک رہے، اوبر کیب والا ابھی بھی فون کر کے پہلے پوچھتا ہے کہ کہاں جانا ہے تاکہ اگر اس کی مرضی کے روٹ کی سواری نہ ہو تو وہ کینسل کر دے، دفتروں میں ابھی بھی آپ کا ضروری اور صحیح کام ہو، وہ رشوت کے بغیر نہیں ہو رہا ہے۔ وبا پھیلنے کے ابتدائی دنوں میں جب لاک ڈاؤن کے دوران گھر میں رہنا پڑا تو ایسا محسوس ہوا کہ یہ وبا کتنی بھی جان لیوا کیوں نہ ہو لیکن انسان اس سے سبق لے کر اپنے اندر کوئی تبدیلی ضرور لائے گا۔ لیکن کچھ دنوں کی گھر میں مستی کے بعد، بڑھیا بڑھیا کھانے بنانے کے بعد اور بڑی اچھی اچھی باتیں کرنے کے بعد انسان اپنی پرانی روش پر واپس لوٹ آیا۔

انسان بہت تیزی کے ساتھ اپنی روش پر لوٹ آیا ہے لیکن کیا دنیا کی معیشت بھی اتنی تیزی کے ساتھ واپس لوٹ آئے گی۔ اگر 1918 میں اسی طرح کی وبا جس کو ہم ’اسپینش فلو‘ کے نام سے جانتے ہیں، پر نظر ڈالیں تو اس کا دنیا کی معیشت پر زیادہ اثر نہیں پڑا تھا۔ اس لئے صرف طبی اثرات کے بارے میں تو کہا جا سکتا ہے لیکن معاشی اثرات کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس لئے اس کی روشنی میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ موجودہ وبا سے معاشی اثرات کیا ہوں گے۔ ’اسپینش فلو‘ سے عالمی معیشت اس لئے متاثر نہیں ہوئی تھی کیونکہ اس وقت معیشت کا پھیلاؤ زیادہ نہیں تھا۔ اس وقت کی معیشت کا سیاحت اور نقل و حمل پر زیادہ دارومدار نہیں تھا۔ اس وقت تو کھیل اور تفریح میں بھی معاشی پہلو کا دخل نہیں تھا لیکن آج صورتحال مختلف ہے۔ آج زندگی میں اٹھائے جانے ولے ہر قدم کا تعلق معیشت سے ہے اور ہر قدم کے اثرات معیشت پر واضح نظر آتے ہیں۔

عالمی ترقی کا ایک ڈراؤنا پہلو یہ ہے کہ آج ہر ملک کی معیشت چند ہاتھوں میں ہے اور یہ چند ہاتھ جب چاہیں حکومت کا اور جب چاہیں سرکاری اداروں کا ہاتھ مروڑ کر اپنے حق میں فیصلہ کرا لیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام سرکاری ادارے بہت کمزور اور لاچار نظر آتے ہیں۔ اسی کی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی بڑے ممالک میں حکومتیں اس قدر طاقتور ہیں کہ عوام مجبور اور لاچار نظر آتے ہیں۔ قوم پرستی اور شخصیت پرستی اپنے عروج پر ہے۔

1905 میں روس میں شاہی نظام کے خاتمہ کی شروعات ہو گئی تھی اور مزدوروں کی کئی ہڑتالوں نے’ زار نظام‘ یعنی شاہی نظام کی چولیں ہلا دی تھیں۔ 1917 میں لینن کی قیادت میں ایک زبردست انقلاب آیا اور پھر مزدوروں کے راج کی بات شروع ہوگئی۔ مذہب جس کی سماج میں سب سے زیادہ اہمیت تھی اور چرچ کے خلاف کوئی چوں بھی نہیں کر سکتا تھا، اس سے بھی سوال پوچھے جانے لگے جس کے نتیجے میں روس کے علاوہ کئی ممالک میں مذہب نے بھی اپنی موت دیکھی۔ اس نئے نظام میں جہاں شاہی خاندان اور مذہب کا کوئی تصور نہیں تھا اس کو کمیونزم کا نام دیا گیا اور دھیرے دھیرے اس نئے نظام نے ایک فیشن کی شکل اختیار کرلی، اس کی تعریف کرنا اور اس سے جڑنا ایک دانشور ہونے کی پہچان بن گئی۔

