شاہین باغ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، ’احتجاجی مظاہرے کے نام پر عوامی مقامات پر قبضہ نہیں کیا جا سکتا‘

سپریم کورٹ نے شاہین باغ مظاہرہ معاملے میں بدھ کو کہا کہ دھرنا اور مظاہرے کے نام پر عوامی مقامات اور سڑکوں پر غیر معینہ مدت کےلئے قبضہ نہیں کیا جا سکتا

شاہین باغ خاتون مظاہرے کا منظر / تصویر بشکریہ ہمانی سنگھ
شاہین باغ خاتون مظاہرے کا منظر / تصویر بشکریہ ہمانی سنگھ
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: دہلی کے شاہین باغ میں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف خواتین کی طرف سے سڑک پر دھرنا دینے کے معاملہ میں سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ دھرنا اور مظاہرے کے نام پر عوامی مقامات اور سڑکوں پر غیر معینہ مدت کے لئے قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔

سپریم کورٹ کورٹ نے کہا کہ شاہین باغ جیسے احتجاجی مظاہرے ناقابل قبول ہیں اور افسران کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے، کارروائی کس طرح سے کرنی ہے یہ افسران کو ہی طے کرنا چاہیے اور یہ انہیں کی ذمہ داری ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے راستہ جام کرنے والے لوگوں کو ہٹا دینا چاہیے اور اس کے لئے عدالتی حکم کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔

جسٹس سنجے کشن کول کی صدارت والی بنچ نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون (سی اےاے) کے خلاف بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے تھے، راستے کو مظاہرین نے بلاک کیا تھا، جو غلط ہے، کیونکہ کورٹ نے کہا کہ عوامی مقامات اور سڑکوں پر غیر معینہ مدت کے لئے قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے کہا کہ سڑک پر آمدو رفت کا حق غیر معینہ مدت تک کے لئے روکا نہیں جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ صرف نامزد علاقوں میں ہی احتجاجی مظاہرہ کیے جانا چاہیے۔ بنچ نے کہا،’’عوامی میٹنگوں پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، لیکن انہیں نامزد علاقوں میں ہونا چاہیے۔ آئین احتجاجی مظاہرہ کا حق دیتا ہے لیکن اسے یکساں فرائض کے ساتھ جوڑا جانا چاہیے۔‘‘

عدالت نے اس معاملے میں ثالثی کی کوشش ناکام ہونے کا بھی ذکر کیا۔ بنچ نے کہا، شاہین باغ میں ثالثی کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی، لیکن ہمیں کوئی افسوس نہیں ہے۔‘‘ بنچ نے کہا کہ ایسے معاملوں میں فیصلہ کرنے میں حکومت انتظار نہ کرنے اور عدالت کے کندھے پر بندوق نہ رکھنے کی بھی نصیحت کی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 07 Oct 2020, 12:44 PM
next