پھنسنے پھنسانے کا دور پہلے کی طر ح ہی جاری ہے... سید خرم رضا

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اب ترقی کے ساتھ پھنسانے کے آلات اور طریقہ بدل گئے ہیں، لیکن پھنسنے اور پھنسانے کا کھیل ویسے ہی چل رہا ہے جیسے پہلے چلتا آیا ہے، بس دور کے ساتھ طریقہ ضرور بدل گئے ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سید خرم رضا

ویسے پھنس تو کوئی بھی سکتا ہے لیکن ضرورت مند اور کمزورں کو پھنسانا زیادہ آسان ہے، بس پھنسانے کے لئے چالاکی، عیاری کے ساتھ ساتھ تھوڑا صبر بھی ہونا چاہیے۔ گھنٹوں گھنٹوں ندی کے کنارے مچھلی پکڑنے والے یا اپنے جال میں مچھلی پھنسانے والے لوگ بیٹھے رہتے ہیں اور ذرا سی حرکت ہوتے ہی ڈور اس امید سے کھینچ لیتے ہیں کہ کوئی بڑی مچھلی پھنس گئی ہے، لیکن جب ان کے پھینکے گئے کانٹے میں مچھلی نہیں پھنستی اور کانٹے میں لگایا گیا چارا بھی مچھلی کھا جاتی ہے تو وہ بیچارے پھر چارا لگا کر پانی میں کانٹا اس امید سے پھینک دیتے ہیں کہ اس مرتبہ تو مچھلی پھنس ہی جائے گی اور پھر پورے صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈور کے ہلنے کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔

اس آزمائش کے دور سے صرف مچھلی پکڑنے والے ہی نہیں گزرتے بلکہ وہ بچے بھی گزرتے تھے جو سارا سارا دن اس کوشش میں ایک چھوٹی ڈنڈی لگا کر ڈلیا یا گھر کے کسی اور برتن کے نیچے دانا ڈال کر چڑیا پکڑنے کی کوشش کرتے تھے۔ بیچارے بچے کوشش کرتے تھے کہ کسی طرح چڑیا ان کی ڈلیا یا برتن کے نیچے دانا چُگنے آ جائے اور وہ جلدی سے ڈنڈے کی رسی کھینچ لیں تاکہ دانا کھاتی ہوئی چڑیا اس ڈلیا کے نیچے پھنس جائے، مگر ان بچوں کو بہت کم کامیابی ملتی تھی کیونکہ کبھی چڑیا ڈنڈی گرا کر اڑ جاتی تھی یا بچے کبھی پہلے ہی رسی کھینچ لیتے تھے اور چڑیا پُھر ہو جاتی تھی۔ بیچارے بچے پھر سے ڈلیا کو ڈنڈی کے سہارے کھڑا کرتے تھے اور امید کرتے تھے کہ اس مرتبہ تو وہ چڑیا کو اس جال میں پھنسا ہی لیں گے۔ صبر کے ساتھ پھر وہ چڑیا کا انتظار کرنے لگتے تھے۔

آج تھوڑا دور بدل گیا ہے، لڑکوں کو لڑکیوں کو پٹانے یا پھنسانے میں زیادہ مشقت نہیں کرنی پڑتی۔ ایک زمانہ تھا کہ لڑکی تک اپنے جذبات کے اظہار کرنے میں ہی یا تو لڑکی کی شادی ہو جاتی تھی یا خود لڑکے کی۔ لیکن پھنسانے کے لئے اس میں بھی بہت محنت کرنی ہوتی تھی، کئی مرتبہ تو خط کا مضمون لکھ کر بھی اس کو دینے کی ہمت نہیں ہوتی تھی جس کے لئے اتنی محنت کی ہوتی تھی اور جب اس کی شادی ہو جاتی تھی تو اس کے پچھتاوے پر دوست کہتے تھے کہ اب تو چڑیا چگ گئی کھیت۔ بہرحال انسان اپنی ضرورت اور خواہش پوری کرنے کے لئے یا پھر کسی معصوم کی پرواز کو قید کر نے کے لئے ہر ہتھکنڈا استعمال کرتا ہے۔

جس کے پاس جتنی طاقت اور ذرائع ہوتے ہیں اس کے حساب سے وہ اپنی خواہش پوری کرنے کے لئے کہیں دانا ڈالتا ہے، کہیں چارہ لگاتا ہے اور کہیں خط لکھتا ہے، مطلب صاف ہے کہ وہ اپنی خواہش پوری کرنے کے لئے ہر ہتھکنڈا استعمال کرتا ہے۔ چالاکی، ہوشیاری، عیاری اور صبر کے ساتھ ساتھ جس کو پھنسانا ہے اس کا ضرورت مند ہونا، کمزور ہونا اس کھیل میں کامیابی کی ضمانت ہوتا ہے۔ سیاست داں اس فن کے ماہر ہوتے ہیں اور یہ ان سے بہتر کوئی نہیں سمجھتا کہ ڈور کو کب اور کیسے ہلنے پر کھینچا جاتا ہے، چڑیا کو ڈلیا میں پھنسانے کے لئے کب رسی کھینچی جاتی ہے اور اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لئے کب کیا کیا جاتا ہے۔

بھوک ایسی چیز ہے جو آپ کو شکاری کی طرف لے جاتی ہے اور آپ خود بخود شکار ہو جاتے ہیں۔ شکاری تو ہر جگہ پہلے ہی سے کانٹا ڈالے بیٹھے ہوئے ہیں۔ بیچاری مچھلی بھوک اور اچھے کھانے کے چکر میں کانٹے میں پھنس جاتی ہے۔ چڑیا بھی بہت معصوم ہوتی ہے وہ بھی دانا دیکھ کر آجاتی ہے جہاں اس کی پرواز کو قید کرنے کے لئے شکاری نے دانا ڈال کر ڈلیا کا جال بچھایا ہوا ہوتا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اب ترقی کے ساتھ پھنسانے کے آلات اور طریقہ بدل گئے ہیں، لیکن پھنسنے اور پھنسانے کا کھیل ویسے ہی چل رہا ہے جیسے پہلے چلتا آیا ہے، بس دور کے ساتھ طریقہ ضرور بدل گئے ہیں۔

next