ساٹھ-ستر سال اس نظام نے دنیا کے بڑے حصہ کو متاثر کیا اور ایک بڑے خطے میں اس کا سکّہ چلا لیکن شدت اور عدم اعتدال کی وجہ سے یہ اپنے وزن کے نیچے خود دفن ہو گیا اور اب دنیا میں اس نظام کا کوئی نام لیوا نہیں ہے، صرف چین میں نام چارے کا کمیونزم بچا ہوا ہے اور اس نے بھی سرمایہ دارانہ نظام کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے۔

جس سرمایہ دارانہ نظام نے مزدوروں کے نظام کی جگہ لی تھی اس کی شکل بھی اب بہت خوفناک ہوتی جا رہی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں مقابلہ تھا اور کئی سرمایہ دار میدان میں تھے، جہاں پر حکومت کا دباؤ نظر آ تا تھا، لیکن اب سرمایہ داروں کی تعداد ہر ملک میں سکڑتی جا رہی ہے اور اب سرمایہ چند ہاتھوں میں سمٹتا جا رہا ہے۔ کیونکہ زندگی کے ہر شعبہ میں سرمایہ کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے، اس لئے جس کے پاس سرمایہ ہے اس کی طاقت اور اس طاقت کی وجہ سے اس کے سرمایہ میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومتیں بھی اب ان چند سرمایہ داروں کی مٹھی میں ہیں۔

وبا کے اس دور میں جہاں حکومت کے پاس پیسہ نہیں ہے، عوام کے پاس پیسہ بس اتنا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور آگے پیسہ آنے کے اثرات ان کو نظر نہیں آ رہے، کسان، مزدور، چھوٹا تاجر سب پریشان ہیں، لیکن اس دوڑ میں بڑے سرمایہ داروں کی پونجی میں مستقل اضافہ ہو رہا ہے۔ سرمایہ کا چند ہاتھوں میں مقید ہونا اور ان کے سرمایہ میں لگاتار اضافہ ہونے کا مطلب ہے، سماج میں بے چینی کا اضافہ ہونا۔ سرمایہ دارانہ نظام کی ڈراؤنی تصویر ہر نئے دن کے ساتھ مزید ڈراؤنی ہوتی جا رہی ہے۔ اب لگنے لگا ہے کہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام جس میں پیسہ چند ہاتھوں میں سمٹ گیا ہے، یہ غریب عوام میں غصہ پیدا کرے گا شائد یہ غصہ کسی اور نظام کی جانب لے جائے۔

اس نظام کے خلاف کئی دانشور سامنے آئیں گے وہ متبادل راستے پیش کریں گے اور بہت ممکن ہے کہ یہ’ کرونی کیپیٹل ازم‘ یعنی سرمایہ کا چند ہاتھوں میں ہونا اس وبا کی بھینٹ چڑھ جائے۔ یہ سرمایہ دارانہ نظام اگر اس وبا کی بھینٹ چڑھتا ہے تو پھر مان لیجیے یہ اپنے ساتھ مذہبی شدت پسندی، قوم پرستی اور شخصیت پرستی کو بھی لے جائے گا۔ بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ اس وبا سے انسان کی سوچ پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا اور وہ پھر اپنی پرانی روش پر لوٹ آیا ہے لیکن ایسا نہیں ہے، ابھی وہ زندہ رہنے کی جدو جہد کر رہا ہے، لیکن آنے والے دنوں میں وہ اتنا پریشان ہو جائے گا کہ نظام بدلنے کی بات کر سکتا ہے۔ جب وہ یہ بات کرے تو ہمیں حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

    next