عالمی آواز-4: کاش مساجد اور چرچ کھلے رہتے لیکن یہ نفریتیں ختم ہو جاتیں... سید خرم رضا

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ جاری ہے۔ دونوں سابق سوویت یونین کا حصہ تھے اور 80 کی دہائی میں سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد دونوں آزاد علیحدہ ریاستوں کی شکل میں سامنے آئے تھے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سید خرم رضا

کورونا کی دہشت تو کم ہو گئی ہے لیکن خوف بدستور جاری ہے۔ شروع میں ایسا لگ رہا تھا جیسے کورونا کی وبا طبی مسائل ضرور پیدا کر ے گی لیکن اس کے خوف اور دہشت میں بہت سارے مسائل اپنی موت مر جائیں گے اور دنیا میں آپسی اتحاد اور بھائی چارہ کی ایک نئی لہر چلے گی۔ افسوس ایسا نہیں ہوا،دنیا کے لوگوں کے ذہنوں میں ابتدائی دنوں کے علاوہ کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی اور دنیا اپنی پرانی روش پر گامزن ہے۔اپنی پرانی روش پر قائم رہنے کی بڑی وجہ یہ تھی کہ جیسے ہی اس وبا کے پھیلنے کی دستک مغربی ممالک میں محسوس ہوئی ویسے ہی دنیا کے سب سے طاقت ور ملک کے صدر یعنی ڈونالڈ ٹرمپ نے اس بیماری کے علاج اور احتیاط کے بجائے اس وبا کے لئے چین کو گھیرنا شروع کر دیا۔

جب دنیا کے سب سے طاقتور اور ترقی یافتہ ملک کے رویہ میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی تو باقی ممالک نے بھی اپنی روش میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ ویسے تو پوری دنیا میں چند روز یا ماہ کے بعدوبا کی دہشت کم ہونی شروع ہو گئی تھی لیکن کئی ممالک نے تو حد ہی کر دی۔ اس میں چین ایک ایسا ہی ملک ہے جس نے وبا کی رتی بھر پرواہ نہیں کی اور ہندوستان میں دراندازی کی ناکام کو شش کر دی ۔ لیکن آذربائیجان اور آرمینیا نے تو تمام حدیں عبور کر دیں۔

گزشتہ ایک ہفتہ سے دونوں ممالک میں ناگورنو قرہباغ کے متنازع خطے کو لے کر خوں ریز جنگ جاری ہے اور تازہ اطلاعات کے مطابق ابھی تک اس جنگ میں کم از کم 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس تازہ جنگ کو دونوں ممالک کے درمیان حال کی تاریخ میں سخت ترین لڑائی بتایا جا رہا ہے۔امریکہ، فرانس اور روس نے اس لڑائی کی مذمت کی ہے اور فوری جنگ بندی کی اپیل بھی کی ہے لیکن اس کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ آذربائیجان نے جنگ بندی کی ہرپیش کش کو مسترد کر دیا ہے اور اس کے اتحادی ملک ترکی نے بھی جنگ بندی کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

جنگ ہونا، اس کے بعد جنگ بندی کی اپیل کرنا اور اس اپیل کو مسترد کر دینا وہ بھی اس ماحول میں جب پوری دنیا ایک طبی وبا کی لپیٹ میں ہے، دنیا کے امن کے لئے ایک تشویش کا پہلو تو ہے۔یہاں اس بات کو دھیان میں ضرور رکھنا چاہئے کہ ناگورنو قرہباغ کو بین الاقوامی طور پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے لیکن سنہ 1994 میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ ختم ہونے کے بعد سے اس کا سرکاری انتظام آرمینیائی نسل کے لوگوں کے پاس ہے۔اب یہ مسئلہ دو ممالک کی جنگ تک محدود نہیں رہ گیا، اب اس جنگ میں دو بڑے ممالک باقائدہ فریق نظر آ رہے ہیں اور ان ممالک کے فریق بننے کے بعد دنیا میں ایک واضح تقسیم نظر آ رہی ہے۔ اس وقت جہاں ترکی نے کھلے طور پر آ ذربائیجان کی حمایت کی ہے وہیں روس کا آ رمینیا کے ساتھ نہ صرف فوجی اتحاد ہے بلکہ اس کا ایک فوجی اڈہ بھی آرمینیا میں ہے۔

