کیوں نہ کہوں: کہاں لے جائے گا یہ میڈیا کا بڑھتا شور ... سید خرم رضا

ابھی حال ہی میں ایک ٹی وی مباحثہ میں کانگریس ترجمان راجیو تیاگی کی دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی اور اس کے لئے سوشل میڈیا پر ٹی وی کے ان مباحثوں کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا جو اپنی نچلی سطح تک چلے گئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

Syed Khurram Raza

سال 2001 میں جب محمد عامر خان کے والد کی عدالت میں عدم موجودگی کے بارے میں جج نے پوچھا تو پولیس والے نے بتایا کہ وہ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ معزز جج نے عامر کو ایک گھنٹے کے لئے والد سے ملنے کی اجازت دے دی۔ عامر اسپتال میں جب اپنے والد سے ملنے پہنچا تو والد کا بس یہی کہنا تھا کہ بیٹا میں آج سماعت کے لئے عدالت نہیں آ سکا۔ اس وقت تک دہلی کے محمد عامر خان 19 معاملوں میں سے 11 معاملوں میں بری ہو چکے تھے لیکن اس واقعہ کے کچھ ہفتوں بعد عامر کے سر سے ان کے والد کا سایا ہمیشہ کے لئے اٹھ گیا۔ عامر کے والد جو ہر سنوائی پر عدالت کھلنے سے پہلے وہاں پہنچ جاتے تھے اور اپنی درخواست ٹائپ کرا کر عامر کو ایک نظر دیکھنے کے لئے بےچین رہتے تھے ان کے انتقال کے بعد عامر کی والدہ جن کو عدالت کی کارروائی اور زبان سے کوئی واقفیت نہیں تھی انہوں نے عدالت کے چکر لگانے شروع کر دئے۔

سال 2012 میں عامر کے خلاف جو 19 مقدمات درج کئے گئے تھے عدالت نے ان میں سے 17 میں اس کو بری کر دیا تھا۔ عدالت کے اس فیصلہ کے نتیجہ میں 14 سال بعد محمد عامر خان نے جب جیل سے باہر قدم رکھا تو پوری دنیا ہی بدل چکی تھی۔ 18 سال کی عمر میں اس کو دہشت گردی، بم دھماکوں اورملک سے غداری کے نہ جانے کتنے الزامات کے تحت پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔ اس نے اس دوران والد کو تو کھویا ہی ساتھ میں ٹارچر کےنام پر کیا کیا ازیتیں برداشت کیں اس کا ذکر بہت ہو چکا ہے۔ رہائی کے بعد عامر کو جہاں اس بات کا سکوں تھا کہ وہ اپنی بوڑھی والدہ کی خدمت کر سکتا ہے وہیں اس کی محبت عالیہ ابھی بھی اس کا انتظار کر رہی تھی۔ سال 2015 میں عامر کی والدہ کا بھی انتقال ہو گیا اور فالج کی وجہ سے وہ اپنے بیٹے کو اپنے منہ سے بیٹا نہیں کہہ سکیں۔

جب عامرکی گرفتاری کی خبر آئی تھی تو ذرائع ابلاغ نے اس کی اس کے خاندان کی شبیہ ایسی کر دی تھی کہ خود خاندان کے لوگ ان کے اہل خانہ سے ملتےہوئے گھبراتے تھے اور ان کو ڈر لگتا تھا کہ کہیں ان سے کوئی ہمدردی جتانے کے بعد ان کے لئے بھی کوئی پریشانی نہ کھڑی ہو جائے۔ عامر،عامرکے والدین اور وہ لڑکی جو اس سے اس وقت محبت کرتی تھی جب وہ گرفتار ہوا تھا، انہوں نے امید اور ہمت کا دامن کبھی نہیں چھوڑا۔یہی وجہ ہے کہ قومی انسانی حقوق کمیشن نے جب عامر کو ان کی بکھری ہو ئی زندگی سمیٹنے کے لئے حکومت سے پانچ لاکھ روپے کی مدد دینے کے لئے کہا تو تو عامر کے پاس بس یہی جواب تھا کہ اس رقم سے اس کی زندگی کے 14 سال تو واپس نہیں آئیں گے لیکن اتنا ضرورہے کہ یہ رقم اس کی بیٹی کی تعلیم میں ضرورمدد گار ثابت ہو گی۔

ابھی حال ہی میں ٹی وی کے ایک مباحثہ میں کانگریس کے ترجمان راجیو تیاگی کی دل کا دورہ پڑنے سے موت ہو گئی اور اس کے لئے سوشل میڈیا پر ٹی وی کے ان مباحثوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جو اپنی نچلی سطح تک چلے گئے ہیں۔ لیکن ٹی وی نے ان سب چیزوں سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ آج دن میں جس وقت بھی ٹی وی کھولئے بس اس پر سشانت کی موت کے تعلق سے اس کے ساتھ رہی ماڈل ریا چکربرتی سے پوچھ تاچھ کی خبریں چل رہی ہوتی ہیں۔ ریا نے جب ٹی وی پر آکر یہ کہا کہ اس نے اور اس کے گھر والوں نے کئی مرتبہ خودکشی کرنے کے بارے میں سوچا اور کئی مرتبہ اس کے دل میں یہ بھی خیال آیا کہ کوئی ان کے خاندان کو آکر گولی مار دے۔

یہ حال کیوں ہو گیا ؟ کیوں ہم ٹی آر پی کے لئے میڈیا میں سارے دن ٹرائل کرتے رہتے ہیں؟ کیا یہ موت یا خودکشی کا کوئی پہلا معاملہ ہے؟ آخر ہم عدالتوں اور تفتیش کرنے والی ایجنسیوں کو بغیر دباؤ کے کام کیوں نہیں کرنے دیتے؟ کل کو اگر ریا اس سارے معاملہ میں عامر کی طرح بری ہو جاتی ہیں تو کیا ہم ریا کا کیریئر واپس دلا سکتے ہیں، کیا ہم اس کے والدین اور اس کے گھر والوں کی ہو رہی بے عزتی واپس دلا سکتے ہیں؟

اس سارے معاملہ میں میڈیا کو سمجھنا ہو گا، اپنا شور کم کرنا ہوگا، ٹی آر پی کے لئے ایجنسیوں کی جانچ میں خلل ڈالنے یا رائے تھوپنے سے بچنا ہوگا۔ملک کی قیادت کو سوچنا ہوگا کہ ٹی آر پی اور انتخابات کی یہ اندھی دوڑ کہیں سماج کو برباد نہ کر دے۔ ہمیں سماج کو ایسا بنانا ہو گا جہاں عامر جیسے واقعات دہرائے نہ جائیں، ہمیں کل کو کسی اور عامر کے لئے پچھتانا نہ پڑے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ سماج میں میڈیا کا شور کم ہو۔

Published: 30 Aug 2020, 6:56 PM
next