چار دہائیوں سے ان دونوں ممالک کے درمیان ناگورنو قرہباغ کا تنازعہ چل رہا ہے اور اس مسئلہ کا کسی بھی جانب سے کوئی حل سامنے نہیں آیا۔آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان سنہ 1980 کی دہائی کے آخر میں لڑائی شروع ہوئی تھی جس نے سنہ 1991 میں مکمل جنگ کی شکل اختیار کر لی تھی۔حال میں جو جنگ شروع ہوئی ہےاس کی وجہ بتائی جاتی ہے کہ آرمینیا کی وزارت دفاع نے الزام لگایاہے کہ آذربائیجان نے متنازع علاقے میں آباد عام لوگوں کی بستیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

واضح رہے آرمینیا اور آذربائیجان دونوں سابق سوویت یونین کا حصہ تھے اور 80 کی دہائی میں سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد دونوں آزاد علیحدہ ریاستوں کی شکل میں سامنے آئے تھے۔ آرمینیا میں جہاں عیسائی مذہب کے لوگوں کی اکثریت ہے وہیں آذربائیجان میں اسلام کو ماننے والوں کی اکثریت ہے۔ جس پہاڑی خطہ کو لے کر دونوں ممالک میں اختلاف ہے اس کو ناگورنوقرہباغ کے نام سے جانا جاتا ہے اور جغرافیائی اعتبار سے وہ آذربائیجان کا حصہ لگتا ہے کیونکہ اس کے چاروں طرف آذربائیجان ہی ہے اور بین الا قوامی طور پر ناگورنو قرہباغ کو آذربائیجان کا ہی حصہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ لیکن 1992کی جنگ کے بعد سے اس پر آرمینیا کا قبضہ ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 1980 سے 1992 تک جنگ چلی جس میں 30 ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ اس جنگ کے بعد جنگ بندی ضرور ہو گئی تھی لیکن اس جنگ بندی کا کسی نے کبھی احترام نہیں کیا۔

کورونا وبا کے اس دور میں جو یہ جنگ دوبارہ شروع ہوئی ہےاس میں ترکی اور روس کےفریق بننے کے بعد پور ا ماحول بدل گیا ہے۔ ویسےتو پہلے سے ہی دونوں ممالک کے اختلافات مذہبی رنگ میں رنگ چکے تھے لیکن موجودہ قوم پرستی کے ماحول میں اس نے بہت ہی خراب شکل اختیار کر لی ہے۔ زمین کو لے کر ہمیشہ لڑائیاں اور جنگیں ہوئی ہیں مگر جب سوویت یونین کا حصہ بن کر دونوں ممالک امن اورچین کے ساتھ گزار سکتے ہیں تو علیحدہ ہو کر بھی گزارا جا سکتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کورونا وبا بھی بس اعداد و شمار کا کھیل رہ گیا ہے،کہ کس ملک میں کتنے فعال کیسز ہیں اور کس ملک میں اس وبا سے کتنی اموات ہو چکی ہیں۔ وبا کے بعدامید کی جا رہی تھی کہ لوگوں میں آپسی منافرت کم ہوگی، ایک دوسرے کی فکر میں اضافہ ہوگا اور محبت و بھائی چارہ پروان چڑھے گا کیونکہ پریشانی میں انسان آپسی جھگڑوںکو بھول جاتا ہے اور ایک دوسرے کی مدد کے لئے اس کی بیتابی بڑھ جاتی ہے۔ آذربائیجان اور آرمینیا کی جنگ نے صرف لوگوں کی جانیں نہیں لیں بلکہ ایک امید کا خون کر دیاہے۔ وبا میں چرچ اور مساجد بند رہیں لیکن ان کے ماننے والوں میں ایک دوسرے کے لئے نفرتیں بند یا ختم نہیں ہوئیں۔کاش مساجد اور چرچ کھلے رہتے لیکن یہ نفریتیں ختم ہو جاتیں۔

next